’’ہم گولی نہیں ماریں گے‘‘

طارق محمود میاں  ہفتہ 3 اگست 2013
tariq@tariqmian.com

[email protected]

شہر میں بم کا ایک خوفناک دھماکا ہوا، دور دور تک آگ لگ گئی اور بہت سے معصوم انسان مارے گئے۔ تو یہ اس کے بعد کی بات ہے۔

چار سے آٹھ برس تک کی عمر کے بچے اس پر اظہار خیال کررہے تھے۔ میں گویا دفتر سے جلد واپس آنے کی سزا بھگت رہا تھا۔ محلے کے یہ بچے دھائیں دھائیں کی آوازیں نکال کے کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ میں نے انھیں کمرے سے باہر بھگایا تو وہ لائونج میں چلے گئے۔ ان کی آوازیں اب بھی آرہی تھیں۔

کسی بڑے بچے نے ایک زور دار دھماکا کیا تو سب بچوں نے ایک لمبی سی ’’اوووئی ی ی …‘‘ کی آواز نکالی اور پھرپوچھا ’’ یہ کیا تھا؟‘‘۔ وہ بولا ’’یہ جمبوجیٹ کی بیلے لینڈنگ تھی ۔ میں پہیے نکالنا بھول گیا تھا۔‘‘

’’جی نہیں جہاز کی آواز ایسی نہیں ہوتی‘‘ ایک قدرے چھوٹی بچی نے کہا ’’جہاز کی آواز ایسی ہوتی ہے جیسے اوپر والے کمرے کی چھت گرپڑی ہو۔ ہمارے اسکول میں بھی آواز آئی تھی۔ سب بچے ڈر کے رونے لگے تھے۔‘‘

’’جی نہیں جھوٹ‘‘ دو تین اور بچے ایک ساتھ بولے ’’تمہارے اسکول نہیں ہمارے اسکول میں آواز آئی تھی۔ ہم سے باتیں سن کر تم بتا رہی ہو جھوٹی…‘‘

’’جی ہاں۔ ہمارے اسکول میں بھی دھماکا ہوا تھا۔ مرے ابّی کے آفس میں بھی ہوا تھا۔ بڑے زور کا پٹاخا بجا تھا۔‘‘

’’ہاں مرے بابا بھی بتارہے تھے کہ ان کے دفتر کی کھڑکیاں بجنے لگی تھیں۔ میز بھی ہلا تھا۔ ان کا پین بھی گر کے ٹوٹ گیا۔ سارا کارپٹ خراب ہوگیا‘‘ ایک اور بچی نے شہادت دی۔

’’کوئی نہیں جی۔ پٹاخہ نہیں بجا تھا۔ بس زمین ہل رہی تھی۔ چپکے چپکے سے … بڑا مزہ آرہا تھا۔‘‘

مجھے یوں محسوس ہوا کہ بچے کچھ کنفیوزن کا شکار ہیں اور بہت سی الگ الگ باتوں کو خلط ملط کررہے ہیں۔ لہٰذا میں اٹھ کر باہر آگیا اور انھیں تفصیل سے بتایا کہ آج جو دھماکا ہوا ہے اور دھواں اٹھا ہے، آگ لگی ہے، یہ تخریب کاری ہے۔ گندے آدمیوں کا کام ہے۔ وہ دھماکے جو شہر میں ہر جگہ اور ہر اسکول میں سنے گئے اور یوں محسوس ہوئے کہ جیسے کہیں قریب ہی چھت پر ہوئے ہوں وہ جیٹ جہاز نے آواز کی حد رفتارکو عبور کیا تھا۔ آواز کے بغیر جو زمین ہلتی ہے تو یہ چیز زلزلہ کہلاتی ہے۔ یہ سب سے خطرناک ہوتی ہے۔ عمارتیں گرجاتی ہیں، زمین پھٹ جاتی ہے، سڑکیں گم ہوجاتی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں یہ بتاکے واپس کمرے میں چلا آیا۔

کچھ دیر باہر خاموشی چھائی رہی مجھے نہیں معلوم تھا کہ بچے زلزلے کے ذکر سے یوں سہم جائیں گے۔ بالآخر بڑے بچے نے دھیمے سیلہجے میں خاموشی کو توڑا ’’ہماری مس بھی بتارہی تھیں کہ جب زلزلہ آتا ہے نا تو سارا شہر تباہ ہوجاتا ہے۔ سب لوگ مرجاتے ہیں۔‘‘

’’کیوں مرجاتے ہیں؟ کون ماردیتا ہے ان کو‘‘۔ پانچ سالہ بچی نے پریشانی سے پوچھا۔ اس کی آواز کپکپارہی تھی۔

’’ابھی انکل نے بتایا تو تھا کہ زمین پھٹ جاتی ہے اور مکان گر جاتے ہیں‘‘ ایک اور بچے نے جواب دیا۔

’’زمین کیسے پھٹ جاتی ہے؟‘‘

’’بس پھٹ جاتی ہے… اور پھر اس میں سے بڑی بڑی بلائیں نکلتی ہیں جو انسانوں کو کھاجاتی ہیں اور مکانوں کو گرادیتی ہیں۔‘‘

’’ہاں بہت بڑی بڑی بلائیں نکلتی ہیں ۔ کنگ کانگ سے بھی بڑی۔ سو سو منزلوں جتنی اونچی۔ بہت لمبی زبانوں والی۔‘‘

’’ڈینو سارزاور ایلی گیٹرزنکلتے ہیں۔ یوں کرکے ایک بار دم ہلاتے ہیں تو دس ہزار مکان گر جاتے ہیں۔ پتہ ہے؟‘‘

چار سال کی بچی سہم کے رونے لگی

بڑا بچہ اسے چپ کرانے لگا۔ ’’…دیکھو زلزلہ آیا تو ہم بھاگ کے دوسرے شہر چلے جائیں گے۔‘‘

’’جی نہیں۔ دوسرے شہر کیسے جائو گے؟ زمین تو پھٹ جائے گی۔ سڑک بھی ٹوٹ جائے گی۔ بڑی تیزی سے۔‘‘

’’اور جناب ڈینو سارز تو یوں یوں کرکے بڑی جلدی جلدی سب کو کھاجائیں گے۔‘‘

’’پھر کیا کیا جائے؟‘‘  بچے پھر سے پریشان ہوگئے۔

’’میں ان کو گولی ماردوں گا‘۔ ساڑھے چار سالہ بچہ سینہ تان کے بولا۔

’’میں ان پر ڈز ڈز ڈز راکٹ پھینکوں گا‘‘ چھ سالہ بچے نے اعلان کیا۔

’’میں ان کو ایٹم بم سے اڑادوں گی‘‘

’’میں نائٹ رائیڈر والی کار سے ان کو ٹکریں ماروں گا‘‘

’’میں ان کو آگ لگادوں گا‘‘

’’میں ان کی دُم کاٹ دوں گی‘‘

اچانک باہر پھر خاموشی چھاگئی۔ میں جانتا تھا کہ بچے خوف زدہ ہیں ورنہ وہ چپ رہنے والے نہیں تھے۔ میں نے سوچا باہر چل کے انھیں صحیح طریقہ بتاتا ہوں اور سمجھاتا ہوں کہ جیسا تم سوچتے ہو ایسے نہیں کرتے۔ زلزلہ آئے تو مکانوں سے باہر نکل کے کھلے میدان تک پہنچنا چاہیے اور ……

’’سنو سنو … سب بچو سنو ‘‘۔ باہر پانچ سالہ بچی نے کھڑے ہوکر غیر معمولی طور پر بلند آواز میں اعلان کیا۔ اس کی آواز اتنی بلند تھی اور لہجے میں اس قدر اعتماد تھا کہ میں ٹھٹھک کر راستے میں ہی رک گیا۔

’’…ایک آئیڈیا آیا ہے۔ میرے دماغ میں ایک آئیڈیاآیا ہے۔ بولو نہیں… … سب بچے سنو  ہم گولی نہیں ماریں گے اور ڈینو سارز کو آگ بھی نہیں لگائیں گے۔ ہم پتہ ہے کیا کریں گے؟‘‘ سب بچے ہمہ تن گوش ہوگئے ہیں۔ میں بھی وہیں رکا رہا۔’’… ہم یہ کریں گے کہ ہم اچھے بچے بن جائیں گے ایک دوسرے سے لڑنا بند کردیں گے اور اللہ میاں سے دعا کریں گے کہ اللہ میاں ہمیں اور ہمارے ملک کو بچالے۔ ان سب بلائوں کو چھوٹا چھوٹا بنادے۔ بالکل چھوٹا چھوٹا سا۔ کھلونوں جتنا چھوٹا۔ بس اللہ میاں انھیں چھوٹا بنادے گا۔‘‘

سب بچوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور سب نے نعرہ لگایا … ’’ہررے‘‘ ۔ اور میں یوں تیزی سے اپنے کمرے میں لوٹ آیا کہ جیسے ان بچوں کے سامنے میرا اپنا قد بھی چھوٹا ہورہا ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔