پانی سے 99 فیصد جراثیم ختم کرنے والی جادوئی دھات

ویب ڈیسک  پير 25 فروری 2019
چینی ماہرین نے گریفائٹک کاربن نائٹرائیڈ اور سورج کی روشنی سے پانی صاف کرنے والا سادہ نظام تیار کرلیا ہے۔ فوٹو: فائل

چینی ماہرین نے گریفائٹک کاربن نائٹرائیڈ اور سورج کی روشنی سے پانی صاف کرنے والا سادہ نظام تیار کرلیا ہے۔ فوٹو: فائل

بیجنگ: چینی ماہرین نے ایسی جادوئی دھات تیار کی ہے کہ جس پر سورج کی روشنی ڈال کر 99.9 فیصد جراثیم اور بیکٹیریا ختم کئے جاسکتے ہیں۔

چینی ماہرین نے ایک طرح کے مرکب گریفائٹک کاربن نائٹرائٹکی پرت یا چادر بنائی ہے ۔ اس پر بالائے بنفشی یا الٹراوائلٹ روشنی ڈالی جائے تو صرف ایک گھنٹے میں یہ 10 لیٹر پانی سے بیکٹیریا اور جراثیم ختم کرکے پانی کو پینے کے قابل بنادیتا ہے۔

اس عمل کو ضیائی عمل انگیز جراثیم رُبائی یا فوٹو کیٹیلک ڈس انفیکشن کا نام دیا گیا ہے جو رائج فلٹر نظاموں کے بہتر متبادل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ یہ کم خرچ ہے، ماحول دوست بھی اور اسے استعمال کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی اور پانی کی شدید قلت کے تناظر میں اسے ایک اہم ایجاد تصور کیا جارہا ہے۔

اس دھات کی خاص بات یہ ہے کہ پانی میں اس کے ذرات شامل نہیں ہوتے اور یوں پانی خالص اور صاف ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب یہ دھوپ سے الٹراوائلٹ روشنی لیتا ہے جو مفت میں دستیاب ہے۔ اس عمل میں روشنی پڑتے ہیں ری ایکشن شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح یہ ایجاد دنیا بھر میں آسانی سے استعمال کی جاسکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنس اور یانگ زو یونیورسٹی نے پہلے گریفائٹک کاربن نائٹرائیڈ کی ایک پتلی سی چادر بنائی اور جب اس پر سورج کی شعاعیں ڈالی گئیں تو اس نے ای کولائی نسل کے بیکٹیریا کی 99.9999 مقدار کو ختم کردیا اور یہ عمل صرف آدھے گھنٹے میں ہوگیا لیکن اس میں پانی کی مقدار صرف 50 ملی لیٹر تھی۔

تاہم مزید شیٹ لگا کر یہ عمل بڑھایا جاسکتا ہے اور دس لیٹر تک پانی صرف ایک گھنٹے میں جراثیم سے پاک ہوجاتا ہے۔ اس لیے یہ ایجاد نہایت مؤثر اور قابلِ عمل ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔