تھر کی مصنوعی جھیل ’’گورانو‘‘ جو پرندوں کا ٹھکانہ بنی

شبینہ فراز  ہفتہ 23 فروری 2019
گورانو ڈیم پر لال سر، نیل کنٹھ، جل کوا، بلبل، بگلا، ٹٹیری، پدی اور دیگر پرندے دیکھے جاسکتے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ شبینہ فراز

گورانو ڈیم پر لال سر، نیل کنٹھ، جل کوا، بلبل، بگلا، ٹٹیری، پدی اور دیگر پرندے دیکھے جاسکتے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ شبینہ فراز

کہتے ہیں کہ

یہ اک اشارہ ہے آفاتِ ناگہانی کا
کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کرجانا

لیکن اگر پرندے کسی جگہ جوق درجوق اتر رہے ہوں تو اس ماحول کے صحت مند ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ ہم بات کررہے ہیں تھر کے علاقے اسلام کوٹ میں موجود گورانو ڈیم (مصنوعی جھیل) کی جو آج کل سرمائی مہمان پرندوں کا پسندیدہ مسکن ہے۔

بقائے ماحول کی عالمی انجمن ’’آئی یو سی این‘‘ پاکستان کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق گورانو ڈیم اگرچہ ایک مصنوعی آب گاہ ہے مگر اس پر اترتے پرندوں کے غول یہ بتارہے ہیں کہ پرند چرند نے اسے ایک صحت مند مسکن کے طور پر قبول کرلیا ہے اور یہ تھرپارکر کے خشک صحرا کے ماحولیاتی نظام میں بہتری کا ایک اشارہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحرا میں کوئی بھی آب گاہ پرندوں کےلیے بہت پر کشش ہوتی ہے اور اگر انہیں وہاں اپنی غذا بھی مل جائے تو پھر وہ اس پر ٹھہرے بغیر نہیں رہ سکتے۔

گورانو ڈیم دراصل انسانوں کی بنائی ہوئی ایک آبی ذخیرہ گاہ ہے جسے تھرپارکر کے علاقے اسلام کوٹ کے نواح میں تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ وہ جھیل ہے جہاں کوئلہ نکالتے دوران، زیر زمین سے نکلنے والا پانی جمع کیا گیا۔ یہ ڈیم 1500 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے۔ ابتدا میں مقامی افراد کی جانب سے اس پر بہت سے اعتراضات کیے گئے کہ یہ زہریلا پانی زیر زمین موجود پانی کو آلودہ کردے گا۔ مگر تھر میں کوئلہ نکالنے والی ’سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی‘ کے ماہرین اس سے انکاری رہے۔ ان کے مطابق حل شدہ مجموعی مادّوں کے عالمی پیمانے (TDS) پر اس پانی کی قدر (یعنی اس میں موجود تمام حل شدہ اجزاء کا تناسب) 5000 ٹی ڈی ایس فی ملی گرام ہے، جبکہ یہ کسی بھی قسم کی حیات کےلیے نقصان د ہ نہیں؛ اور یہ پانی زہریلا نہیں بلکہ کھارا ہے۔

اگرچہ اس جھیل کا رقبہ خاصا بڑا ہے لہذا اسے بھرا ہوا تو نہیں کہہ سکتے مگر جھیل میں پانی جمع ہونے کے بعد یہاں پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مقامی پرندوں کے ساتھ ساتھ برفانی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے، موسم سرما کے مہمان پرندے بھی بڑی تعداد میں پہنچنے لگے، حتٰی کہ ایسے پرندوں کو بھی دیکھا گیا جو بہت کمیاب تھے اور کئی دہائیوں سے انہیں اس ماحولیاتی نظام میں نہیں دیکھا گیا تھا۔ پرندوں کی آمد نے ماہرین طیور کو اپنی جانب متوجہ کیا اور آئی یو سی این پاکستان نے اس حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی۔ یہ تحقیق نامور محقق اور حیاتیاتی انواع پر کئی کتابوں کے مصنف، زیڈ بی مرزا نے کی ہے جو اس ذیل میں ایک بڑا نام شمار کیے جاتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق یہ آب گاہ پرندوں کےلیے ایک صحت مند مسکن کا درجہ رکھتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر اور سابق ڈی جی فشریز معظم علی خان کا کہنا ہے، ’’صحرا میں پانی پرندوں کےلیے کشش کا باعث ہوتا ہے۔ ایک پرندہ ’لال سر‘ جسے آخری بار بہت پہلے تھرپارکر میں ہی دیکھا گیا تھا، اب دوبارہ یہاں نظر آیا ہے۔ پرندوں کی آمد کسی بھی ماحولیاتی نظام کی صحت مندی کی علامت ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ لال سر یہاں افزائش نسل بھی کرے تاکہ اس کی آبادی میں اضافہ ہو۔ یہاں نایاب نسل کی کونج بھی دیکھی گئی ہے۔‘‘ معظم صاحب نے ایک دلچسپ بات یہ بھی بتائی کہ لوگ رقص طاؤس سے تو واقف ہیں لیکن کونج نر اور مادہ مل کر بھی بہت خوبصورت رقص کرتے ہیں جو بہت نایاب نظارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پرندوں کا نظارہ کرنے والوں کےلیے یہ ایک بہترین مقام بن سکتا ہے۔

یہاں دیکھے گئے پرندوں میں گدھ، عقاب، کونج، لال سر، چیل، نیل کنٹھ، ہدہد، مور، جل کوا، بلبل، چڑیا، بگلا، ٹٹیری، جنگلی کبوتر، ماہی خور، پدی، اور ٹوپی وغیرہ شامل ہیں۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ پرندوں نے گورانو کو اپنی مسکن بنا کر یہ ثابت کردیا کہ یہ آبی ذخیرہ گاہ ماحولیاتی نظام میں اپنا بہتر کردار ادا کرسکتی ہے مگر اس آب گاہ سے اردگرد رہنے والے مقامی افراد کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے، اس پر بھی بات ضروری ہے۔


گورانو جھیل کی ایک اور انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس پانی میں مچھلی فارمنگ کا تجربہ کیا گیا تو وہ کامیاب رہا۔ ’’مچھلی افزائش منصوبے‘‘ کے روح رواں اینگرو کے شکیل احمد ہیں۔ انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گورانو میں تین سو ایکڑ پر پانی جمع تھا۔ یہاں ہم نے مچھلی کی افزائش کی کوشش کی جو کامیاب رہی۔ اس پانی کے بہت سے ٹیسٹ کیے گئے اور ماہی گیری کے حوالے سے بہت سے ماہرین سے بھی مدد لی گئی، سب نے اس پانی کو موزوں قرار دیا۔ اس جھیل میں رہُو، مورکھی، گلفام، ڈانگری، تلاپی اور کرڑو مچھلی سمیت، مختلف اقسام کی مچھلیوں کے تقریباً ایک لاکھ بیج (مچھلی کے بچے) ڈالے گئے۔ اب آٹھ ماہ گزرنے کے بعد مچھلی کی جسامت تین کلو تک پہنچ چکی ہے۔ گورانو جھیل سے روزانہ 1000 کلوگرام کے لگ بھگ مچھلی پکڑی جاتی ہے اور اب تک تقریباً 15,000 کلوگرام مچھلی یہاں سے پکڑی جاچکی ہے۔ 300 روپے فی کلوگرام کے حساب سے لاکھوں روپے مالیت کی یہ مچھلی مقامی افراد کو مفت فراہم کی جارہی ہے۔ اردگرد کے اسکولوں میں بچوں کی حاضری یقینی بنانے کےلیے بھی ترغیب دی گئی ہے کہ جو بچہ اسکول آئے گا، اسے مچھلی دی جائے گی۔ تھرپارکر کے اکثر علاقے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان کےلیے مچھلی بطور غذا کس قدر اہم ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی بہت بڑی قوت ہے اور دنیا بھر میں اسے معاشی انجن کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یہاں گورانو ڈیم بھی ایک معاشی انجن بن سکتا ہے اور مچھلی فارمنگ کے حوالے سے ایک مارکیٹ اور معاشی سرگرمیاں وجود میں آسکتی ہیں جن سے مقامی افراد کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ آج دنیا بھر کی معیشتیں پانی ہی کا طواف کررہی ہیں۔ اسی لیے آج کل معاشیات کے شعبے میں ’’واٹر اکانومی‘‘ کی اصطلاح عام ہوتی جارہی ہے۔ واٹر اکانومی کی اصطلاح کا مطلب دراصل معیشت کے تمام شعبوں کی ترقی کےلیے پانی کے وسائل کو استعمال کرنا ہے۔


پانی کے کنارے ماحولیاتی سیاحت (ایکو ٹوررزم) کا فروغ بہت آسان ہوتا ہے۔ (ہمارے شمالی علاقہ جات اس کے گواہ ہیں جہاں چھوٹے دریا، جھیلیں، چشمے، ندی نالے، جھرنے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔) یہاں بھی گورانو ڈیم کے اردگرد بہت سی ایسی سرگرمیاں شروع کی جاسکتی ہیں جو سیاحوں کےلیے پرکشش ہوں۔ مثلاً کشتی رانی، مچھلی کا شکار، روایتی کھانوں کے چھوٹے چھوٹے ہوٹل اور دست کاری کے اسٹال وغیرہ۔ قدرت نے پانی میں بڑی کشش رکھی ہے۔ لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ ہمیں صرف انتظامات کرنے ہیں۔ واٹر اکانومی کا مطلب پانی کے گرد ایک معاشی انجن تخلیق کرنا ہوتا ہے، پھر معیشت کا پہیہ خود بخود چل پڑتا ہے۔

گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک مربوط حکمت عملی اس پسماندہ علاقے میں ایک خاموش انقلاب کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ مثالیں موجود ہیں، صرف انہیں دہرانے کےلیے عزم مصمم چاہیے۔

یہ تمام تجربات صرف ایک کمپنی کے ہیں جو محض بلاک 2 تک محدود ہے۔ تھرپارکر میں کوئلے کے تیرہ بلاکس مختص کیے گئے ہیں یعنی مزید کمپنیاں کوئلہ نکالنے یہاں آئیں گی؛ اور ہمیں امید ہے کہ وہ بھی ایسے ہی اقدامات کریں گی جو مقامی آبادی کےلیے فائدہ مند ثابت ہوں۔ ہماری خواہش ہے کہ تھرپارکر کو صرف دودھ دینے والی گائے نہ سمجھا جائے بلکہ دھرتی ماں کا درجہ دیا جائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔