مگ 21 کی تباہی: مودی نے بکرا دے کر گائے بچا لی

سید محمد مدثر  جمعرات 7 مارچ 2019
سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر، بھارتی مگ 21 سے کہیں بہتر ہے۔ (فوٹو: فائل)

سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر، بھارتی مگ 21 سے کہیں بہتر ہے۔ (فوٹو: فائل)

بھارت نے مگ 21 طیارے ہی کیوں بھیجے؟ ہم نے جب سے بھارت کے دو طیارے گرائے ہیں، یہ سوال مسلسل میرے ذہن میں گھوم رہا ہے۔ بھارت نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان اس وقت پوری طرح جے ایف 17 تھنڈر پر انحصار کررہا ہے (جنہیں ایف 16 کے برابر نہ سہی لیکن قریب قریب تصور کیا جاسکتا ہے) اور یہ کہ بھارت کے جو بھی طیارے ایل او سی پر جائیں گے ان کا ان ہی طیاروں سے سامنا ہوگا، یہ سب جانتے ہوئے بھی بھارت نے 1960 کے مگ 21 طیارے کیوں بھیجے؟

اس وقت بھارتی فضائیہ کے بیڑے میں سخوئی ایس یو 30 فلینکر جیسے طیارے بھی موجود ہیں جو جے ایف 17 تھنڈر سے مقابلے کےلیے مگ 21 کی نسبت ہر لحاظ سے بہتر آپشن تھے۔ پھر بھارت نے مگ 21 بھیجنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

میں نے اس بارے میں بہت سوچا اور پھر مجھے ایک کہانی یاد آئی جو زمانہ طالب علمی میں میرے ایک استاد نے سنائی تھی۔ وہ کراچی کے رہائشی تھے اور ان دنوں کراچی میں چھینا جھپٹی اور ڈکیتیاں عام تھیں۔ تو ایسے ہی کسی دن وہ اپنے کسی عزیز کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے کہ اچانک ڈاکو آئے اور ریسٹورنٹ میں بیٹھے تمام افراد کو لوٹنا شروع کردیا۔ ڈاکو ان کے پاس آئے تو انہوں نے بغیر کسی مزاحمت کے چپ چاپ جیب میں موجود 25 ہزار روپے نکال کر ان کے ہاتھ میں رکھ دیئے۔ جب ڈاکو چلے گئے تو ان کے ساتھ بیٹھے شخص نے ان سے پوچھا کہ بھائی تمہارے پاس اتنا وقت تھا، پیسے ادھر ادھر چھپا دیتے اور بچالیتے۔ تو انہوں نے اسے بتایا کہ اصل میں اس وقت ان کے پاس بیگ میں 6 لاکھ روپے کے لگ بھگ موجود تھے جنہیں انہوں نے نیچے چھپایا اور جیب میں رکھے 25ہزار کی قربانی دے کر وہ بڑی رقم بچالی۔

بقول ان کے، انہوں نے بکرا قربان کرکے گائے بچالی۔

ان کی یہ مثال مجھے آج تک یاد ہے لیکن ان کی اس کہانی نے مجھے اس وقت اتنا متاثر نہیں کیا تھا۔ لیکن نریندر مودی کا رافیل طیاروں سے متعلق تازہ بیان سننے کے بعد اس کہانی میں چھپا سبق اب مجھے سمجھ میں آںے لگا ہے کہ آپ کس طرح چھوٹا نقصان کرکے بڑا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

بھارت کے دو مگ 21 طیارے گرنے کے بعد سے جس طرح نریندر مودی رافیل طیاروں کی ڈیل کا الو سیدھا کرنے میں لگے ہیں، یہ بات طے ہے کہ یہ کہانی اتنی سیدھی نہیں۔ بھارت فضائی جنگ تو ہار گیا لیکن نریندر مودی اس ہار کی آڑ میں سیاسی جنگ جیتنے جارہے ہیں۔ کیوں کہ 1965 کی جنگ سے ہی پاک فضائیہ کو بھارت پر برتری حاصل رہی ہے؛ اور بالاکوٹ میں بھارتی دراندازی کے بعد ایل او سی پر جو کچھ ہوا، جس طرح بھارت کے دو مگ 21 طیارے گرائے گئے، یہ اسی فضائی برتری کا ثبوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیویارک ٹائمز جیسا عالمی اخبار بھی اس جنگ میں پاکستان کو فاتح قرار دے رہا ہے۔

لیکن یہاں پھر وہی سوال اٹھتا ہے کہ جس وقت پاکستان نے ایل او سی پر 6 ٹارگٹس کو لاک کیا، بھارت نے مقابلے کےلیے مگ 21 طیارے ہی کیوں بھیجے؟ جبکہ بھارت بخوبی جانتا تھا کہ بارڈر پر ان مگ طیاروں کا سامنا جے ایف 17 تھنڈر سے ہونے والا ہے، جو نہ صرف تیز بلکہ جدید میزائل ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہیں۔ مگر یہ سب جاننے کے باوجود انہوں نے مقابلے کےلیے مگ طیارے بھیجے جو 1960 سے بھارتی فضائیہ کا حصہ ہیں۔ آخر کس لیے؟ بے شک بھارت نے انہیں کسی حد تک اپ گریڈ ضرور کیا ہے لیکن یہ طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے مقابلے کےلیے کسی بھی طرح موزوں نہیں تھے۔

تو پھر بھارت نے یہ فیصلہ کیوں لیا؟

یہ وہ سوال ہے جس نے اس ساری صورتحال کو پہیلی بنادیا ہے؛ اور لگ یہی رہا ہے کہ مودی صاحب بھی مگ طیاروں کی شکل میں بکرا قربان کرکے اب رافیل طیاروں کی ڈیل کی گائے بچانے کے چکر میں ہیں۔ تب ہی تو وہ بضد ہیں کہ اگر انڈین فلیٹ میں فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے ہوتے تو فضائی لڑائی کے نتائج کچھ اور ہوتے۔ اس کے باوجود کہ بھارت کے پاس پہلے سے ہی سخوئی ایس یو 30 فلینکر طیارے موجود ہیں جو جے ایف 17 تھنڈر کے مقابلے کےلیے ہر لحاظ سے بہتر تھے۔

پھر ایک اور چیز جو اب تک واضح نہیں، وہ بھارتی طیارے گرانے کا طریقہ کار ہے۔

ہم نے بھارت کے دو طیارے گرانے کا دعویٰ تو کیا، یہ بھی بتادیا کہ اس کارروائی میں ایف سولہ طیارے استعمال نہیں ہوئے۔ لیکن ہم نے یہ کام کیا کیسے؟ ان طیاروں کو کس طرح ٹارگٹ کیا گیا؟ میزائل کے ذریعے ان طیاروں کو گرایا گیا یا پھر فائرنگ کرکے ہم نے دونوں طیارے تباہ کئے۔ اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ کیونکہ بھارتی افواج کے سربراہان نے اپنی پریس کانفرنس میں جس میزائل کے ٹکڑے دکھائے ہیں، وہ مخصوص ’’آمرام‘‘ (AMRAAM) یعنی ’’ایڈوانسڈ میڈیم رینج ایئر ٹو ایئر میزائل‘‘ ہے جو عام طور پر ایف 16 سے ہی فائر کیا جاسکتا ہے، جس سے متعلق اطلاعات ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ہم نے جے ایف 17 تھنڈر میں بھی نصب کی ہے۔ البتہ ہم ایسا کوئی دعوی اس لیے نہیں کرسکتے کیونکہ ایسا کرنے پر ٹیکنالوجی کاپی رائٹس کا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جس میزائل کا ملبہ بھارت مسلسل دکھارہا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ میزائل امریکا کی جانب سے تائیوان کو بیچا گیا تھا۔ اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ چین کے تائیوان سے کشیدہ تعلقات کے باعث پاکستان کی بھی تائیوان سے نہیں بنتی۔

تو پھر اس میزائل کے ٹکڑے بھارت کو کیسے ملے؟

جو بھی ہو، بھارت اس صورتحال سے پوری طرح فائدہ اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے اور اس میزائل کی آڑ میں امریکا سے آمرام کی ڈیل کرنے جارہا ہے۔ اگر یہ ڈیل ہوجاتی ہے تو 1965 کے بعد یہ پہلی بار ہوگا کہ بھارت پر ہماری فضائی برتری ختم ہوجائے گی۔ کیونکہ آمرام سے اگر کسی ٹارگٹ کو لاک کردیا جائے تو اس صورت میں ٹارگٹ کا بچنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ پھر رافیل طیاروں، سخوئی ایس یو 30 اور برطانوی ساختہ جیگوار کی موجودگی میں بھارتی فلیٹ کا مقابلہ بھی آسان نہیں ہوگا۔ بظاہر لگ یہی رہا ہے کہ بھارت فضائی جنگ ہار گیا ہے۔ لیکن اس جنگ کی آڑ میں نریندر مودی سیاسی جنگ جیتنے جارہے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سید محمد مدثر

سید محمد مدثر

بلاگر پچھلے 14سال سے صحافت میں ہیں اور ’’آج نیوز‘‘ سے منسلک ہیں۔ طویل عرصے سے مختلف ویب سائٹس پر بلاگز لکھتے رہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔