انارکی

جاوید چوہدری  بدھ 31 جولائ 2013
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

یہ جولائی کی 30 تاریخ تھی اور وقت تھا رات کے گیارہ بجے‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں سو سے ڈیڑھ سو مسلح افراد داخل ہوئے‘ یہ 60 سے 70 گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر سوار تھے‘ گاڑیوں پر جھنڈے لگے تھے جن پر اللہ اکبر لکھا تھا‘ یہ لوگ شہر کے کنٹونمنٹ ایریا‘ پولیس لائین اورضلعی عدالتوں کے قریب سے گزر کر ڈسٹرکٹ جیل ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے‘ جیل میں ان کے اڑھائی سو ساتھی قید تھے‘ انھوں نے سب سے پہلے خود کش حملے کے ذریعہ حفاظتی مورچہ اڑایا‘ اس کے بعد ٹاور پر راکٹ فائر کیا‘ ٹاوردو سپاہیوں سمیت اڑ گیا‘ بارود سے بھری گاڑیاں جیل کے گرد کھڑی کیں‘ جیل کا مرکزی گیٹ بارود لگا کر اڑا دیا‘ جیل میں اس وقت 145مسلح اہلکار موجود تھے‘ یہ لوگ ریاست کی کمزوری سے واقف تھے ‘ یہ سرنڈر کرگئے‘ مرکزی گیٹ کے بعد جیل کے دو دروازے تھے‘ پولیس اہلکاروں نے یہ دونوں گیٹ کھول دیے۔

حملہ آور جیل کے اندر داخل ہو گئے‘ جیل میں بارود لگایا اور دھماکے شروع ہو گئے‘ دھماکوں کی آواز سے شہر لرز اٹھا‘ لوگوں نے گھروں اور دکانوں کو تالے لگائے اور دبک کر بیٹھ گئے‘ جیل سے دو منٹ کے فاصلے پر پولیس لائین تھی‘ لائین میں 150 پولیس اہلکار اور بھاری ہتھیار موجود تھے لیکن جیل پر حملہ اس قدر شدید تھا کہ یہ پولیس اہلکار بھی دم سادھ کر بیٹھ گئے‘ پیچھے رہ گئی فوج تو یہ آرڈر کا انتظار کرنے لگی‘ حملہ آوروں کے ہاتھ میں اپنے ساتھیوں کی فہرست موجود تھی‘ انھوں نے میگا فون پر اپنے ساتھیوں کے نام دہرانا شروع کر دیے‘ ساتھی ایک ایک کر کے گیٹ پر جمع ہونے لگے‘ حملہ آوروں نے کال کوٹھڑی میں موجود چند مجرم تلاش کیے اور انھیں گولی مار دی‘ یہ سلسلہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا‘ اس کے بعد جیل کے ڈیڑھ سو سال پرانے ریکارڈ کو آگ لگائی گئی‘ حملہ آوروں نے اپنے 243 ساتھی لیے‘ انھیںگاڑیوں میں سوار کیا اور یہ لوگ ڈی آئی خان سے روانہ ہو گئے‘ حملہ آوروں نے 216 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا‘ یہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی پہنچے اور وہاںجشن شروع ہو گیا۔

طالبان اس واقعے کی ذمے داری قبول کر چکے ہیں‘ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ پاکستان ائیرفورس کے سابق اہلکار اور طالبان لیڈر عدنان رشید نے کیا‘ عدنان رشید جنرل پرویز مشرف پر دسمبر 2003ء کے حملے میں ملوث تھا‘ یہ 2004ء کے اوائل میں گرفتار ہوا‘ اسے اکتوبر 2005ء میں موت کی سزا ہوئی‘ یہ بنوں جیل میں بند تھا‘ عدنان رشید نے قید میں جیل توڑنے کا منصوبہ بنایا‘ جیل سے آپریشن کی نگرانی کی اور 15 اپریل 2012ء کو بنوں جیل پر حملہ کرا دیا‘ طالبان حملے کے بعد عدنان رشید سمیت 384 قیدیوں کو ساتھ لے گئے‘ عدنان رشید ڈی آئی خان جیل میں بھی رہا لہٰذا یہ جیل کی اندرونی صورتحال سے پوری طرح واقف تھاچنانچہ اس نے اپنے ساتھیوں کو چھ ماہ ٹریننگ دی‘ جیل میں موبائل فون بھجوائے اور 30 جولائی 2013ء کی رات ڈی آئی خان جیل پر حملہ کر دیا‘ اس حملے پر اس کے ایک کروڑ 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے‘ ہمارے اداروں اور حکومت کو حملے کی پیشگی اطلاع بھی تھی۔

ڈی آئی خان جیل اور بنوں جیل کے حملے نے چار چیزیں ثابت کر دیں‘ ایک‘ دنیا میں جیل مجرموں کے لیے مشکل ترین ٹارگٹ ہوتی ہے لیکن پاکستان میں کوئی بھی گروپ ایک کروڑ روپے اور چھ ماہ کی ٹریننگ سے یہ مشکل ترین ٹارگٹ اچیو کر سکتا ہے اور ہماری ریاست اس حملے کو روک نہیں سکتی لہٰذا آج اگر کوئی گروپ اس سے بھی مشکل ٹارگٹ تک پہنچنا چاہے تو یہ اس کے لیے ناممکن نہیں ہوگا‘ دو‘ ہماری پولیس اور دوسرے ادارے نفسیاتی طور پر شکست تسلیم کر چکے ہیں اور یہ مزاحمت کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ اس میں بڑی حد تک ’’جسٹی فائیڈ‘‘ بھی ہیں کیونکہ مزاحمت کے نتیجے میں یہ جان سے جاتے ہیں اور حکمران جنازے تک میں شریک نہیں ہوتے‘ ان کے لواحقین کو ان کی شہادت کے بعد امدادی رقم نہیں ملتی اور ان کے بچے اور بیوائیں گلیوں میں رل جاتی ہیں‘ یہ لوگ روز اپنی آنکھوں سے شہید ساتھیوں کے لواحقین کا انجام دیکھتے ہیں اور آپ اس کے بعد بھی اگر یہ توقع رکھیں یہ لوگ ریاست یا ڈیپارٹمنٹ کے لیے جان دیں گے تو یہ حماقت ہو گی ‘ تین‘ ریاست اپنی ناکامی‘ کمزوری یا خامی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ڈیپارٹمنٹ ایک دوسرے پر ذمے داری ڈال دیتے ہیں اور صوبائی حکومتیں وفاق کو ذمے دار ٹھہرا دیتی ہیں اور وفاقی حکومت اٹھارہویں ترمیم کھول کر بیٹھ جاتی ہے‘ حکومتیں اور ڈیپارٹمنٹس میڈیا کے ذریعے بھی مسئلے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور چار‘ ہم ڈیزاسٹرز سے کچھ نہیں سیکھ رہے‘ 15 اپریل 2012ء کو بنوں جیل ٹوٹی‘ 384 قیدی فرار ہوئے‘ ہم انکوائری کمیٹی بناکر چپ بیٹھ گئے‘ حکومت نے ڈی آئی خان سانحے کے بعد بھی درمیانے اور نچلے درجے کے چند افسر معطل کر دیے ہیں‘ یہ افسر ایک دو ماہ میں دوبارہ تعینات ہو جائیں گے اور یوں ہم اس ڈیزاسٹر سے بھی کچھ نہیں سیکھیں گے‘ ہم 65 برسوں سے سیلابوں میں ڈوب رہے ہیں مگر ہم نے آج تک سیلابوں سے بچائو کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی‘ ہم جیلوں کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے کے لیے خاک پالیسی بنائیں گے اور ہم اس سستی کی وجہ سے آپریشن تھیٹر تک پہنچ چکے ہیں مگر ہم یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ ہم چور کو چارپائی کے نیچے تلاش کرنے کے بجائے اسرائیل اور امریکا میں تلاش کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں انسان ہو یا قومیں یہ ہر حال میں اپنا بویا ضرور کاٹتی ہیں اور ہم اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہے ہیں اور ہم نے اگر سنجیدگی اختیار نہ کی تو ہماری نسلیں بھی یہ فصلیں کاٹیں گی۔

میں اب جیلوں اور دہشت گردی کے ایشو کے حل کی طرف آتا ہوں‘ جیلوں کے مسئلے کے تین حل ہیں‘ حکومت خطرناک ملزموں کے لیے فوری طور پر خصوصی جیل بنا دے‘ یہ جیل کنٹونمنٹ کے اندر ہونی چاہیے اور اس کا انتظام پولیس کے بجائے فوج کے پاس ہونا چاہیے‘ ملزمان اگر اپنے لواحقین یا وکیل سے ملنا چاہیں تو انھیں ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت دے دی جائے‘ ان کے مقدمات بھی عدالت کے بجائے جیل میں سنے جائیں‘ جج ان کے سامنے نہ آئیں‘ یہ کالے شیشوں کے پیچھے بیٹھ کر وکیلوں کی بحث سنیں اور ثبوت دیکھیں‘ ان کے خلاف فیصلوں پر بھی کسی ایک جج کے دستخط نہیں ہونے چاہئیں‘سزائوں کے احکامات وزارت قانون‘ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہوں تا کہ ججز اپنی اور اپنی فیملی کے تحفظ کے بارے میں مطمئن ہو جائیں‘ دو‘ ہمارے ملک میں جیلیں کم اور ملزم زیادہ ہیں‘ ایک ایک جیل میں تین تین چار چار ہزار قیدی بند ہیں‘ جیلیں پرانی اور ناقص بھی ہیں‘ یہ اتنے ملزموں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں‘ حکومت فوری طور پر جیلوں پر بوجھ کم کرے‘ چھوٹے جرائم میں قید ملزموں کے فوری فیصلے کیے جائیں‘ سزائوں کو قید سے جرمانوں‘ جائیداد کی ضبطی اور پاسپورٹ کی معطلی پر شفٹ کر دیا جائے۔

زیر التواء مقدمات کے لیے ریٹائر ججوں کو ایک سال کے لیے دوبارہ بھرتی کر لیا جائے‘ ہر جج کے حوالے پانچ سو سے ہزار مقدمے کر دیے جائیں اور اسے پابند کیا جائے یہ ایک سال میں یہ سارے مقدمات نبٹا دے گا‘ ججز نہ ملیں تو وکلاء کی مدد لی جائے‘ جیلوں میں کورٹ روم بنائے جائیں‘ یہ لوگ دن رات کام کریں اور حکومت کی چھوٹے مقدمات سے جان چھڑا دیں‘ حکومت بھی جو سزا معاف کر سکتی ہے‘ یہ معاف کردے تا کہ جیلیں صاف ہو سکیں‘ چوری‘ ڈکیتی‘ فراڈ‘ قتل اور زنا کے مجرموں سے مقدمے اور جیل کے اخراجات بھی وصول کیے جائیں‘ یہ کتنی زیادتی ہے جرم مجرم کرتا ہے مگر اس کے مقدمے اور جیل میں رہائش اور خوراک کے اخراجات حکومت اور ٹیکس پیئر ادا کرتے ہیں‘ یہ اخراجات بھی مجرم کو ادا کرنے چاہئیں‘ یہ اگر ادا نہیں کر سکتا تو حکومت اس سے مزدوری یا مشقت لے اور اس سے اخراجات پورے کرے اور تین‘ جیلوں کے اردگرد موجود آبادیاں فوراً ختم کر دی جائیں‘ جیل کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں کوئی عمارت‘ کوئی دیوار اور کوئی درخت نہیں ہونا چاہیے تا کہ ہنگامی صورتحال میں پولیس یا فوج کے لیے آپریشن ممکن ہو سکے‘ حکومت آباد کاروں کو پلاٹس الاٹ کرے یا گھر بنا کر دے دے مگر یہ آبادیاں فوری طور پر ختم ہونی چاہئیں۔

ہم اب آتے ہیں دہشت گردوں کے حملوں کے حل کی طرف‘ حکومت تمام بڑے شہروں میں فوج‘ رینجرز اور ایف سی کے جوانوں پر مشتمل ’’ ریپڈ ایکشن فورس‘‘ بنا دے‘ یہ فورس ہر وقت تیار رہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چند منٹوں میں ایکٹو ہو جائے‘ ان کوخصوصی اختیارات حاصل ہوں اور یہ ایکشن کے لیے کسی ایک شخص کے حکم کی پابند ہو‘ دو‘ آپ پورے ملک میں جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کر دیں‘ یہ نیٹ ورک اضافی خرچ کے بغیر ایک ماہ میں قائم ہو سکتا ہے‘ آپ ملک کے تمام پنشنرز کی مدد لیں‘ آپ ان کو دو‘ دو گھنٹے کے لیے ملازم رکھ لیں اور ان کی پنشن کو تنخواہ ڈکلیئر کر دیں‘ یہ لوگ جہاں رہتے ہیں‘ آپ انھیں اس علاقے کی نگرانی سونپ دیں‘ یہ دائیں بائیں نظر رکھیں اور انھیں جوں ہی کوئی مشکوک شخص نظر آئے یہ فوراً حکومت کو اطلاع دے دیں اور ہمارے ادارے الرٹ ہو جائیں‘ آپ اس طریقے سے فوری طور پر پورے ملک میں جاسوسی کا نیٹ ورک بنا سکتے ہیں اور اس نیٹ ورک میں ایک کروڑ لوگ شامل ہوں گے۔ہم خانہ جنگی کا شکار ہیں‘ اس خانہ جنگی کا جو عموماً انقلاب کے دوران ہوتی ہے‘آپ دنیا کے تمام انقلابات اور خانہ جنگیوں کا مطالعہ کریں‘ آپ کو معلوم ہو گا جیلیں صرف انقلاب یا انارکی میں ٹوٹتی ہیںاور ہمارے ملک میں آج جیلیں ٹوٹ رہی ہیں‘ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے ہم انارکی کا شکار ہو چکے ہیں اور ایک جوہری ملک میں انارکی کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ کیا آپ اس سے واقف ہیں‘ نہیں واقف تو جاننا شروع کر دیں کیونکہ یہ وقت کی آواز ہے اور وقت کی آواز نہ سننے والوں کو وقت خارج کر دیتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔