سعودی ولی عہد کا دورہ بھارت؛ مودی سرکار پاکستان کے خلاف حمایت حاصل کرنے میں ناکام

ویب ڈیسک  بدھ 20 فروری 2019
ولی عہد نے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ فوٹو : بھارتی میڈیا

ولی عہد نے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ فوٹو : بھارتی میڈیا

نئی دلی: مودی سرکار دہشت گردی کا راگ الاپتے ہوئے پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ایسا ہی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے دوران بھی کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس بار بھی منہ کی کھانی پڑی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھارت کے 30 گھنٹے کے مختصر دورے پر گزشتہ روز نئی دہلی پہنچے تھے جہاں وزیراعظم مودی نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں انفراسٹریکچر، سرمایہ کاری، سیاحت، ہاؤسنگ، براڈ کاسٹنگ اور اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کونسل کے قیام سے متعلق معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ اس دوران سعودی عرب نے بھارت سے جانے والے عازمین حج کا کوٹہ بڑھا کر دو لاکھ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ولی عہد کا کہنا تھا کہ بھارت سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے تاکہ آنے والی نسل کو خانہ جنگی کے بجائے ایک روشن مستقبل دیا جا سکے۔

India 2

اس موقع پر وزیراعظم مودی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی، بحری دفاع اور سائبر سیکیورٹی کے لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ معاشی تعاون کو بام عروج پر پہنچانے کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم کی توقع اور خواہش کے برخلاف ولی عہد محمد بن سلمان نے پلوامہ حملے پر کسی قسم کی گفتگو کی اور نہ ہی حملے کے محرکات پر بے بنیاد بھارتی موقف کی تائید کی جب کہ امریکی صدر کا بیان بھی بھارتی موقف کی نفی کرتا نظر آتا ہے، اس طرح عالمی سطح پر بھارت کے جھوٹے الزامات کو پذیرائی نہیں مل سکی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔