ڈی آئی خان جیل پر حملہ، نااہلی،غفلت اورناقص انتظام کی بدترین مثال

چارروزقبل  اطلاع ملنے کے باوجود موثر منصوبہ بندی نہیں کی گئی، ذمہ دارکون ؟ ۔ فوٹو : فائل

چارروزقبل اطلاع ملنے کے باوجود موثر منصوبہ بندی نہیں کی گئی، ذمہ دارکون ؟ ۔ فوٹو : فائل

 خاکم بدہن اگر خیبر پختون خوا کی سرزمین کو افتادوں کا ٹھکانہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ زمینی خداؤں نے اپنے مفادات کے لیے اس خطے کو ایک ایسی آگ میں جھونک دیا ہے۔

جس کا ایندھن یہاں کے باسی ہیں۔ اس خطے کے ساتھ ہر دور میں جبر روا رکھا گیا اور یہاں کے باسیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ یونان کے سکندر سے منگول اور بھر فرنگی تک یہ خطہ جدل و قتال کا میدان بنا رہا، اسے بار بار تاراج کیا جاتا رہا، تاریخ نے اپنی آنکھ سے اس کو کئی بار اسے مسمار ہوتے دیکھا۔

جب ایک نئی تاریخ 9 الیون کے بعد تحریر کی جانے لگی تو یہاں کے باسیوں کے لیے خون آشامیاں لکھی گئیں اور نہ جانے تاریخ کے کتنے اور اوراق یہاں کے بہتے خون سے تحریر ہوں گے، یہ سلسلہ تھما نہیں ہنوز جاری ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی ڈیرہ اسمٰعیل خان سنٹرل جیل پر شدت پسندوں کا حملہ بھی شامل ہے۔ عجب اتفاق اور لمحۂ فکریہ ہے کہ پندرہ ماہ کے دوران خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع کی دو بڑی جیلوں پر حملوں اور قیدیوں کے فرار کے واقعات نے حکومتی دعوؤں اور سیکیوریٹی اداروں کو ناکام بنا دیا۔

بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلیں خیبر پختون خوا کے ایسے اضلاع میں واقع ہیں جہاں امن و امان کی مخدوش صورت حال کی وجہ سے سیکورٹی کے سخت اقدامات کئے گئے ہیں، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہر طرف پولیس اور سیکورٹی اداروں کے اہل کار ہمہ وقت چوکس رہتے ہیں، ایسے ہی واقعات سے نمٹنے کے لیے سیکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف اہل کار تعینات کئے گئے ہیں بل کہ جگہ جگہ ناکہ بندیاں بھی کی گئی ہیں، جا بہ جا بکتر بند گاڑیاں بھی کھڑی نظرآتی ہیں لیکن پھر بھی ڈیرہ سنٹرل جیل جیسا واقعہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے،

بنوں جیل پر حملے کے بعد دعویٰ کیا جارہا تھا کہ اس واقعہ کے بعد صوبہ بھر کی جیلوں کی سیکورٹی خصوصاً سنٹرل جیل پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ اور بنوں جیل کی سیکورٹی کو فول پروف بنا دیا گیا ہے لیکن گزشتہ دنوں عسکریت پسندوں کی طرف سے باقاعدہ دھمکی دی گئی تھی کہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملہ کریں گے اور وہی ہوا جس کا ڈرتھا۔ پیر کی رات ایک سو پچاس سے زیادہ راکٹ لانچر، دستی بموں، بارودی مواد اور خودکار اسلحہ سے لیس عسکریت پسندوں نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملہ کیا تو نہ صرف جیل کی مضبوط دیواریں بل کہ جیل کے اردگرد اور شہر بھر میں سیکیوریٹی کے تمام حصار ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور حملہ آور بارہ افراد کو، جن میں چھ پولیس اہل کار بھی شامل ہیں، قتل کرنے کے بعد 248 سے زیادہ قیدیوں کو فرار کروانے میں کام یاب ہو گئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سینٹرل جیل پرمسلح طالبان کے حالیہ حملے سے بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلوں پر حملوں میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔ ڈیرہ سنٹرل جیل میں شدت پسندوں کے حملے کے باعث کل 248 قیدی جیل سے فرار ہونے میں کام یاب ہوئے تاہم سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران چودہ قیدیوں کو دوبارہ حراست میں لے لیا ہے۔ کمشنر مشتاق جدون کے مطابق حملے کے باعث جیل سے فرار ہونے والوں قیدیوں میں سے تیس قیدی انتہائی خطرناک تھے اور ان تیس قیدیوں میں سے کوئی بھی قیدی دوبارہ گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

دریں اثنا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے سنٹرل جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک نے اس کارروائی میں دو سو کے قریب ساتھیوں کو رہا کرایا ہے۔ حملے کے بعد سرچ آپریشن کے باعث حکام نے ڈی آئی خان اور ٹانک میں کرفیو نافذ کر دیا ہے، حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران درابن روڈ سے جیل سے فرار ہونے والے چھے قیدیوں کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔

کمشنر مشتاق جدون کے مطابق حملہ آوروں نے لاؤڈ اسپیکرز پر باقاعدہ اپنے ساتھیوں کے نام پکارے، صوبے کے آئی جی جیل خانہ جات خالد عباس نے ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ جیل میں چالیس انتہائی خطرناک مجرم بھی قید تھے، خالد عباس کے مطابق پیر کی رات کو شدت پسندوں کے حملے کے دس منٹ تک ان کا جیل حکام سے رابطہ رہا لیکن اس کے بعد تمام رابطے منقطع ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ صوبے کی تیسری بڑی جیل ہے اور یہ جیل عام قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی نہ کہ خطرناک قیدیوں کے لیے، عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے جیل پر تین اطراف سے حملہ کیا اور جیل سے کوئی دو سو گز کے فاصلے پر سرکلر روڈ پر پہلے اندھا دھند فائرنگ کی۔

اس دوران سرکلر روڈ سے جیل جانے والے سڑک پر شدت پسندوں کا مکمل قبضہ رہا جب کہ جیل کے قریب واقع ایک مکان سے بھی حملہ آور فائرنگ کرتے رہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق حملہ آور کارروائی کے بعد شہر کے مغرب میں درابن روڈ سے فرار ہو گئے، فرار کے وقت بھی حملہ آور مختلف مقامات پر فائرنگ کرتے رہے۔ گذشتہ سال پندرہ اپریل کو خیبر پختون خوا کے ضلع بنوں کی سنٹرل جیل پرمسلح طالبان نے حملہ کر کے 384 قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا، جن میں زیادہ تر ان کے ساتھی تھے۔

بنوں جیل سے فرار ہونے والوں میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں سزائے موت کا قیدی عدنان رشید بھی شامل تھا، جو جیل کے اندر پھانسی گھاٹ میں موجود تھا، یہ ہی عدنان رشید اس مرتبہ ڈیرہ سنٹرل جیل حملے کا ماسٹر مائنڈ بتایا جارہا ہے، بنوں اور ڈیرہ سنٹرل جیل پر حملے اور اپنے ساتھیوں کو چھڑوانے کے لیے حملہ آوروں نے تقریباً ایک جیسی حکمت عملی مرتب کی تھی۔ بنوں جیل حملے میں درجنوں گاڑیاں استعمال کی گئیں اور اس مرتبہ بھی ایک درجن سے زیادہ گاڑیوں میں حملہ آوروں نے حملے کے بعد متصل علاقے شمالی وزیرستان کی راہ لی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں سنٹرل جیل پر حملہ ایسی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا جس میں مقامی انتظامیہ یا سیکورٹی اہل کاروں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

مقامی لوگوں کے مطابق سیکورٹی اہل کار اندھیرے کی وجہ سے کوئی کارروائی کرنے سے قاصر تھے اس لیے پولیس کے جو اہل کار ان حملہ آوروں کے سامنے آئے، وہ مقابلہ کرتے رہے، جب کہ دیگر اہل کار جیل سے کچھ فاصلے پر ہی موجود رہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل بھی سنٹرل جیل میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں اور جیل اہل کاروں کے مابین تصادم بھی ہوا تھا جس میں پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کے بعد صورت حال کنٹرول کرنے میں مدد ملی تھی۔ جیل سے متصل علاقے ٹاؤن ہال کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ پیر کی رات گیارہ بجے معمول کے مطابق بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوئی اور اس کے تقریباً پندرہ منٹ کے بعد علاقہ فائرنگ اور دھماکوں سے گونج اٹھا۔ کئی دھماکے انتہائی زور دار تھے۔

ڈیرہ جیل پر حملے سے ایک ماہ قبل ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے طالبان کے اس گروپ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جو سنٹرل جیل کراچی پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں اس وقت کل 89 جیلیں ہیں، جن میں 65 جیلوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، سب سے زیاد حساس قرار دی جانے والی جیلیں صوبہ خیبر پختون خوا اور پنجاب میں ہیں۔ ڈیرہ کے سنٹرل جیل واقعہ کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ تھانہ چھاؤنی ڈیرہ اسمٰعیل خان میں درج کی گئی۔ حملے کے بعد ٹانک میں لگایا کرفیو بہ دستور نافذ ہے جب کہ ڈی آئی خان میں کچھ دیر کے لیے کرفیو میں نرمی کر دی گئی ہے، ڈی آئی خان کی طرف جانے والی چار اہم شاہ راہیں بہ دستور بند ہیں جن میں ڈیرہ بنوں روڈ، ڈیرہ ٹانک روڈ، ڈیرہ چشمہ روڈ اور درابن روڈ شامل ہیں۔

جیل پر دہشت گردوں کے حملہ میں پانچ پولیس اہل کار، چار قیدی اور مقامی بیکری گارڈ سمیت تین شہری جاں بحق ہو گئے جب کہ سولہ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ حملہ آور منظم انداز میں جیل میں بند اپنے دوسو اڑتالیس ساتھیوں کو چھڑا لے گئے، جن میں پانچ حوالاتی خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس نے فرار ہونے والے قیدیوں میں سے پانچ کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ حملہ اس قدر اچانک اور منظم تھا کہ سیکورٹی اہل کاروں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ پولیس حکام کے مطابق مزاحمت پر حملہ آوروں کی فائرنگ سے سپاہی مظہر حسین قریشی، سپاہی سیف اللہ، سپاہی رستم، سپاہی میر زمان اور سپاہی پیاؤ سردار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق تین گھنٹے کی مسلسل کارروائی کو شدت پسندوں کو کسی بھی موقع پر بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، حملہ آوروں نے مختلف بیرکوں کے تالے توڑے اور جیل کے قریب واقع جیلر کے گھر کو نقصان پہنچایا۔

کیا ہم واقعی ناکام ریاست ہیں؟

محض المیہ نہیں… ہول ناک المیہ ہے!
ایسا نہیں ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا اجنبی واقعہ ہے، یہ گزشتہ برس کے بنوں جیل پر حملے کا ا عادہ ہے۔ حملہ آوروں نے ڈیرہ اسماعیل خان پر حملے کا اپنا تجربہ آزمایا اور کام یابی حاصل کی تو ہماری پولیس اور سکیورٹی فورسز نے اُس موقع پر جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، وہی اس مرتبہ دہرا دیا، تب جو ڈھیر رہے تو اب بھی ڈھیر۔ اُدھر دہشت پسندوں نے بنوں جیل کی کارروائی کے بعد محسوس کر لیا تھا کہ پاکستان میں کہیں پر بھی کچھ بھی کر گذرنا چنداں مشکل نہیں اور کسی جیل سے قیدی چھڑوا لینا تو طشتری میں رکھا حلوہ کھانے سے زیادہ بڑا کام نہیں ہے۔

ذرا ملاحظہ ہو… ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر جنوبی اضلاع مخدوش زون میں آتے ہیں اور اس کی خبر صوبائی، وفاقی حکومتوں اور حساس اداروں کو بھی ہے۔ ان علاقوں میں سیکیوریٹی کا بہ ظاہر خصوصی بندوبست کیا گیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں کیفیت یہ ہے کہ یہاں ہزاروں پولیس اور سکیورٹی اہل کار تعینات ہیں، ناکے اتنی تعداد میں ہیں کہ لگتا ہے کہ یہ کوئی شہرِ محصور ہے، بکتر بند گاڑیاں بھی خاصی تعداد میں دکھائی دیتی ہیں۔ ان ناکوں پر شہریوں کو روک روک کر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے، شہری اس لیے برداشت کرتے ہیں کہ یہ ان کے مفاد میں ہے۔

گزشتہ برس جب بنوں کی جیل پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے سیکڑوں قیدی مع عدنان رشید رہا کروا لیے تھے تو اس کے بعد یہ مژدہ سنایا گیا یھا کہ یہ واقعہ چشم کشائی کے لیے کافی ہے، آئندہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بتایا گیا کہ سنٹرل جیل پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ اور بنوں وغیرہ کی جیلوں کو مکمل طور پر محفوظ و مامون کر لیا گیا ہے؛ اس کے لیے فول پروف انتظامات کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے لیکن ان سب انتظامات کو فول بنانے والے کتنی آسانی سے فول بنا جاتے ہیں، پندرہ ماہ پہلے بھی فول بنا گئے تھے اور اس بار پہلے سے بھی زیادہ سہولت کے ساتھ۔ اس بار پہلے سے زیادہ بڑا فول کہنا چاہیے کہ اس بار ’’فول پروف‘‘ ہونے کا دعویٰ زیادہ بڑا تھا۔ پاکستان میں اس نوعیت کے رونما ہونے والے واقعات ڈھیروں ڈھیر سوالات اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں،مثلاً یہ کہ

حملے کی اطلاع اگر چار روز پہلے ہی انٹیلی جنس اداروں نے دے دی تھی تو اس پر ہنگامی طور پر حفظِ ماتقدم کے انتظامات کیوں نہ کیے گئے؟

یہ کہ کیا انٹیلی جنس کی یہ اطلاع کن کن کو ملی اور کیا انہوں نے اسے وہاں تک پہنچایا جہاں پہنچانا ضروری تھا؟

یہ کہ ذمہ دار حکام نے یہ اطلاع ملنے کے بعد کیا اقدامات کیے؟ ایک اطلاع کے مطابق جیل کو محض پچیس افراد کی اضافی نفری دی گئی، کیا یہ سنجیدہ اقدام قرار دیا جاسکتا ہے؟

یہ کہ اس قدر ناکہ بند شہر میں ڈیڑھ سو سے زیادہ حملہ آور داخل کیسے ہوئے؟ شہر میں موجود پولیس اور سکیورٹی اہل کاروں کی اتنی بڑی تعداد کی آنکھوں میں دھول جھونکنا کیسے ممکن ہوا۔
یہ کہ حملہ آور جن گاڑیوں میں سوار ہو کر ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل تک پہنچے، ان کی تعداد 14 سے 18 بتائی جاتی ہے، اتنی بڑی تعداد میں یہ گاڑیاں، کیا کسی سلیمانی طلسم میں ملفوف تھیں کہ دکھائی نہ دیں؟ پیدل ہوتے تو یہ عذر قابل قبول ہوسکتا تھا کہ پٹھانوں اور افغانوں کی وضع قطؑع ایک سی ہوتی اس لیے پہچانے نہ جا سکے، یہ لوگ تہی دست بھی نہ تھے ان کے پاس بھاری اسلحہ تھا۔

یہ کہ جیل کے اندر ایک بکتر بند گاڑی بھی موجود تھی، اس کا مصرف کیا تھا، نمائش؟
یہ کہ حملہ آور دو گھنٹے تک بڑی دل جمعی سے کارروائی کرتے رہے اور بڑے آرام سے فتح کے گیت گاتے روانہ ہوگئے، ، چڑیوں کے کھیت چگ جانے کے بعد پولیس ساڑھے چار گھنٹے کی تاخیر سے پہنچتی ہے۔ اس کی وجہ؟ اطلاع تو پہلے سے دی جا چکی تھی کہ حملہ آور کارروائی کرنے والے ہیں، چار دن میں کیا یہ ہی کارکردگی دکھانا مقصود تھا۔ کیا ایسے مواقع پر برق رفتاری ضروری نہیں ہوتی؟ صوبائی وزیرعلی امین گنڈاپور کہتے ہیں اہل کار دہشت گردون کو دیکھ کر پناہ گاہوں میں گھس جاتی ہے۔

یہ کہ آخر اتنے خطرناک قیدیوں کو طالبان یا دہشت گردوں کے ہم سائے میں رکھنے کا مشورہ کون دیتاہے؟ کیا یہ اس ’’حسنِ انتظام‘‘ کے ہوتے ہوئے سیدھے سبھاؤدعوتِ خورد و نوش نہیں؟ ڈیڑھ دو سو اہل کاروں کی نفری کے پاس جس قسم کے فرسودہ و بوسیدہ ہتھیار ہوتے ہیں، ان کی بناء پر ان بے چاروں کو نہتا ہی قرار دیا جائے گا، نہتا ہونے کے علاوہ ان اہل کاروں کی دہشت گردوں سے نمٹنے کی تربیت بھی نہیں ہوتی۔ کیا یہ ان اہل کاروں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف نہیں؟ کیا کہا جائے! کیا ہم خدا نہ خواستہ واقعی ناکام ریاست ہیں؟

حملہ آور مختلف زبانیں بول رہے تھے
نہ جانے مملکت خدادادکو کس کی نظرلگ گئی کہ یہ ملک روز بہ روز سوالستان بنتاجارہا ہے، ہرنیا دن اپنے ساتھ ایک نہ ایک ایسا قومی اوردفاعی گنجل ڈال جاتا ہے کہ وہ لاکھ ادھیڑ بن کے باوجود نہیں کھلتا کہ حقیقت کیا ہے۔ پشتوکے ایک شعر کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ’’ سوال یہ نہیں کہ گاؤں پرڈاکہ پڑا بل کہ سوال یہ ہے کہ پہرہ دینے والے کہاں گئے‘‘ کیوں کہ اتنی بڑی تعداد میں بلاخوف وخطر مسلح جنگ جُو جیل کیسے پہنچے؟ یہ سوال ہرایک ذہن میں اٹھنا ایک فطری امرہے کیوں کہ کہاجارہا ہے کہ جنگ جُو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چار مختلف گروپوں میں جیل تک پہنچے، جیل کی مختلف سمتوں پر اپنی پوزیشنیں مستحکم کیں، کمشنری چوک پر قائم پولیس کی عارضی چیک پوسٹ پر فائرنگ ان کے لیے گرین سگنل ثابت ہوا جس کے بعد چاروں طرف سے سنٹرل جیل پر راکٹ لانچروں اور بموں سے دھاوا بول دیا گیا۔

 

ملک میں دہشت گردی کے تاحال ہونے والے واقعات میں سب سے زیادہ راکٹ لانچر اور دستی بموں کا استعمال اسی حملے میں کیا گیا۔ اس دوران 60 خوف ناک دھماکے کیے گئے جب کہ خود کار اسلحہ سے گولیوں کی بارش کی گئی، دھماکوں سے شہر اوراردگردکا علاقہ لرزتا رہا اور خوف کی دبیز فضا قائم تھی۔ اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حملہ آوروں کو اپنے ٹارگٹ تک پہنچانے کے لیے درجن بھر سے زیادہ گاڑیاںاستعمال کی گئیں اور ہر ایک کو اپنے اپنے مقام پر اسلحہ سمیت پہنچایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اپنا ہدف حاصل کرنے کے بعد اطلاع پر گاڑیاں آتی گئیں اور رہا کیے گئے قیدیوں کو آرام اور سہولت کے ساتھ سوار کر کے لے جاتی رہیں۔ روانگی کے وقت تمام حملہ آور راکٹ لانچر اور دیگر اسلحہ لہراتے ٹاؤن ہال کے سامنے گزرنے والی سرکلر روڈ پر فاتحانہ اندازمیں آزادانہ گھومتے رہے۔ چند شاہدین کے بہ قول حملہ آوروں میں مختلف زبانیں بولنے والے شامل تھے، لمبے لمبے بال رکھنے والے حملہ آوروں نے کاندھوں پر لانچر اور دیگر اسلحہ اٹھا رکھا تھا اور ان کے چہرے پر کسی قسم کا خوف نظر نہیں آرہا تھا۔

منصوبے پر ایک کروڑ روپے خرچ کیے گئے، عدنان رشید
واقعہ کے بعدحسب روایت نہ صرف کالعدم تحریک طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کی بل کہ اس کے اہم رہ نماء اورجنرل (ر ) مشرف پرقاتلانہ حملے کی پاداش میں سزائے موت کی قید سے فرارہونے والے عدنان رشید کاکہنا ہے کہ مذکورہ حملے کے لیے ایک ماہ منصوبہ بندی کی جاتی رہی اور اس پر ایک کروڑ روپے کے اخراجات آئے، آپریشن کا نام’’ مرگ نجات‘‘ رکھا گیا تھا۔ حملے کا مقصد کوئٹہ کے چھے ساتھیوں اور کالعدم تنظیموں کے دوستوں کو چھڑانا تھا۔

منصوبے کے تحت بیس منٹ تک جیل میں رہنا تھا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر قبائلی علاقوں کو فرار ہونا تھا، لیڈی پولیس کانسٹیبل گلاب بی بی بھی ہمارے قبضے میں ہے۔ نجی ٹی وی سے گفت گومیں عدنان رشید نے بتایا کہ آپریشن میں 18 خصوصی کمانڈوز نے حصہ لیا اور ان کے پاس نائٹ وژن آلات اور جدید اسلحہ موجود تھا، حملے میں 13 گاڑیاں اور دو راستوں کو استعمال کیا گیا اور وزیرستان جانے کے لیے درازندہ اور پینرو کا راستہ استعمال کیا گیا۔ انہوں نے پارا چنار کے دو اہم کمانڈر، 6 ڈی آئی خان اور 6 کوئٹہ کے ساتھی چھڑائے اور ان سمیت 35 اہم ساتھی میر علی کے مقام پر لے جانے میں کام یاب ہو چکے ہیں۔

دکانوں میں لوگ ہیں ۔۔۔۔ اڑا دیں دھماکے سے؟
ڈیرہ اسماعیل جیل پردہشت گردوں کے حملے کے دوران قریبی دکانوں اور بیکریوں میں پناہ لینے والے افراد کے مطابق ابتدائی فائرنگ اور دھماکوں کے دوران کمشنری چوک سے سرکلر روڈ اور دیگر شاہ راہوں کی طرف تین موٹر کاریں، موٹر سائیکل سوار اور چنگ چی رکشے والے گزرے تاہم انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس موقع پر موجود ایک بیکری کے گارڈ نے اپنی پستول سے ہوائی فائرنگ کی جسے حملہ آوروں نے فائرنگ سے منع کیا تاہم گارڈ نے تین فائر کر دیئے جس پر قریب کھڑے ایک حملہ آور نے اسے گولی مار کر قتل کر دیا۔ بتایاجاتاہے کہ جب حملہ آوروں کا گروپ ان کے قریب سے گزرا تو ان میں سے ایک نے کہا کہ دکانوں میں لوگ موجود ہیں کیوں نہ ان دکانوں کو دھماکہ کر کے اڑا دیں تاہم اس کے ساتھی نے اسے ایسا کرنے سے سے منع کیا۔

ڈیرہ : محرم حملے کا ملزم بھی فرار!
سنٹرل جیل پر حملے میں طالبان کی طرف سے سیکڑوں قیدیوں کے ساتھ ساتھ اپنے کئی اہم کمانڈروں کو بھی رہا کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان جنگ جو تقریباً درجن سے زیادہ گاڑیوں میں حملے کے لیے آئے تھے۔ سب سے پہلے جیل سے کچھ فاصلے پر موجود پولیس کی چوکی پر حملہ کیا اور پھر مرکزی دروازے سے جیل میں داخل ہوئے۔ اس حملے میں جن قیدیوں کو رہا کرایا گیا ہے، ان میں عبدالحکیم اور حاجی الیاس نامی طالبان کے اہم کمانڈروں کے علاوہ ولید اکبر نامی شدت پسند بھی شامل ہے۔

ولید اکبر گذشتہ سال ڈی آئی خان میں محرم کے جلوس میں حملے کا مرکزی ملزم تھا اور اس کے علاوہ بہت سارے واقعات میں سزا کاٹ رہا تھا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے طالبان کے چند اہم کمانڈرز بھی فرار ہونے والوں میں شامل ہیں لیکن تاحال ان کے نام معلوم نہیں ہو سکے، جیل میں جعلی ڈگری کے الزام میں کالعدم سپاہ صحابہ کے رہ نماء خلیفہ عبدالقیوم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ تاحال جیل میں موجود ہیں۔ جیل حملے میں مرنے والے قیدیوں میں ساجد اور جمعہ ملنگ ساکنان ملتان سزائے موت کے قیدی تھے۔ اختر عباس سکنہ حاجی مورا اور محمد اسلم عمر قید کے سزا یافتہ تھے، فرار ہونے والے قیدیوں میں چھ سزائے موت، پانچ حوالاتی، خواتین قیدی اور دہشت گردی کی دفعات میں قید 30 قیدی شامل بتائے جارہے ہیں۔

ایک بار پھر معطلیاں، اور کمیٹیاں
محکمۂ پولیس خیبر پختون خوا کے سربراہ احسان غنی نے سنٹرل جیل ڈیرہ کے واقعہ کے پیش نظر فرائض میں غفلت برتنے پر ایس پی ایلیٹ فورس اور ڈی ایس پی ایلیٹ فورس سمیت 27 جوانوں کو معطل کر دیا ہے۔ واقعہ کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی دو کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، جن میں ایک انوسٹی گیشن ٹیم بھی شامل ہو گی۔ دوسری جانب آئی جی خیبر پختون خوا احسان غنی نے دہشت گردوں کے حملے کے پیش نظر سنٹرل جیل پشاور سمیت تمام حساس جیلوں کی سیکورٹی سخت کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

احسان غنی نے سیکرٹری ہوم اور ایڈیشنل آئی جی پی سپیشل برانچ سید اختر علی شاہ کے ہم راہ ڈیرہ جیل کا اچانک دورہ کیا جہاں سول اور ملٹری اداروں کے متعلقہ سربراہان نے انہیں پیش آنے والے واقعہ پر تفصیلی بریفنگ دی۔ واقعہ کے بعد صوبائی حکومت نے تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بنا دی ہے جو سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو وقار ایوب، ایڈیشنل آئی جی پی سپیشل برانچ سید اختر علی شاہ اور 11 کور کے ایک نمائندے پر مشتمل ہو گی۔ کمیٹی واقعہ سے متعلق تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کر کے حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔

حملہ آوروں کے پاس اندھیرے میں دیکھنے والی عینکیں
بم ڈسپوزل سکواڈ کے انچارج عنایت اللہ ٹائیگرنے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے جیل پر حملے کے دوران 12 بڑی آئی ای ڈیز، 200 کے قریب آئی ای ڈیز، 15 آر پی جی سیون سمیت ہیوی مشین گن، لائٹ مشین گن اور جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کیا، حملہ آور فرار ہونے کے دوران ایک فلائنگ کوچ اور ایک موٹر کار جیل کے قریب چھوڑ گئے ہیں، جس میں موجود بھاری تعداد میں اسلحہ اور بارودی مواد کو پولیس نے قبضے میں لے لیا۔

اتنے حملہ آور آ کیسے گئے؟۔۔۔وزیرِ اعلیٰ کی حیرت
وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویزخٹک نے ڈیرہ جیل واقعہ میں بہت بڑے ہاتھ کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ انہوںنے واقعہ کو انٹیلی جنس کی کم زوری سے تعبیر کیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اسے انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ ناکے لگے ہوئے ہیں، اتنے لوگ وہاں کیسے پہنچے جنہوں نے ڈیڑھ سے دو سو قیدیوں کو فرار کرانے میں مدد فراہم کی؟۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس میں ملوث ہیں ان کو بے نقاب کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر محکمۂ جیل خانہ جات کو دھمکیوں کا کوئی خط موصول ہوا تھا تو اسے ان کے نوٹس میں لایا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے تاحال اس ایشو پر بات کرنے کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا، جب کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی اور اس سے جڑے مسائل کے خاتمے کے لیے ٹھوس پالیسی نہیں اپنائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ڈی آئی خان کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیں گے۔

بر وقت تمام راستے بلاک ہو جاتے توقیدی فرار نہیںہوسکتے تھے
حملے کی متعلق خفیہ معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت محکمۂ داخلہ کو بھی ارسال کی گئی تھی جب کہ 248 قیدیوں کا فرار، ایک راستہ بروقت بند نہ ہونے کے باعث ممکن ہوا۔ کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے قریبی پولیس لائن میں پولیس کی صرف 150 نفری تعینات تھی۔ جیل واقعہ کی ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ سے قبل اس کی اطلاعات خفیہ ایجنسیوں کے پاس تھیں، جب کہ خفیہ ایجنسیوں نے یہ معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ہوم ڈیپارٹمنٹ سے بھی شیئر کی تھیں۔

حملہ کے وقت جیل کے اندر سو سے زیادہ اہل کار موجود تھے مگر بنوں جیل حملے کے بعد بھی حکومت نے سبق نہیں سیکھا اور ان اہل کاروں میں صرف 20 کے پاس اسلحہ اور ایمونیشن موجود تھا۔ جیل کی اندرونی دیواروں کے آس پاس پولیس کے 25 سے 40 محافظ موجود تھے جب کہ قریبی پولیس لائن میں کل نفری 150 موجود تھی۔

حملے کے بعد پولیس کی جانب سے دو مرحلوں میں رسپانس دیا گیا جب کہ ان کی بیک اپ کے لیے پاک فوج موجود تھی۔ تحقیقات کے مطابق حملہ رات ساڑھے گیارہ بجے کیا گیا۔ پہلا دھماکہ مین گیٹ پر ہوا جب کہ دو یا تین بیرونی احاطے میں جیل کی دیوار کے ساتھ ہوئے، جس سے عسکریت پسندوں کو جیل کے اندر جانے کا موقع ملا۔ اس دوران پولیس کی ٹیم نے قریبی لائن سے پہنچنا تھا تاہم وہ زیادہ جلدی نہ پہنچ سکی جس کے بعد فوج کو الرٹ کیا گیا جب کہ ایک جانب دھماکوں اور دھوئیں کی وجہ سے پولیس کو پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں، اس لیے تمام راستے بلاک نہ ہونے کے باعث قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

مقابلے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی : ’’مبلغ پچیس اہل کار‘‘
وزارت داخلہ نے چار روز قبل خیبر پختون خوا حکومت کو جیل پر حملے کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا لیکن اسے نہ روکا جا سکا۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف انٹیلی جنس اداروں نے چند ٹیلی فون کالز ٹریس کی تھیں جن میں اندازہ ہوتا تھا کہ خیبر پختون خوا میں کسی بھی جیل پر بڑا حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس پر فوری طور پر خیبر پختون خوا حکومت کو آگاہ کیا گیا تھا اور اضافی سیکورٹی کی بھی پیش کش کی گئی تھی۔

ادھر انٹیلی جنس اداروں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی سنٹرل جیل پر شدت پسندوں کے حملے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف کو پیش کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے انفارمیشن شیئرنگ کے بعد ڈیرہ جیل پر اضافی 25 اہل کار تعینات کیے گئے تھے جن کے پاس جدید اسلحہ سے لیس شدت پسندوں کے مقابلے میں روایتی ہتھیار تھے۔

پاکستان اور خصوصاً خیبر پختون خوا میں پے در پے دہشت گردی اب تو چوں کہ ان ہونی نہیں رہی لیکن ان ہونی یہ بھی ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر بروقت کارروائی نہ ہونا یا باالفاظ دیگر اداروں میں رابطے کا فقدان ایسے سوالات ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ یہ حقیقت بھی ہے اور افسوس بھی کہ دہشت گردی میں فرنٹ لائن صوبۂ خیبر پختون خوا میں ذاتی انٹیلی جنس ادارہ نہیں، جس کی فراہم کردہ بروقت معلومات پر تکیہ کر کے بروقت کارروائی کا تاثر قائم کیا جائے، جس ادارے کی بنیاد افغانستان پر حملے کے بعد فوراً رکھی جانی چاہیے تھی۔

کسی بھی جیل کے باہر کیمرے اور موبائل جیمرز نہیں
ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہیں لیکن پاکستان میں شدت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے جیلوں پر ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے ملک کی کسی بھی جیل کے باہر سکیورٹی کیمرے اور موبائل فون جیمرز نہیں لگائے گئے ہیں۔حالاں کہ حکومت نے اس بارے میں واضح ہدایات دی تھی مگر ایک سال گزر جانے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے ۔اپریل سنہ دو ہزار بارہ میں خیبر پختون خوا کے علاقے بنوں کی جیل پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد اْس وقت کی وفاقی حکومت نے چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ جیل کے باہر سکیورٹی کیمرے لگانے کے علاوہ موبائل فون جیمرز لگائے جائیں تاکہ شدت پسندوں کے حملوں کو روکا جاسکے لیکن …؟ملک بھر میں جیلوں کی تعداد 79 ہے جس میں زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں ہیں۔

ان کے باہر کلوز سرکٹ کیمرے تو لگے ہوئے ہیں لیکن زیادہ تر کیمرے مرکزی دروازے کے علاوہ قیدیوں سے ملاقات کرنے والے افراد کے علاوہ جیل کے اندر کام کرنے والے قیدیوں کو ہی فوکس کرتے ہیں۔ جیل کے باہر لگے ہوئے یہ کیمرے مرکزی دروازے سے ایک سو فٹ کے فاصلے پر ہونے والی کارروائی کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ ان جیلوں میں بم پروف بنکرز بنانے کے بارے میں بھی احکامات جاری کیے گئے تھے لیکن ابھی تک صرف چار جیلوں میں بنکرز بنائے گئے ہیں۔ ان جیلوں میں سے پنجاب کی دو اور سندھ اور ایک بلوچستان کی جیل شامل ہے۔اسی طرح شدت پسندوں کے حملوں کی صورت میں صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے جیل کے عملے کو کمانڈو تربیت دینے کا عمل بھی سْست روی کا شکار ہے۔

گو کہ ملک بھر کی مختلف جیلوں کے عملے کو منگلا میں فوجی کمانڈوز مرحلہ وار تربیت دے رہے ہیں۔ وزارت داخلہ نے صوبائی حکومتوں کو شدت پسندوں کے حملوں کے پیش نظر رینجرز یا فرنٹیر کانسٹیبلری کی خدمات دینے کی پیشکش کی تھی تاہم زیادہ تر جیلوں کے باہر سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کو تعینات نہیں کیا گیا۔اب اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کی مخبری جیل کے اندر سے شدت پسندوں کے ساتھیوں نے کی ہو اور جیل کے باہر اور اندر سکیورٹی کی خامیوں کو مدنظر رکھنے کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔