مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک لڑکی سپرد خاک، وزیر اعلیٰ نے رپورٹ طلب کرلی

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 23 فروری 2019
تحقیقاتی ٹیم کا جائے وقوع کا دورہ، اہل خانہ کے بیانات قلمبند (فوٹو: ایکسپریس)

تحقیقاتی ٹیم کا جائے وقوع کا دورہ، اہل خانہ کے بیانات قلمبند (فوٹو: ایکسپریس)

 کراچی: انڈا موڑ پر پولیس مقابلے کے دوران فائرنگ کی زد میں آنے والی لڑکی نمرہ کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا، وزیر اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔

ایکسپریس کے مطابق مقتولہ نمرہ بیگ بنت اعجاز بیگ کی نماز جنازہ ان کی رہائش گاہ انڈا موڑ کے قریب جامع مسجد صدیق اکبر میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی۔ جنازے میں ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم راؤ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ریحان ہاشمی، ان کے اہل خانہ سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی، جنازہ اٹھانے پر علاقے میں کہرام مچ گیا ہر آنکھ اشکبار تھی مقتولہ کی والدہ دھاڑیں مار مار کر روتی رہی مقتولہ کو گھر کے قریب شاہ محمد شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

مقتولہ کے والد اعجاز بیگ بھی محکمہ پولیس میں کورٹ محرر تھے، ان کا چھ سال قبل انتقال ہوگیا تھا، مقتولہ دو بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی، ڈاؤ یونیورسٹی کے طالب عملوں نے بھی جنازے میں شرکت کی۔ ان کی سہیلیوں کا کہنا تھا یقین نہیں آرہا ہے کہ نمرہ بیگ اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

مقتولہ خوش اخلاق ملنسار اور دوسرے کے دکھ درد میں کام آتی تھی، مقتولہ پڑھنے میں تیز تھی اس کا میڈیکل کا یہ آخری سال تھا، مقتولہ کے بھائی حسن بیگ کے مطابق ان کی بڑی بہن مقتولہ نمرہ کا بہت خیال رکھتی تھی، وہ ہماری آنکھوں کا تارا تھی، مقتولہ کا مشن تھا کہ وہ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد غریبوں کے لیے مفت علاج کرے گی۔

اہلکار ملوث نکلے تو سزا دلوائیں گے، ایس ایس پی سینٹرل اسلم راؤ

دوسری جانب ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم راؤ کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے، ملزمان اور پولیس اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ تحویل میں لے کر فرانزک لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ مقتول کو چھوٹے یا بڑے ہتھیار کی گولی لگی ہے، پولیس اہلکاروں کے پاس ایس ایم جی تھیں،یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ نمرہ کو کتنے فاصلے سے گولی سر میں پیوست ہوئی ہے، واقعے میں پولیس اہلکار ملوث پائے گئے تو انھیں بھی قانون کے مطابق سزا دلوائیں گے۔

یہ پڑھیں: کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کی زد میں آکر میڈیکل طالبہ جاں بحق

ایس ایس پی نے کہا کہ جناح اسپتال کی ایم ایل او ڈاکٹر ذکیہ نے بتایا ہے کہ مقتول کو چھوٹے ہتھیار کی گولی پیوست ہوئی ہے، چھوٹا ہتھیار ملزمان کے پاس تھا اس کے باوجود ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے، واقعے کے تین مقدمات شارع نور جہاں اور سرسید ٹاؤن تھانے میں درج کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ شارع نور تھانے کی حدود میں موٹر سائیکل سوار دو ملزمان جمعے کی شب تقریباً ساڑھے 10 بجے شہریوں سے لوٹ مار کر رہے تھے، موٹر سائیکل پر سوار دو اہلکاروں نے ملزمان کو پکڑنے کی کوشش کی تو ملزمان نے موٹر سائیکل بھگا دی، تھوڑی ہی دور انڈا موڑ پر ملزمان اور پولیس میں دوبدو فائرنگ کا تبادلہ ہوا اس دوران ایک ملزم مارا گیا جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔

فائرنگ کے تبادلے کے دوران رکشا میں سفر کرنے والی ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ 21 سالہ نمرہ سر میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئی اسے فوری طور پر عباسی شہید اسپتال پہنچایا گیا اس کے بعد جناح اسپتال متقل کیا گیا جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گئی۔

تحقیقاتی ٹیم کا جائے وقوع کا دورہ، اہل خانہ کے بیانات قلمبند

ایکسپریس کے مطابق نمرہ قتل کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی جس نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور بیانات قلم بند کیے۔ تحقیقاتی ٹیم میں سربراہ ڈی آئی جی سی آئی اے عارف اور دیگر ممبران ایس ایس پی نعمان صدیقی اور ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کے علاقے ڈی آئی جی ویسٹ ڈاکٹر امین یوسفزئی شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے عینی شاہدین سے بیانات لیے جبکہ پولیس افسران نمرا کے گھر بھی گئے جہاں انھوں نے اہل خانہ سے واقعے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انھیں انصاف کی یقین دہانی بھی کرائی۔

جاں بحق ہونے والی نمرہ کا تعلق پولیس کے خاندان سے ہے، مقتولہ کے مرحوم والد اور دادا بھی پولیس ملازم تھے، تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے مقتولہ نمرہ کے ماموں اور دیگر اہل خانہ کے بیانات ریکارڈ کیے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے نمرہ قتل کیس کی رپورٹ مانگ لی

دریں اثنا وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ اس قسم کے واقعات ناقابل برداشت ہیں، مجھے تفیصلی رپورٹ چاہیے کہ یہ واقعہ کس کی غفلت سے پیش آیا ہے۔

لیاقت آباد میں فائرنگ کے واقعہ کا بھی نوٹس

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لیاقت آباد میں فائرنگ کے  واقعہ کا بھی نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ انھوں نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے دریافت کیا ہے کہ مذکورہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہے، لوٹ مار کا ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہے؟ نیز انھوں نے ہدایت دی ہے کہ قاتل کو فوری گرفتار کرکے رپورٹ دی جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔