ڈی آر ایس کی غلطی، آسٹریلیا کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوسکا

اسپورٹس ڈیسک  ہفتہ 3 اگست 2013
عثمان خواجہ کو کیوں آؤٹ دیا؟ بورڈ نے آئی سی سی سے وضاحت طلب کر لی۔  فوٹو: فائل

عثمان خواجہ کو کیوں آؤٹ دیا؟ بورڈ نے آئی سی سی سے وضاحت طلب کر لی۔ فوٹو: فائل

سڈنی / مانچسٹر: ڈی آر ایس کی غلطی پر آسٹریلیا کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا، اب بورڈ نے آئی سی سی سے بھی عثمان خواجہ کو غلط آؤٹ دینے کی وضاحت طلب کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز امپائر ٹونی ہل نے عثمان کو انگلش اسپنر گریم سوان کی گیند پر وکٹ کیپر میٹ پرائر کا کیچ قرار دیا، کینگرو بیٹسمین نے نان اسٹرائیک اینڈ پر موجود کرس روجرز کے مشورے سے ریویو کی درخواست کر دی، تھرڈ امپائر کمار دھرماسینا نے ٹی وی ری پلیز اور ہاٹ اسپاٹ چیک کرنے میں خاصا وقت صرف کیا،بعدازاں گیند کے بیٹ سے ٹکرانے کا کوئی واضح ثبوت نہ ہونے کے باوجود انھوں نے فیلڈ امپائر کا فیصلہ برقرار رکھا، اس پر آسٹریلوی وزیر اعظم کیون رڈ تک بلبلا اٹھے، انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’’ میں نے اب تک جتنے بدترین امپائرنگ فیصلے دیکھے یہ ان میں سے ایک ہے‘‘۔ گزشتہ روز اس حوالے سے کرکٹ آسٹریلیا نے بھی آئی سی سی سے رابطہ کر لیا۔

چیف ایگزیکٹیو جیمز سدر لینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم عثمان خواجہ کو آؤٹ دیے جانے پر کونسل سے وضاحت چاہتے ہیں، ہماری رائے کے مطابق آن فیلڈ اور پھر ڈی آر ایس کے بعد بھی دونوں فیصلے غلط تھے، ہم اس سسٹم کے بڑے حامی مگر اس واقعے میں کھلاڑی، ٹیم اور تمام شائقین کرکٹ کی جانب سے وضاحت کے طلبگار ہیں، ہمیں یہ بتایا جائے کہ یہ فیصلہ کیسے سامنے آیا؟ یاد رہے کہ سیریز کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میں بھی ڈی آر ایس کے حوالے سے کئی تنازعات سامنے آئے تھے۔ حالیہ واقعے کے دوران دوسرے اینڈ پر موجود آسٹریلوی اوپنر کرس روجرز نے کہا کہ عثمان نے مجھ سے کہا کہ گیند بیٹ سے نہیں لگی ہے ، میں بھی اس سے متفق تھا اسی لیے ریویو کا استعمال کیا، جس وقت اسے آؤٹ دیا گیا تو میں حیران رہ گیا، امپائر کا الگ نقطہ نظر رہا مگر میری رائے کے مطابق وہ ناٹ آؤٹ تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔