بھارتی عزائم اور ہماری محتاجی

ذیشان نواز  منگل 5 مارچ 2019
جب تک ہم محتاج رہیں گے، ہمیں بھارت بھی آنکھیں دکھاتارہے گا اور اسلامی ممالک بھی کرب و اذیت میں مبتلاکرتے رہیں گے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جب تک ہم محتاج رہیں گے، ہمیں بھارت بھی آنکھیں دکھاتارہے گا اور اسلامی ممالک بھی کرب و اذیت میں مبتلاکرتے رہیں گے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ساٹھ کی دہائی میں جب بھارت نے انگڑائیاں لینی شروع کیں تو اس نے اپنے پڑوسی ممالک کو زیر کرنے کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے۔ چھوٹے ممالک نے تو آنکھیں جھکانے میں ہی عافیت جانی جبکہ چین اور پاکستان نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ چین اور پاکستان، دونوں ہی نے باری باری اسےعبرت ناک شکست دو چار کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چین نے تو خود انحصاری کا راستہ اختیار کرلیا اور خود کو خاصی حد بھارتی گیدڑ بھبکیوں سے محفوظ کر لیا جبکہ پاکستان محتاجی کے دور سے نہ نکل سکا۔

جب تک ہم دوسروں کے محتاج رہیں گے، ہمیں بھارت بھی آنکھیں دکھاتا رہے گا اور ہمارے نام نہاد دوست ممالک بھی ہمارے دشمن کو اسلامی ممالک کی تنظیم کے اہم اجلاس میں بلا کر ہمیں کرب و اذیت میں مبتلا کرتے رہیں گے۔ سوائے ترکی کے کسی ملک نے اپنے معاشی مفادات کو داؤ پر لگانے کا خطرہ مول نہیں لیا اور کھل کر بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت نہ کی۔

اس کشیدہ ماحول میں بھارتی پائلٹ کی رہائی، حکومت وقت کےلیے کڑا امتحان تھی۔ یقیناً یہ ایک مثبت قدم ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ دنیا پر واضح ہو رہا ہے کہ کون خطے کے امن کو داؤ پہ لگائے بیٹھا ہے۔ بھارت، پاکستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ پاکستان ہر قسم کی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہے کیوں کہ جنگ کے لیے مطلوب جذبہ تو ہم 48 اور 65 میں بھی دکھا چکے ہیں مگر معاشی محتاجی کے اس دور میں پاکستان کسی قسم کے جنگی جنون کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دوسری طرف دشمنوں کو خوب معلوم ہے کہ گوادر بندرگاہ کی تعمیر و ترقی پاکستان کو خود انحصاری کی جانب گامزن کرسکتی ہے۔ اگر پاکستان بے سرو سامانی کی حالت میں ہمیں شکست دے سکتا ہے تو معاشی طور پر خوشحال پاکستان کو نیچا دکھانا تو ناممکن ہوگا۔

پاکستان کےلیے آنے والے بارہ سے پندرہ سال بہت اہم ہیں۔ گوادر میں پہلے مرحلے میں شروع کیے جانے والے منصوبے تکمیل کے قریب ہیں اور دوسرے مرحلے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا وقت ہے۔ اس وقت نہایت صبر اور بہترین حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو کشمیر کی آزادی کا سودا کیے بغیر خود انحصاری کی جانب بڑھنا ہوگا۔ ایک جانب ملک میں بڑھتی ہوئی تعداد میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوان ہیں جبکہ دوسری جانب ٹیکنالوجی کی کمی اور زائد لاگت کے باعث بین الاقوامی منڈیوں سے مقابلہ نہ کرسکنے سے بند ہوتے ہوئے ملکی کارخانے معیشت کا بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ تعلیم اور تحقیق کا معیار بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ کے شعبے میں فارغ التحصیل نوجوانوں کےلیے چین، ملائیشیا اور عرب ممالک کی صنعتوں میں انٹرن شپ کےلیے اقدامات کیے جائیں تاکہ بجائے نوکری کا انتظار کرنے کے وہ عملی کام سیکھ سکیں۔

یقیناً یہ قدم ہمارے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے میں مددگار ہوگا اور آنے والے وقت میں نہ صرف سی پیک کے تحت لگنے والی صنعتوں میں افرادی قوت کی فراہمی میں مددگار ہوگا بلکہ خود انحصاری کی جانب اہم قدم ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان کی خارجہ پالیسی بہت اہم ہے۔ موجودہ حالات میں اور آنے والے وقت میں سکھ کمیونٹی کا کردار بہت اہم ہے۔ کرتار پور بارڈر پر جاری کام کسی صورت نہیں رکنا چاہیے۔ ہمیں سکھوں کو باور کرانا ہو گا کہ جنونی ہندوؤں کے زیر تسلط پنجاب میں نہ مسلمان محفوظ ہیں، نہ سکھ اور نہ خطے کا امن محفوظ ہے؛ لہذا بھارتی پنجاب کو اس خطرے سے محفوظ رکھنے کےلیے خالصتان ناگزیر ہے۔ کشمیر کی آزادی بھی اسی میں پنہاں ہے۔ یاد رہے کہ انڈیا سے کشمیر جانے والے راستے بھی بھارتی پنجاب سے گزرتے ہیں۔

آخری بات جو اہم ترین ہے اور جس میں ہماری بقا بھی پنہاں ہے، وہ یہ ہے کہ ہمیں ایک جنگ اپنے گھروں میں بھی لڑنی ہے۔ من حیث القوم اس وقت ہم بغیر سوچے سمجھے ہندوستانی تہذیب، تمدن اور ثقافت کی اندھی تقلید میں مصروف ہیں۔ بہتر ہے کہ ہم ’’رسم و رواج‘‘ کے نام پر اختیار کی گئی ان خرافات کو خیرباد کہہ دیں جو ہمارا وقت اور پیسہ برباد کرتی ہیں۔ ہم انڈین ڈرامے اور فلمیں دیکھنے کے بجائے اسلامی تاریخ کے ہیروز کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو انڈین کارٹون دکھانے کے بجائے انہیں مسلم ہیروز کی زندگیوں پر لکھی گئی سبق آموز کتابیں پڑھنے کو دے سکتے ہیں۔

تہذیب کی جنگ ہی اصل جنگ ہے۔ اگر ہم دو قومی نظریہ بھول گئے تو جیت کر بھی ہار جائیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ذیشان نواز

ذیشان نواز

بلاگر نےانٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی سے ایم ایس سی (اکنامکس اینڈ فنانس) کیا ہوا ہے اور آج کل راولپنڈی کے ایک تعلیمی ادارے میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان سے فیس بُک آئی ڈی zee.shann.12 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔