ایک خط پر مزید ردعمل

اسلم خان  اتوار 4 اگست 2013
budha.goraya@yahoo.com

[email protected]

مسلح افواج اس وقت ’دوستوں‘ اور دشمنوں کے نشانہ پر ہیں۔ ان کو صرف اور صرف اس لیے ہدف بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی واحد ضامن ہیں۔ برصغیر میں جنگ خارج از امکان ہو چکی ہے کیونکہ آج ہم قابل اعتماد ایٹمی ہتھیار اور انھیں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے  کہ ہود بھائی جیسے دانشور اس ایٹمی پروگرام کے جنازے نکالتے رہے ہیں اور قبریں بناتے رہے ہیں۔

نئے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے شایع ہونے والے کالم پر برادر کبیر بریگیڈئیر (ر) صولت رضا کا گرامی نامہ شایع کیا جس پر مزید ردعمل سامنے آیا ہے۔ایک قاری نے بعض وجوہات کی بنا پر اپنا نام نہ ظاہر کر نے کی درخواست کرتے ہوئے فرمایا۔

خان صاحب! صولت رضا صاحب نے ماضی کی فوجی قیادت کا ایسے دفاع کیا ہے جیسے انھوں نے کبھی کوئی غلط کام نہ کیا ہو۔

٭جہاں تک تعلق جنرل گل حسن کا ہے وہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بغاوت کی تیاری کر چکے تھے۔

٭اسی طرح جناب صولت رضا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل آصف نواز جناب نواز شریف کا تختہ اُلٹنے کی تیاریاں نہیں کر رہے تھے لیکن اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ جب کہ اس وقت جنرل آصف نواز ایک انگریزی اخبار کی مدیرہ کے ذریعے محترمہ بے نظیر بھٹو سے مسلسل رابطے میں تھے (یہ کالم نگار مدتوں انگریزی معاصر میں کام کرتا رہا ہے۔ اس لیے ادب آداب کی وجہ سے ان کا نام حذف کر رہا ہوں) جنرل آصف نواز مرحوم اتنے بھی جمہوری مزاج  نہیں تھے، جتنا بریگیڈئیر صاحب ظاہر کر رہے ہیں۔

٭ اسی طرح محترم صولت رضا صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل جہانگیر کرامت کے تقرر کے وقت لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کو نظر انداز کر کے ترقی دی گئی جو حقائق کے منافی ہے۔ ہماری قیادت کو مثبت انداز میں آگے مستقبل کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے جس کے لیے قدیم اور فرسودہ ذہنیت (Mind Set) کو بدلنا ہو گا، بھارت سے دشمنی کے خوف کی بنا ء پر یہ قوم کب تک مزید دکھ سہتی رہے گی۔

٭دوسرا خط ایک نوجوان نعمان افضل کا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں، بریگیڈئیر صولت رضا نے مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اور جناب نواز شریف کی غلطیاں تو گنوا دیں لیکن جنرل پرویز مشرف کو بہادر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔٭مشرف کو بچانے کے لیے پس پردہ جو کچھ ہو رہا ہے، ساری قوم اس بخوبی آگاہ ہے اور ان کی شاہی قید کے بارے میں کون نہیں جانتا۔

ویسے نئے آرمی چیف کا تقرر اتنا بھی آسان اور سادہ معاملہ  نہیں ہے۔

نمونے کے ان دو خطوط کے علاوہ سنگی ساتھیوں اور احباب کے تبصرے اور سازشی تھیوریوں کا کیا لکھنا۔

یہ کالم نگار، نصف صدی گزارنے اور متنوع تجربات اور حادثات سے گذرنے اور آدھی دنیا کی صحرا نوردی کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اس وقت ’دوستوں‘ اور دشمنوں کے نشانہ پر ہیں ان کو صرف اور صرف اس لیے ہدف بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی واحد ضامن ہیں۔

رہے بھارت سے پرجوش تعلقات تو انھیں ہمیں اپنے لہو رنگ ماضی اور مرحوم مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ بی جے پی کے اٹل بہاری واجپائی ہوں، فلسفی اور پنجابی دانشور اندر کمار گجرال یا پھر سادہ اطوار ڈاکٹر منموہن سنگھ ، کوئی بھی بھارتی وزیر اعظم اپنی ریاستی پالیسی کو نظر انداز کر کے پاکستان سے پیار کی پینگ کا ہُلارا نہیں لے سکتا۔

جہاد افغانستان میں خط اول پر لڑنے کی سعادت پر آج تک فخر کرنے والے اس کالم نگار کے جذبات اس معاملے میں کیا ہو سکتے ہیں جس کے بابا جی، حاجی رمضان خاں نے اسے بچپن میں پٹیالہ سے ہجرت کی خون رنگ کہانیاں سنائی ہوں جو ہر نماز کے بعد پٹیالہ کی طرف منہ کر کے اپنے والدین اور بزرگوں کی بخشش کی دعا کیا کرتے تھے۔ پاکستان سے پر جوش تعلقات ساری ہندوستانی قوم کا مسئلہ نہیں ہیں صرف دو فیصد پنجابی اپنے پرکھوں کے دیس، خاص طور پر بابا جی، بابا گورو نانک کے سیوا کار، سکھ پاکستان کو گورؤں کا مقدس دیس سمجھتے ہیں۔ البتہ تاجر ہندو بنیا، 18 کروڑ خوش خوراک، اپنی اوقات اور بساط سے بڑھ کر فضول خرچی کرنے والوں کی منڈی کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور اس کی رالیں ٹپک رہی ہیں۔

میرے پیارے انکل نسیم انور بیگ فرمایا کرتے تھے ’’طاقت کی دنیا میں کبھی خلا نہیں رہتا اگر پاکستان کی فوج نہیں ہو گی تو پھر دشمن کی فوج اس کی جگہ لے لے گی۔ اس لیے پاکستان کی فوج کے ساتھ ہی گزارا کرنا پڑے گا‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔