فلم ہیر رانجھا کے گیت کی دھن سن کر شہری مظوظ ہوتے ہیں، بانسری نواز جعفر حسین

کاشف حسین  پير 4 مارچ 2019
جعفر حسین کی انگلیوں اور ہونٹوں سے نکلنے والی ہلکی اور تیز پھونک میں حسین امتزاج ہے جو سننے والوں پر بے خودی طاری کر دیتا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

جعفر حسین کی انگلیوں اور ہونٹوں سے نکلنے والی ہلکی اور تیز پھونک میں حسین امتزاج ہے جو سننے والوں پر بے خودی طاری کر دیتا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

اتوار کے روز ہفتہ بھر کی خریداری کے لیے کراچی کے علاقے واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا کے مکین کا رخ کرنے والے خریدار بازار کے ایک حصہ میں بانسری کی دھن سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

شلوار قمیص پر گرم کوٹ اور سر پر پی کیپ پہنے بڑی بڑی آنکھوںوالا بانسری نواز بانسری پر ملکہ ترنم نورجہا ں کی لازوال فلم ہیررانجھا کے مشہور گانے ’’سن وانجلی دی مٹھری تان وے‘‘ کی دھن بکھیر رہے ہیں ان کے گرد سودے کے تھیلے اٹھائے بزرگ اور جوان شہری گھیرا بنائے کھڑے ہیں اور بانسری سننے والوں میں اردو بولنے والے، پنجابی حتیٰ کہ کوئٹہ کے پشتون بھی شامل ہیں جو بانسری کی میٹھی تان سن کر کھوئے ہوئے نظرآرہے ہیں یہ کئی دہائی پرانا نہیں بلکہ چند روز قبل کا منظر ہے ہنگامہ خیز زندگی میں آج بھی موسیقی کی طاقت برقرار ہے جو محبت اور امن کی پیامبر ہے۔

کراچی کی سڑکوں پر بانسری فروخت کرنے والے 53سالہ جعفر حسین گزشتہ 23 سال سے اس پیغام کو عام کررہے ہیں، جعفر حسین کی انگلیوں اور ہونٹوں سے نکلنے والی ہلکی اور تیز پھونک میں ایک حسین امتزاج ہے جو سننے والوں پر بے خودی طاری کردیتا ہے، شہری اپنی اپنی پسند کی دھنوں کی فرمائش کرتے ہیں نوجوان نسل نئے فلمی گیتوں کی دھن سننا پسند کرتے ہیں تو وہیں ادھیڑ اور پختہ عمر کے شہری ملکہ ترنم نور جہاں ، غزل کے بادشاہ مہدی حسن ، برصغیر کی حسین آوازوں لتا منگیشکر، محمد رفیع کے لازوال گانوں کی دھنوں کی فرمائش کرتے ہیں، جعفر حسین یہ فرمائشیں ایک ایک کرکے پوری کرتے ہیں اور شہریوں سے ملنے والی عزت اور احترام کو ہی دنیا کا بہترین معاوضہ قرار دیتے ہیں۔

بہترین بانسری بجانے والے نے لاکھوں بانسریاں فروخت کیں

جعفر حسین گزشتہ 23 سال سے کراچی کی سڑکوں پر بانسری فروخت کرتے ہیں۔ خود بہترین بانسری بجاتے ہیں اب تک لاکھوں کی تعداد میں بانسریاں فروخت کرچکے ہیں اور اس فن کی ترویج کے لیے باقاعدہ تربیت بھی فراہم کرتے ہیں، کراچی کی سڑکوں پر 2 دہائیوں سے زائد عرصہ تک پیدل گھوم کر بانسری بجاکر محبت اور امن کا پیغام عام کرنے والے جعفر حسین عمر کے آخری حصے میں پہنچنے کے باوجود شناخت سے محروم ہیں۔

جعفر حسین کہتے ہیں کہ والد اور والدہ کے شناختی دستاویزات اور وفات کے سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نہ بن سکا، بیماری کے باوجود کئی ماہ تک نادرا کے دفتر کے دھکے کھاتے رہے اور دلبرداشتہ ہوکر جانا چھوڑ دیا لیکن اب ان کے 2 بچے جن کی عمریں بالترتیب 13اور 17سال ہیں والد کے شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں، غربت، وسائل کی کمی یا ذیابیطس اور ہیپپاٹائٹس نہیں بلکہ جس ملک سے وہ بے انتہا محبت کرتے ہیں اس کی شناخت سے محرومی جعفر حسین کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

جعفر حسین نے 16سال کی عمر میں بانسری بجانا سیکھی اس فن کے بنیادی رموز سے انھیں استاد صدیق نے آشنا کیا جو صدر کے علاقے میں بانسری فروخت کرتے تھے 16 سال کی عمر میں استاد صدیق کو بانسری بجاتے دیکھ کر جعفر حسین کو بھی بانسری سیکھنے کا شوق ہوا اور یہ شوق عمر ڈھلنے کے باوجود جوان ہے، جعفر حسین کا کہنا ہے کہ جب ان کی عمر 11 سال تھی والد کا سایہ سر سے ہٹ گیا، والد کی وفات کے بعد حالات کے رحم و کرم پر زندگی بسر کی 7 بہن بھائیوں میں سے ایک جعفر حسین کے والد مکانات کی تعمیر کیلیے ٹھیکے داری کرتے تھے۔

جعفر حسین کراچی کے گنجان آبادی والی پرانی آبادی لالوکھیت کے رہائشی ہیں، والدین کی وفات کے بعد آبائی گھر فروخت ہوگیا اس دن کے بعد سے آج تک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں بانسری بجاکر بچوں کی کفالت کی، جعفر حسین پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں لیکن کراچی میں بدامنی کے زمانے میں یہ ہنر بھی روزگار نہ دلاسکا اس دوران ان کے استاد نے انھیں بانسری فروخت کرکے روزگار کمانے کی ترغیب دی اور انھوں نے اپنے شوق کو ہی روزگار کا ذریعہ بنا لیا جو 23 برس سے جاری ہے۔

پاک بھارت کشیدگی میں شہری بھارتی دھنیں پسند نہیں کرتے

جعفر حسین کی ابتدائی یاد 71 کا جنگی ماحول ہے ، جعفر حسین کا کہنا ہے کہ وہ بہت چھوٹے تھے والد نے گھر کے قریب ایک خندق کھدوائی تھی اور جنگی طیاروں کی پروازوں کے شور سے سہم کر ہم اس خندق میں دبک جاتے تھے، جعفر حسین کہتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں پاک بھارت کشیدگی نے میرے بچپن کی وہ یادیں تازہ کردی ہیں اس زمانے میں جنگ کی ہولناکی کا اندازہ نہ تھا اب معلوم ہے کہ جنگ تباہی ہے اور غربت کا شکار دونوں ملک اس کے متحمل نہیں ہوسکتے لیکن جنگ مسلط کیے جانے پر باوقار قوموں کی طرح دفاع کرنے کے بھی حامی ہیں۔

جعفر حسین کرکٹ کے ستارے عمران خان کے پہلے روز سے مداح رہے اور سیاست میں عمران خان کی آمد پر بھی ان سے امیدیں باندھ لیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ جس طرح عمران خان نے پاک بھارت کشیدگی میں جس ذمے داری اور قائدانہ دور اندیشی سے فیصلے کیے ان کی عمران خان سے محبت اور بھی بڑھ گئی ہے جعفر حسین کے مطابق جس طرح افواج پاکستان اور حکومت نے ایک ہوکر کڑے وقت میں دنیا کے سامنے امن کی خواہش کا پیغام پیش کیا وہ مثالی ہے۔

جعفر حسین کہتے ہیں کہ جب حالیہ کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا اور دونوں ملکوں کی افواج سامنے آئیں تو میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کسی طرح بانسری کی دھنوں کے ذریعے محبت اور امن کا پیغا م عام کروں تو کشیدگی کے دنوں میں سڑکوں پر بانسری پر نعتیہ کلام اور قومی ترانوں کی دھنیں بکھیرتے رہے جس پر نوجوانوں نے بہت سراہا۔

جعفر حسین کہتے ہیں کہ بعض اوقات جب حالات کشیدہ ہوتے ہیں تو لوگ بھارتی دھنیں پسند نہیں کرتے جس پر وہ کہتے ہیں کہ موسیقی محبت کی زبان ہے اس پر قدغن یا روک نہ لگائی جائے ، موسیقی دلوں کو جوڑتی ہے اور دل سے نفرت کونکالتی ہے، جعفر حسین کہتے ہیں کہ موسیقی سے دل کو راحت ملتی ہے ایک سکون کا احساس ہوتا ہے سب سے بڑھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ محبت کیا چیز ہے اور اس میں کتنی طاقت ہے اس لیے میں کہتا ہوں کہ موسیقی کو نہ روکا جائے۔

غمزدہ دھنیں بکھیرنے پر دل گرفتہ لوگ گرد جمع ہو جاتے ہیں

جعفر حسین نے چند ہفتوں قبل سائیکل خریدی ا س سے قبل وہ پیدل بانسری فروخت کرتے رہے اور لیاقت آباد سے سرجانی ٹاؤن تک پیدل سفر کرنا ان کا معمول رہا تاہم بیماری کی وجہ سے پیدل چلنا ممکن نہیں رہا اس دوران رکشو ں کے کرایوں میں بھی کافی اضافہ ہوگیا جس کی وجہ سے سائیکل خرید لی۔

جعفر حسین ذیابیطس اور ہیپا ٹائٹس جیسی موذی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور وسائل کی کمی کی وجہ سے باقاعدہ علاج نہیں کراپارہے، صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک بانسریاں فروخت کرکے 800 روپے آمدن ہوتی ہے جس سے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ کرایہ بھی ادا کرتے ہیں مہنگائی کی وجہ سے زندگی مشکل ہورہی ہے لیکن جعفر حسین کسی قسم کی امداد وصول نہیں کرتے یہ ان کا اصول ہے کہ اگر کوئی امداد کی پیشکش کرتا بھی ہے تو اس سے کہتے ہیں کہ بانسری خرید لیں۔

جعفر حسین نے اب تک سیکڑوں افرا د کو بانسری بجانے کی تربیت فراہم کی اب بھی 6 شاگر ان کی زیرتربیت ہیں جن میں چند نوجوان ایک خاتون اور ایک عمررسیدہ مرد شہری شامل ہیں، جعفر حسین اپنی سائیکل پر ہی اپنے شاگردوں کے گھر یا دکان پر جاکر ہفتہ میں ایک کلاس لیتے ہیں جس کی اجرت 300 روپے وصول کرتے ہیں 3 ہفتے میں بانسری کے ابتدائی رموز سکھادیتے ہیں جس کے بعد ریاضت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے ان کے بہت سے شاگراس فن میں طاق ہوچکے ہیں۔

جعفر حسین کے مطابق ٹی وی چینلز، ہوٹلوں کی تقریبات میں بانسری بجانے سے معقول آمدن ہوجاتی ہے تاہم وہ اپنے مرض کی وجہ سے سانس پر گرفت نہیں رکھ پاتے اس لیے لائیو پروگرام میں بانسری نہیں بجاتے۔

جعفر حسین کہتے ہیں کہ جب میں غمزدہ دھنیں بکھیرتا ہوں تو میرے گر د دل گرفتہ لوگ جمع ہوجاتے ہیں میں ان کے چہروں سے ان کے احساس بھانپ لیتا ہوں لوگ اپنا کام کاج چھوڑ کر بانسری سننے آجاتے ہیں دیگر شہروں سے کام کاج کیلیے آنے والے مزدور محنت کش اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں یہ ایک طرح غم اور دکھ کا مرہم ہے میری بانسری سن کر غم زدہ افراد کے چہروں پر مسکراہٹ آجاتی ہے اسی طرح جو لوگ خوش ہیں اپنوں کے ساتھ ہیں کامیاب ہیں ان کی خوشیاں میری دھنیں سن کر بڑھ جاتی ہیں ان کے چہرے دمک اٹھتے ہیں بانسری کی آواز کانوں کے ذریعے دل تک اترتی ہے اور گہرا اثر چھوڑتی ہے، بدلے میں لوگ مجھے عزت اور پیار دیتے ہیں میں کبھی نقد مدد نہیں لیتا زیادہ سے زیادہ بہت اچھے پرخلوص مداحوں کے ساتھ چائے پی لیتا ہوں ۔

پاکستان میں بغیرشناخت کے زندگی گزارنے کا دکھ ہے

جعفر حسین کا سب سے بڑا دکھ شناخت کا نہ ہونا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بغیر شناخت کے زندگی گزار لی لیکن میرے بچوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کی ایک بڑی خواہش فہد مصطفی کے شو میں شرکت کرنا ہے تاکہ ملک بھر میں بانسری کے شوقین افراد کو اپنی دھنوں سے تفریح فراہم کرسکیں، جعفر حسین ملک میں امن کے قیام سے بہت خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کراچی میں بدامنی اور دہشت گردی کا زمانہ بہت قریب سے دیکھا خود انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور محدود آمدن کے باوجود مجھ سے بھتہ وصول کیا۔

بانس سے بننے والی اچھی بانسری کی آواز بہت پرکشش ہوتی ہے

استاد جعفر حسین نے نوجوانوں کے لیے بھی بہت سے نغمات اور گیتوں کی دھنوں پر عبور حاصل کیا ہے جس میں بالی ووڈ کی فلم دھڑکن کا مشہور گانا ’’دل نے یہ کہا ہے دل سے‘‘ شامل ہے جو نوجوان زیادہ سننا پسند کرتے ہیں جعفر حسین سے زیادہ تر بچے بانسریاں خریدتے ہیں جن کی قیمت 30 سے 50 روپے تک ہوتی ہے بڑے افراد کے لیے ڈھائی 3 سو روپے تک کی بانسریاں فروخت کرتے ہیں۔

جعفر حسین کے مطابق دراصل یہ الغوزہ ہے بانسری ایک مشکل انسٹرومنٹ ہے اور نئے سیکھنے والوں کے لیے مشکل ہے ، اچھی بانسری کی قیمت ہزاروں روپے ہوتی ہے جو پیشہ ور افراد خریدتے ہیں اچھی بانسری بانس سے بنائی جاتی ہے جس کی آواز بہت پرکشش ہوتی ہے۔

کراچی کے امن کیلیے پولیس،رینجرز فوج اورشہریوں نے بھی قربانیاں دیں

شہر کے امن کے لیے پولیس، رینجرز اور افواج پاکستان نے بھی عوام کے ساتھ قربانیاں دیں یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی شہر اور ملک ترقی کرے گا اس کے دشمن اور بدخواہوں کا ہمیشہ منہ کالا ہو گا، جعفر حسین موجودہ وزیر اعظم خان سے بہت پرامید ہیں انھیں یقین ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کا شمار دنیا کی ترقی یافتہ اور مہذب قوموں میں ہوگا، جعفر حسین ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے اور عوامی امنگوں کے مطابق جارحیت کا جواب شجاعت سے دینے پر بہت خوش ہیں۔

امن لوٹ آنے سے شہری اب موسیقی پرتوجہ دیتے ہیں، جعفرحسین

جعفر حسین کہتے ہیں کہ کراچی میں بدامنی کے دور میں بھی اپنا کام جاری رکھا اور سڑکوں پر بانسری بجائی اور فروخت کی اس وقت اور آج کے وقت میں زمین آسمان کا فرق ہے حالات بہتر ہونے اور شہر میں امن قائم ہونے سے ان کا کام بھی بڑھ گیا ہے اب لوگ موسیقی پر توجہ دیتے ہیں فنکاروں کی عزت کرتے ہیں، جعفر حسین کو ذاتی طور پر محمد رفیع کے گانوں کی دھنیں پسند ہیں جن میں یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں سرفہرست ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔