رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو بینک کھاتے کھولنے کی مشروط اجازت

احتشام مفتی  جمعـء 1 مارچ 2019
منی لانڈرنگ اورٹیررفنانسنگ کی روک تھام کیلیے اقدامات، اسٹیٹ بینک کاسرکلر جاری۔ فوٹو: فائل

منی لانڈرنگ اورٹیررفنانسنگ کی روک تھام کیلیے اقدامات، اسٹیٹ بینک کاسرکلر جاری۔ فوٹو: فائل

کراچی: حکومت نے منی لانڈرنگ اور ٹیررفنانسنگ کی روک تھام کیلیے پاکستان میں 3 دہائیوں سے مقیم رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو بینک کھاتے کھولنے کی مشروط اجازت دیدی ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس ضمن میں بینکوں کیلیے سرکلر جاری کردیا ہے جس کے تحت پاکستان میں رہنے والے صرف ان افغان پناہ گزینوں کو مقامی بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت ہوگی جن کے پاس نادرا کی رجسٹریشن کا ثبوت ہوگا۔ اس سلسلے میں نادرا نے قومی شناختی کارڈکی تصدیق کی طرز پر افغان پناہ گزینوںکے رجسٹریشن کارڈزکی بھی تصدیق کے لیے بائیومیٹرک سروس متعارف کرادی ہے۔

بینکنگ سیکٹر کے باخبرذرائع کا کہناہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے نادرامیں رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں بینک کھاتے کی سہولت دینے کے نتیجے میں آئندہ چند ماہ کے دوران 50ہزار سے ایک لاکھ بینک کھاتے کھلنے کے امکانات ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کی یواین ایچ سی آرکے مطابق پاکستان میں14لاکھ رجسٹرڈ افغان پناہ گزین مقیم ہیں۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرزبیرموتی والا نے حکومت کے اس اقدام کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب حوالہ اور ہنڈی سسٹم کی حوصلہ شکنی ہوگی چونکہ پاکستان میں3دہائیوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کے خاندان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ساتھ کنسٹرکشن انڈسٹری، پلاسٹک ری سائیکلنگ اور کنسٹرکشن مٹیریلزکی سپلائی کے کاروبارسے وابستہ ہیں اس لیے اب وہ بینکوں کے ذریعے کاروباری ٹرانزیکشنز کریںگے اور ازخود پاکستان کے ٹیکس نیٹ میں شامل ہوجائیں گے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق نادرا حکام نے افغان مہاجرین کو رجسٹریشن ثبوت کارڈز (پی اوآر) فراہم کرنے کیلیے بائیومیٹرک کا عمل مکمل کرلیا ہے لہٰذا تمام شیڈول بینکوںکو ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ نادرا رجسٹریشن کارڈز کے حامل افغان مہاجرین کے نادرا سے بائیومیٹرک کی تصدیق کے بعد بینک اکاؤنٹس کھولے جاسکتے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔