فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

ایم جے گوہر  بدھ 31 جولائ 2013
mjgoher@yahoo.com

[email protected]

یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ رمضان المبارک جیسے مقدس اور برکتوں و رحمتوں والے مہینے میں بھی دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے سینوں میں دھڑکتے دل خوف خدا سے عاری نظر آتے ہیں ان کے ذہن مائوف ہو چکے ہیں اور آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے۔ نہ جانے یہ انتہا پسند دین اسلام کی کون سی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں کہ اپنے ہی مسلمان بھائی بہنوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہوئے انھیں ذرا شرم نہیں آتی۔ حیرت انگیز طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بے گناہوں کو خون میں نہلا کے دین کی خدمت کر رہے ہیں حالانکہ اسلام تو امن کا پیغام دیتا ہے ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ لیکن انتہا پسند عناصر اپنے خود ساختہ اسلامی نظریات کو بندوق کے زور پر دوسرے مسلمانوں پر مسلط کرنے کے پاگل پن میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ رحمتوں و فضیلتوں والے ماہ مقدس میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے کی بجائے دہشت گرد عناصر روزے داروں کو بھی آگ و خون میں نہلا رہے ہیں۔

کرم ایجنسی کے قبائلی علاقے پارا چنار میں گزشتہ جمعے کو عین افطار سے چند منٹ قبل جب روزہ دار بازار میں خریداری کر رہے تھے خود کش حملہ آور نے دھماکے سے خود کو اڑا دیا جس کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد جاں بحق اور 200 سے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔ اس خون آشام و اندوہناک سانحے نے پورے ملک کی فضا کو سوگوار کر دیا، شہدا کے جنازوں پر ان کے لواحقین کی آہ و فغاں سے پورا ماحول غم زدہ اور ہر آنکھ اشک بار ہو گئی نہ جانے کتنے بچے یتیم، کتنی بہنیں بیوہ اور کتنی مائوں کی گود اجڑ گئی۔

پارا چنار میں بربریت، درندگی اور سفاکی کے دلخراش المیے نے عوام کی جان و مال کے تحفظ اور ملک کی سلامتی کے حوالے سے بہت سے سوالوں کو جنم دیا ہے۔ ملک میں امن و امان قائم کرنے والے ذمے داروں اور ان کے سرپرستوں کی کارکردگی ایک مرتبہ پھر ہدف تنقید بن گئی ہے، ان کی لاپرواہی و بے اعتنائی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں جو کئی برسوں بعد رونما ہوا ہو۔ وطن عزیز میں تو گزشتہ ایک دہائی سے خود کش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی و تخریبی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جس کا آغاز 9/11 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ او راس میں پاکستان کی شمولیت سے کیا جاتا ہے اور جب اس جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہوا افغانستان تک پہنچا تو اس جنگ کے شعلوں نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا وہ دن اور آج کا دن پاکستان آگ اور خون میں ڈوبتا جا رہا ہے۔

دہشت گردی کے عفریت نے ملک کے چاروں صوبوں کو اپنے خونخوار پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔ کراچی تا خیبر خونی لکیروں کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے، عوام الناس تو بے چارے بے یار و مددگار ہوتے ہیں آسانی سے دہشت گردوں کی خوراک بن جاتے ہیں لیکن یہاں تو سیکیورٹی حصار میں چلنے والے سیاسی رہنما، مذہبی شخصیات، سرکاری عہدیدار اور ہتھیاروں سے مسلح سیکیورٹی اہلکار بھی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ تاہم بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی دہشت گردوں کا نیٹ ورک تو اس قدر منظم، مربوط اور مستحکم اور چاروں صوبوں و قبائلی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے کہ سرکاری خفیہ ایجنسیوں کے مقابلے میں شدت پسندوں کی انٹیلی جنس معلومات کہیں زیادہ اور درست ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ بآسانی ہماری اہم اور حساس تنصیبات تک کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ہمارے انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان سر پکڑ کر بیٹھے رہ جاتے ہیں مختلف حساس مقامات پر حملہ اس کا بین ثبوت ہے۔

ملک میں 11 مئی کو آنے والی سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں میاں نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد عوام توقع کر رہے تھے کہ ان کی طالبان کے ساتھ ’’مذاکراتی پالیسی‘‘ کے نتیجے میں ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی، دہشتگردی، انتہا پسندی اور تخریبی کارروائیوں میں کمی آئے گی، شدت پسندوں کے ساتھ مفاہمانہ اور لچکدار رویہ اختیار کرنے کے باعث وزیر اعظم میاں نواز شریف ملک میں قیام امن اور قتل و غارت گری رکوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ خود کش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خونی واقعات میں بتدریج کمی آئے گی اور ایک عشرے کے بعد عوام الناس کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہو گا، لیکن افسوس کہ میاں صاحب اپنے وعدوں اور دعوئوں کی لاج رکھنے میں تادم تحریر کامیاب نہیں ہو سکے ان کی حکومت کو دو ماہ ہونے والے ہیں لیکن دہشت گردی کی وارداتوں میں بجائے کمی کے تیزی آتی جا رہی ہے۔ حد یہ ہے کہ رمضان المبارک کا احترام و اکرام بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں مجروح ہو رہا ہے اور حکمران محض اخباری بیانات تک دہشت گردی ختم کرنے کے روایتی وعدے کر رہے ہیں۔

جولائی کے اوائل میں کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹائون میں خود کش حملے میں 28 افراد کی ہلاکت کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کوئٹہ کا ہنگامی دورہ کیا تھا جہاں ہزارہ برادری، قبائلی عمائدین اور سرکاری حکام سے ملاقاتوں کے بعد ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور صوبے میں دہشت گردی، خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے کیونکہ حکومت بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے اور شدت پسند عناصر کے مذموم ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے پورے خلوص اور سنجیدگی سے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر اعظم کا اخلاص اپنی جگہ لیکن شدت پسندوں کے عزائم ناکام بنانے کی حکومتی کوششیں کارگر نہیں ہو پا رہیں ابھی چار روز پیشتر ہی بلوچستان کے معروف علاقے گوادر میں دہشت گردوں نے پاکستان کوسٹ گارڈ چیک پوسٹ پر راکٹوں سے حملہ کے 10 اہلکاروں کو شہید کر دیا، بدبخت دہشت گردوں نے غیر ملکی سیاحوں کو بھی نہیں بخشا اور نانگا پربت بیس کیمپ پر مہمان کوہ پیمائوں کو نشانہ بنایا جس سے بیرون وطن پاکستان کے امن پسند ملک ہونے کے دعوے کو شدید دھچکا پہنچا۔

وقت کی نزاکت اور سنگینی کا تقاضا یہ ہے کہ محض روایتی اخباری بیانات اور دعوئوں سے عوام کو طفل تسلیاں دینے کی بجائے دہشت گردی کی جڑوں کو کاٹنے کی تدابیر کی جائیں۔ محض چند شاخوں کے کاٹنے سے شدت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں، اب فیصلہ کن قدم اٹھانا ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔