عمران خان کی سیاست، شعراء کی نظر میں

سلمان نثار شیخ  بدھ 20 فروری 2019
دعا ہے کہ خان صاحب جلد ہی اپنی گرتی ہوئی ساکھ اور اپنے حامیوں کے ٹوٹتے ہوئے دلوں کو سنبھال لیں ورنہ... (فوٹو: فائل)

دعا ہے کہ خان صاحب جلد ہی اپنی گرتی ہوئی ساکھ اور اپنے حامیوں کے ٹوٹتے ہوئے دلوں کو سنبھال لیں ورنہ... (فوٹو: فائل)

جب خان صاحب نے سیاست شروع کی تو انہیں دیکھ کر ایک ہی شعر یاد آتا تھا:

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
(شعیب بن عزیز)

پھر جب انہوں نے مشرف سے اتحاد کیا تو اقبال عظیم کے یہ اشعار بار بار یاد آیا کرتے تھے:

آواز میں تو آپ کی بے شک خلوص ہے
لیکن ذرا نقاب تو رخ سے ہٹائیے

ہم مانتے ہیں آپ بڑے غم گسار ہیں
لیکن یہ آستین میں کیا ہے دکھائیے

اب قافلے کے لوگ بھی منزل شناس ہیں
آخر کہاں کا قصد ہے کھل کر بتائیے

اور جب انہوں نے آمر سے اپنی راہیں جدا کیں تو ان کی حالت دیکھ کر سلیم کوثر کا یہ شہرہ آفاق شعر یاد آیا کرتا تھا:

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

جب انہوں نے 2011 میں پہلا کامیاب جلسہ کیا تو انہیں دیکھ کر دل بے اختیار پکار اٹھتا تھا کہ

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا

اور فیض کے یہ لازوال اشعار بھی بار بار لبوں پر آیا کرتے کہ

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت
چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

تاہم، جب وہ خیبرپختونخواہ کے سوا باقی ملک سے 2013 کا الیکشن ہار گئے تو انہیں دیکھ کر میر کے یہ الفاظ یاد آنے لگے

یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

اور ساتھ ہی ساتھ فیض کا یہ پیغام بھی کہ

ابھی بادبان کو تہ رکھو ابھی مضطرب ہے رخ ہوا
کسی راستے میں ہے منتظر وہ سکوں جو آ کے چلا گیا

جب وہ دھرنا دینے کیلئے روانہ ہوئے تو ان کا عزم، اقبال کے کئی اشعار زبان پر لے آتا؛ جیسے:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

اور

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اور

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

اور یہ بھی کہ

جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

اور پھر جب وہ کنٹینر پر چڑھ کر ہر صاحب اقتدار و اختیار کو للکارنا شروع کرتے تو بے اختیار خواجہ حیدر علی آتش کی یاد آنے لگتی جو کیا خوب فرما گئے تھے کہ

ابھی سیف زباں سے لوں میں کارِ ذوالفقار آتش
کوئی کافر ہو جو سن کر میری معجز بیانی کا

لیکن جب انہوں نے اپنی اس زبان درازی سے سب کو یا کم از کم طبقہ اشرافیہ کے ایک بڑے حصے کو اپنا مخالف بنا لیا تو لب بے اختیار ان کے حق میں پکار اٹھے

عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
فرش کے سارے خداؤں سے الجھ بیٹھا ہوں

لیکن جب وہ ڈی چوک سے بے نیلِ نرام لوٹے تو پھر ہمیں غالب یاد آنے لگے جو کہہ گئے ہیں کہ

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کے تیرے کوچے سے ہم نکلے

اور بقول میر

یوں اُٹھے آہ اُس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

لیکن جب انہوں نے جیسے تیسے 2018 کا الیکشن جیت کر حکومت بنا لی تو انہیں دیکھ کر ان ہی کا پیغام یاد آنے لگا کہ

تبدیلی آ نہیں رہی!
تبدیلی آ گئی ہے!

تاہم چند ماہ گزرنے کے بعد کیا ہوا… ٹیکس پر ٹیکس، مہنگائی پر مہنگائی، دھونس، طاقتور کا جبر، کمزور بے آسرا، سانحے پر سانحہ… اور وہ دل کہ جو جڑنے کی امید میں مرے جا رہے تھے، پھر ٹوٹنے پر کمربستہ ہو گئے… پھر وہی فیض اور پھر وہی دکھ کا موسم

یہ داغ‌ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں، جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں‌ آئی

بیر تو گر گئے ہیں لیکن دودھ ابھی باقی ہے۔ بس اب دعا ہے کہ خان صاحب جلد ہی اپنی گرتی ہوئی ساکھ اور اپنے حامیوں کے ٹوٹتے ہوئے دلوں کو سنبھال لیں ورنہ عین ممکن ہے کہ کل ان کو ووٹ دینے والے، شکیل بدایونی کے ہم آواز ہو کر پکار اٹھیں کہ

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ
منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا

مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری
اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا

جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ
مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سلمان نثار شیخ

سلمان نثار شیخ

بلاگر قلمکار، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔