پاکستان میں اسٹیپ 5 کانفرنس کا شاندار آغاز

سہیل یوسف  جمعرات 28 فروری 2019
پاکستان میں ایران کے تعاون سے اسٹیپ فایئو کے عنوان سے ایک بڑی کانفرنس جاری ہے۔ فوٹو: بشکریہ آئی سی سی بی ایس

پاکستان میں ایران کے تعاون سے اسٹیپ فایئو کے عنوان سے ایک بڑی کانفرنس جاری ہے۔ فوٹو: بشکریہ آئی سی سی بی ایس

 کراچی: پاکستان میں کثیر الموضوعاتی سائنس کانفرنس کا شاندار آغاز ہوگیا جس میں دنیا بھر سے سیکڑوں سائنس دانوں اور اسکالرز نے شرکت کی۔

سائنس ٹیکنالوجی ایکسچینج پروگرام 5 (اسٹیپ فائیو) کے نام سے اس کانفرنس کا انعقاد جامعہ کراچی میں واقع بین الاقوامی مرکزبرائے کیمیا اور حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) میں ہوا۔ پروگرام میں ایران کے (حضرت) مصطفیٰ فاؤنڈیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی (ایم ایس ٹی ایف) کا بھرپور اشتراک رہا۔

اس کانفرنس میں تعدی اور غیر تعدی (کمیونکیبل اور نان کمیونکیبل) امراض کو موضوع بنایا گیا جس میں خواتین کے کردار کو خصوصی طور پر پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ اسٹیپ فائیو کے نام سے یہ ایک بہت بڑی کانفرنس ہے جس میں 40 ممالک کے 500 سے زائد مندوبین اور سائنس داں شریک ہیں۔

کانفرنس کا اہم مقصد پاکستانی اور بین الاقوامی ماہرین کے درمیان تحقیقی اور تخلیقی روابطہ بڑھانا ہے۔ اس تناظر میں بالخصوص  پاکستانی اور ایرانی سائنسداں ایک دوسرے سے قریب آئیں گے۔

اس تقریب میں شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان، آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری، ایرانی وزیرِ صحت کے ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر رسول دناروند، ایرانی وزیربرائے امور نسواں کی ایڈوائزر زینب حمید زادے، ڈاکٹر پنجوانی میموریل ٹرسٹ کی چیئرمین محترمہ نادرہ پنجوانی اور ڈاکٹر حمیرا جہاں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اسلامی دنیا کی زبوں حالی اور علمی معیشت کی کوشش

اس موقع پر ایچ ای سی کے سابق سربراہ اور وزیرِ اعظم ٹاسک فورس برائے سائنس کے سربراہ ڈاکٹر عطاالرحمان نے کہا کہ یورپ کی صرف ایک جامعہ کیمبرج میں 98 نوبیل انعام یافتہ سائنسداں ہیں جبکہ مسلمان ممالک کی جامعہ میں رہتے ہوئے کام کرتے ہوئے ایک بھی اسکالر یہ اعزاز اپنے نام نہ کرسکا۔

انہوں نے پاکستان کی 55 فیصد آبادی( جو نوجوانوں پر مشتمل ہے) کو ملک کا اصل سرمایہ قرار دیا۔ ڈاکٹر عطاالرحمان نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے جی ڈی پی کا 3 سے 5 فیصد اعلیٰ تعلیم اور تحقیق پر خرچ کرتے ہیں جبکہ اسلامی دنیا میں یہ شرح بمشکل ایک فیصد ہے۔ انہوں نے سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں ایران کی غیرمعمولی ترقی کو بھی سراہا۔

سائنسدانوں کی اہمیت کے متعلق انہوں نے کہا کہ آسٹریا اور جنوبی کوریا میں وزیرِ سائنس کو نائب وزیرِ اعظم کا درجہ حاصل ہے۔ ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا کہ وہ ٹاسک فورس کی نئی ذمے داریوں کے ساتھ پاکستان کو ’علمی معیشت‘ یا نالج اکانومی کی جانب لے جانے کی کوشش کریں گے۔

ایکسپریس نیوز کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینل روزانہ ایک گھنٹہ سائنس و ٹیکنالوجی اور صحت کے مسائل کو ضرور دیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 1500 تکنیکی اور ووکیشنل ٹریننگ مراکز فرسودہ کورس پڑھارہے ہیں اور اب تیانجنگ یونیورسٹی کے تعاون سے پہلے مرحلے میں 50 تکنیکی تعلیم وتربیت فراہم کرنے والے اداروں کو جدید  تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرکے انہیں ماڈل اداروں میں تبدیل کیا جائے گا اور اس کے بعد تمام اداروں میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عطاالرحمان میں بہت پرعزم دکھائی دئیے۔

اسلامی دنیا میں صحت کی زبوں حالی

کانفرنس کے باقاعدہ سیشن میں اسلامی دنیا میں سائنس و ٹیکنالوجی کی انجمن (کامسٹیک) کے مشیر ڈاکٹرخورشید حسنین نے کہا کہ اسلامی دنیا میں معدودے چند ممالک کو چھوڑ اکثریتی اقوام میں طب و صحت کی سہولیات بہت خراب ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے جی ڈی پی کا 4.6 فیصد خرچ کرتے ہیں جبکہ او آئی سی ممالک میں یہ شرح بہت ہی کم ہے۔ اسی طرح فی دس ہزار افراد پر ڈاکٹروں کی شرح حیرت انگیز طور پر کم ہے۔

اپنے لیکچر میں انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ادویہ برآمدی مارکیٹ 1.1 ٹریلین ڈالر کے برابر ہے جبکہ 55 سے زائد اسلامی ممالک کا حصہ ان میں سے صرف 7 ارب ڈالر ہے جن میں ترکی اور ملائیشیا وغیرہ سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کو ادویہ کا بجٹ کم کرنے کے لیے انہیں اپنے ملک میں ہی تیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے نوجوان سائنسدانوں کو اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے سائنس و ٹیکنالوجی پرائز اور دیگر منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ بھی دیا۔

ایم ایس ایف ٹی

اس سے قبل ایرانی اور پاکستانی اداروں کے مشترکہ کاوش سے خطاب کرتے ہوئے (حضرت) مصطفیٰ ﷺ فاؤنڈیشن سے وابستہ پروفیسر رسول دیناورند نے کہاکہ ایم ایس ٹی ایف کا مقصد اسلامی دنیا کے قابل اذہان کو عزت دینا اور ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا ہے۔ اس ضمن میں اسکالروں کو 5 ہزار ڈالر کا انعام دیا جاتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔