پری پیڈ کنکشن بند کرنے کی تجویز ٹیلی کام انڈسٹری کیلئے تباہ کن قرار

کاشف حسین / بزنس رپورٹر  ہفتہ 25 اگست 2012
ٹیلی کام انڈسٹری نے پری پیڈکنکشنزیکدم بند کرنے کی تجویزکی مخالفت کا فیصلہ کرلیا،فرمزکوباضابطہ تجویزملی نہ مشاورتی اجلاس کانوٹس جاری کیا گیا،ذرائع۔ فوٹو: فائل

ٹیلی کام انڈسٹری نے پری پیڈکنکشنزیکدم بند کرنے کی تجویزکی مخالفت کا فیصلہ کرلیا،فرمزکوباضابطہ تجویزملی نہ مشاورتی اجلاس کانوٹس جاری کیا گیا،ذرائع۔ فوٹو: فائل

کراچی: چاند رات سے عید کی صبح تک کراچی لاہور، ملتان اور کوئٹہ میں موبائل سروس بند ہونے سے موبائل کمپنیوں کو ریونیو کی مد میں 2.5ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا، موبائل کمپنیوں کو وفاقی حکومت سے ابھی تک پری پیڈ کنکشن بند کرنے کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

پری پیڈ کنکشنز کی یکدم بندش کا فیصلہ موبائل فون کمپنیوں کیلیے ناقابل قبول ہوگا بالخصوص موبائل بینکنگ کے فروغ کیلیے کی جانے والی کوششوں کو شدید دھچکہ پہنچے گا، ٹیلی کام واحد شعبہ ہے جس میں بدترین معاشی بحران میں بھی غیرملکی سرمایہ کاری ہوتی رہی، سیکیورٹی کی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کیلیے ٹیلی کام انڈسٹری کیلیے غیرموافق پالیسیوں سے غیرملکی سرمایہ کاری، حکومتی محصولات اور روزگار کے مواقع بھی کم ہونے کا خدشہ ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری کے ماہرین نے پری پیڈ کنکشن بند کرنے کی تجویز کو انڈسٹری کیلیے تباہ کن قرار دیا ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے مطابق ابھی تک حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر یہ تجویز ٹیلی کام انڈسٹری کے سامنے نہیں رکھی گئی اور نہ ہی مشاورتی اجلاس کے بارے میں کوئی نوٹس جاری کیا گیا تاہم ٹیلی کام انڈسٹری نے پری پیڈ کنکشنز یکدم بند کرنے کی تجویز کی سخت مخالفت اور شدید ردعمل ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈسٹری ذرائع کے مطابق پری پیڈ کنکشنز کا مقصد غریب طبقے تک ٹیلی کام کی سہولت فراہم کرنا تھا، یہی وجہ ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں غریب افراد بھی 20 روپے کا بیلنس لوڈ کروا کر سہولت سے فائدہ اٹھارہے ہیں، موبائل فون استعمال کرنے والی ملک کی بڑی آبادی پوسٹ پیڈ سروس کیلیے ایک ہزار روپے کا بھی سیکیورٹی ڈپازٹ جمع نہیں کراسکتی، پری پیڈ سروس میں نت نئے پیکیجز کے ذریعے صارف کو باسہولت اور ضرورت کے مطابق خدمات فراہم کی جارہی ہیں جو پوسٹ پیڈ میں ناممکن ہوں گی۔

ٹیلی کام انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق چاند رات سے عید کی صبح تک کراچی، لاہور، کوئٹہ اور ملتان میں سروس منقطع رکھنے سے ان شہروں کے موبائل فون متاثر ہوئے، ان شہروں کی مجموعی آبادی 3کروڑ 20 لاکھ سے زائد آبادی ہے جس میں سے 70فیصد آبادی موبائل فون سروس استعمال کرتی ہے جس کی تعداد 2کروڑ 20لاکھ کے لکھ بھگ ہے، یہ تعداد ملک میں موبائل فون استعمال کرنے والے مجموعی صارفین کی تعداد کا 20فیصد ہے، پاکستان میں موبائل فون صارفین ماہانہ 230روپے فی فرد خرچ کرتے ہیں جس کا عام دنوں میں یومیہ خرچ 7سے 8روپے بنتا ہے جو عید پر عام دنوں کی نسبت 15سے 20گنا زائد ہوتا ہے، کراچی، لاہور، ملتان اور کوئٹہ کے 2کروڑ 20لاکھ صارفین کو چاند رات سے عید کی صبح تک سروس میسر نہ ہونے سے اوسط خرچ کے لحاظ سے موبائل کمپنیوں کو 2.5ارب روپے سے زائد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔