ملکہ کا لونگ گواچہ…

ظفرالحق میمن  جمعـء 2 اگست 2013

بادشاہ تو اللہ ہی ہے، لیکن دنیا کا ایک بادشاہ تھا،اس کی ایک ملکہ بھی تھی۔خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دن ملکہ کی ناک کا لونگ گم ہوگیا۔ملکہ کو لونگ کے گم ہونے کا بہت غم ہوا، یہاں تک کہ اس نے کھانا پینا بھی ترک کر دیا۔

بادشاہ نے  اسے بہت دلاسے دیے کہ اری نیک بخت رہنے بھی دو، بادشاہوں کے ہاں لونگوں کا کیا کال، میں دوسرا لونگ بنوا دونگا،بلکہ ویسے لونگ جتنے بھی کہوگی بنوادوں گا، لیکن ملکہ بضد تھیں کہ اسے وہی لونگ واپس چاہیے اور اٹھتے بیٹھتے لونگ گواچہ کا گانا گانا شروع کر دیا، بالکل ویسے جیسے مسرت نظیر نے گایا تھا۔ آخر کار بادشاہ نے لونگ کی تلاش کے لیے وزیرکو بلایا۔ اس زمانے میں صرف ایک ہی وزیر ہوا کرتا تھا، جو سب محکموں کا وزیر ہوتا تھا، وزیراعظم بھی، وزیر داخلہ بھی وغیرہ ۔اس زمانے میں راجا رینٹل جیسے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ناپید ہوتے تھے ۔ بہرحال اس وزیر کے ہوتے بادشاہ کو مملکت کے سب امور کے لیے وزیروں کی فوج ظفر موج کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی وزراء مملکت یا مشیروں کی۔

قصہ کوتاہ، بادشاہ نے وزیر کو حکم دیا کہ ملکہ کا لونگ دوسرے دن کی شام تک مل جانا چاہیے ورنہ اس کی جان کی خیر نہیں ہوگی۔ وزیر نے کوتوال کو بلایا اور اسے دوسرے دن کی شام تک کا وقت دیا(اس زمانے میں ایس پی، ڈی ایس پی وغیرہ نہیں ہوتے تھے ، ڈائریکٹ حوالدار ہی کوتوال شہر ہوا کرتا تھا)۔ کوتوال نے سپاہیوں کو بلایا اور ان کو پورا ماجرا سنایا۔ سپاہیوں نے پورے شہر کے چور، اچکوں اور اٹھائی گیروں کو کوتوال کے سامنے پیش کیا (اس زمانے میں ڈ کیتی یا موبائیل چھیننے وغیرہ کے فن ابھی تک پروان نہیں چڑے تھے)۔ کوتوال نے ان کی بہت اچھی طرح سے دھلائی کی، الٹا لٹکا کر لال مرچوں کی دھونی بھی دی ، لیکن ان سب نے اپنے اپنے استادوں اور شہر کے بااثر لوگوں کے (جو کہ ان کے سرپرست تھے) کے سروں کی قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ان کو ملکہ کے لونگ کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ البتہ انھوں نے پیشکش کی کہ وہ ویسا ہی لونگ چوری چھپے شاہی سنار سے بنواکر ملکہ صاحبہ کی خدمت میں پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن کوتوال نے ان کی اس پیشکش کو رد کر دیا۔ اس زمانے میں کوتوال بھی ایسے ہی اڑیل ہوتے تھے کہ مال مسروقہ من وعن برآمد کرنا چاہتے تھے ۔ کوتوال نے پورا ماجرا وزیر کے سامنے پیش کیا۔ وزیر کوتوال کو لے کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جان کی امان پا کر پورا قصہ بیان کیا کہ ملکہ کے لونگ کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

بادشاہ نے وزیر کو مہلت دی کہ کسی اور طریقے سے لونگ کا پتہ لگائے۔ وزیر نے کسی معتمد درباری سے پورے معاملے کا ذکر کیا۔ اس نے بتایا کہ شہر سے دور ایک کٹیا ہے جہاں ایک درویش عبادت میں مصروف بیٹھا ہوتا ہے ۔ وہ کسی سے کوئی بات بھی نہیں کرتا۔ اس کٹیا میں پانی کے چند مٹکے رکھے ہوتے ہیں۔ ان مٹکوں میں ایک خاص مٹیا بھی ہے ، جس میں سے اگر کوئی چور پانی پی لے تو، اگر اس نے واقعی چوری کی ہوئی ہوگی تو قبول کر لیتا ہے ۔ وزیر نے کوتوال کو حکم دیا کہ سب چوروں، اچکوں اور اٹھائی گیروں کو وہاں لے جائے اور اس مٹکے سے پانی پلائے ۔ ہوا یہ کہ ان سب لوگوں نے پانی پیا لیکن پھر بھی ان میں سے کسی نے بھی لونگ کے چرانے کا اعتراف نہیں کیا۔ البتہ انھوں نے اپنی کی ہوئی سب چوریوں اور دوسری وارداتوں کا اعتراف کیا اور آیندہ کے لیے توبہ کی۔ آخر کار بات بادشاہ تک پہنچی تو اس نے حکم دیا کہ یہ پانی اب کوتوال سے لے کر سب سرکاری اہل کاروں کو پلایا جائے ۔ ان سب نے پانی تو پیا لیکن ملکہ کے لونگ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

البتہ انھوں نے اپنی کی ہوئی سب بدعنوانیوں، رشوت خوریوں، اقربا پروریوں، جائیدادیں بنانے وغیرہ کا اعتراف کیا اور بادشاہ سے معافی کے طلبگار ہوئے اور آیندہ کے لیے ایماندار رہنے کا وعدہ کیا۔اس کے بعد عدلیہ کے اراکین کی باری آئی۔ جب انھیں پانی پلایا گیا تو انھوں نے بھی ملکہ کے لونگ کے بارے میں تو لاعلمی کا اظہار کیا لیکن بادشاہ، وزیر اور امیر امراء کی ایما پر یا خود رشوتیں لے کر جو غلط سلط فیصلے کیے تھے ان کا بھی اعتراف کیا بلکہ یہ بھی مانا کہ ان کے ان غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک کا نہ صرف مستقبل تاریک ہوا، بلکہ پوری دنیا میں اتنا بدنام بھی ہو گیا کہ آفات سماوی کے زمانے میں دنیا کے بہت سارے ممالک نے امداد سے بھی کنی کترائی۔ بہر حال انھوں نے بھی بادشاہ سے معافی مانگی اور آیندہ کے لیے صحیح اور غیر جانبدار فیصلے کرنے کا وعدہ کیا۔ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ کی باری آئی تو اس نے بھی ملکہ کے لونگ کے بارے میں تو لاعلمی برتی، لیکن بتایا کہ وہ لوگوں کو فرقہ وارانہ،علاقائی، صوبائی اور لسانی بنیادوں پر اکساتا تھا، جس سے ملک کے لاکھوں بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، عورتیں بیوہ ہوگئیں اور کروڑوں بچے یتیم ہو گئے۔

اس طرح سب پارٹیوں کے سربراہوں نے پانی پیا اور بہت سارے اعترافات کیے ۔ یہاں تک کہ ایک سیاسی لیڈر نے تو یہ بھی مانا کہ وہ چوری چھپے فوج کے سپہ سالارکو بادشاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے بھی اکساتا تھا۔اب بادشاہ نے وزیر کوحکم فرمایا کہ تم پانی پیو۔ وزیر کسمسایا اور شکایتاً  بادشاہ کی طرف دیکھا کہ کیا وہ اس پر بھی شک کر رہے ہیں۔ بادشاہ نے کہا کہ چونکہ سب لوگوں نے پانی پیا ہے تو اسے کوئی استثنا حاصل نہیں اور یہی انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ بھی پانی پیے ۔ وزیر نے پانی پیا اور لونگ کے بارے میں تو لاعلمی کا اظہار کیا لیکن اپنی تمام ناجائز کارگذاریوں کا اعتراف کیا، جس میں اپنے نااہل رشتے داروں اور دوستوں کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز کرنا، ان کو بڑے بڑے سرکاری پلاٹ اور زرعی زمینیں کوڑیوں کے مول الاٹ کرنا، قومی خزانے کا غلط استعمال، ناجائز دولت کمانا اور ملک سے باہر منتقل کرنا، باہر کے ملکوں میں جائدادیں بنانا، سرکاری سودوں پر کمیشن کھانا، ملکی مفادات کا سودا کرنا وغیرہ کا اعتراف کیا اور سب کچھ واپس کرنے اور آیندہ کے لیے توبہ کا وعدہ کیا۔ اب بچے بادشاہ اور ملکہ۔ ملکہ کو گمان ہوا کہ کہیں بادشاہ نے تو اس کا لونگ نہیں اپنے پاس رکھا ہوا ہے ۔

ادھر بادشاہ نے سوچا کہیں ملکہ اس سے بھی پانی پینے کے لیے نا کہہ دے۔ ویسے اس نے لونگ تو اپنے پاس نہیں رکھ لیا تھا، لیکن اس نے سوچا کہ اگر پانی پینے کے بعد اسے ملکہ سے کی ہوئی بے وفائیوں کا اعتراف کرنا پڑا تو بہت برا ہو گا۔ دوسری طرف ملکہ نے سوچا کہ لونگ کی چوری کوئی بھی قبول نہیں کر رہا ہے ، کہیں بادشاہ نہ مجھ سے پانی پینے کے لیے کہے ۔ میرا تو یہ ہے کہ میں کہہ دونگی کہ میرا لونگ تو گم ہوا ہے لیکن ساتھہ ساتھ اگر میں بادشاہ سے چھپ چھپا کر اپنے رشتے داروں کو مال و دولت دینے کا اعتراف کرلوں تو بہت برا ہو گا۔ یہ سوچ کر ملکہ وہاں سے اٹھی اور مہاوت کو حکم دیا کہ ہاتھی کو تیز دوڑا کر شاہی محل پہنچے۔ بادشاہ بھی یہی چاہتا تھا، چنانچہ وہ بھی جلدی جلدی محل جا پہنچے۔ دوسرے دن بادشاہ نے اخبارات، ریڈیو اور ٹی وِی پر اعلان کروایا کہ ملکہ کا لونگ غسلخانے کے کسی کونے سے برآمد ہو گیا ہے لیکن آیندہ کوئی بھی اس درویش کی مٹیا سے بھولے سے بھی پانی نا پیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔