ایفی ڈرین کیس، حنیف عباسی کیخلاف چالان سماعت کیلیے منظور

قیصر شیرازی  بدھ 31 جولائ 2013
 بیرون ملک علیل خوشنود لاشاری کی درخواست سماعت کیلیے منظور،اثاثہ جات کے معاملے میں گیلانی فیملی کاکیس الگ کرنے کی استدعامنظور فوٹو: فائل

بیرون ملک علیل خوشنود لاشاری کی درخواست سماعت کیلیے منظور،اثاثہ جات کے معاملے میں گیلانی فیملی کاکیس الگ کرنے کی استدعامنظور فوٹو: فائل

راولپنڈی: اینٹی نارکوٹکس فورس نے مسلم لیگ ن کے رہنما سابق ایم این اے حنیف عباسی کے خلاف ایفی ڈرین اسمگلنگ کیس کا باقاعدہ چالان عدالت پیش کردیا ہے جسے انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج ارشد محمود تبسم نے سماعت کے لیے منظورکرتے ہوئے مقدمے کے پانچوں ملزمان کو نوٹس جاری کرکے7اگست کو طلب کر لیا۔

مقدمہ میں حنیف عباسی کے نامزد ملزم بھائی باسط عباسی کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔ملزم قرار پانے والوں میںحنیف عباسی،ان کے بھائی باسط عباسی، غضنفر علی،محمد ناصر خان،راجہ احمد عباسی،نذاکت اور رانا محسن خورشید شامل ہیں، باسط عباسی اور احمد بلال مفرور ہیں۔مقدمے میں منشیات اسمگلنگ کی دفعہ9 سی بھی شامل کی گئی ہے۔کراچی کے ڈیلرعرفات ٹریڈرکے مالکان بھائی ذوالفقار شیخانی اورآصف شیخانی وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں،چالان میں حنیف عباسی کو ایفی ڈرین اسمگلنگ کا ملزم قرار دیتے ہوئے دفعہ9 سی کے تحت کڑی سزادینے کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت نے ایفی ڈرین کوٹا الاٹمنٹ و اسمگلنگ کیس میں نامزد ملزمان سابق وفاقی وزیرمخدوم شہاب الدین، علی موسیٰ گیلانی، کرنل(ر) طاہرالودود،سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر اسد حفیظ، ڈرگ کنٹرولر شیخ انصار،ڈپٹی ڈائریکٹر ڈرگ عبدالستار سوہرانی،افتخار خان بابر، توقیرعلی خان،زونیر ملک میں مقدمے کی نقول تقسیم کردی ہیں، ان تمام ملزمان کو فرد جرم عائدکرنے کے لیے نوٹس جاری کرکے17اگست کو طلب کرلیا ہے ۔5 مفرور ملزمان دلاور خان، عزیز مہمند حسنی،غلام خالق عرف کاکا خان،صاحب گل،قاری عبدالظاہرکو اشتہاری قراردیتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔عدالت نے5 ملزمان افتخار بابر، شیخ انصار و ان کی فیملی کو 3 اگست تک اثاثے بنانے کے ذرائع آمدن کی تفصیلات وجواب داخل کرنے کی آخری مہلت دے دی ہے۔گیلانی فیملی کے وکیل چوہدری فیصل نے کہا کہ ان کا یہ کیس الگ کیا جائے وہ مفصل دلائل دینا چاہتے ہیں۔عدالت نے یہ استدعا منظورکرتے ہوئے 3 اگست کو دلائل دینے کا حکم دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔