کراچی کے شہریوں کو گدلے پانی کی فراہمی

اسٹاف رپورٹر  پير 5 اگست 2013
ٹریٹمنٹ پلانٹ استعداد سے نہ چلنے پر شہر بھر کی گٹر لائنیں اوور فلور ہوگئیں، شاہراہوں ،گلی اور محلوں میں سیوریج کا پانی کھڑا ہوگیا، وزیر بلدیات نوٹس لیں،افسران۔ فوٹو: فائل

ٹریٹمنٹ پلانٹ استعداد سے نہ چلنے پر شہر بھر کی گٹر لائنیں اوور فلور ہوگئیں، شاہراہوں ،گلی اور محلوں میں سیوریج کا پانی کھڑا ہوگیا، وزیر بلدیات نوٹس لیں،افسران۔ فوٹو: فائل

کراچی: کراچی واٹراینڈسیوریج بورڈ کی نااہلی کے سبب بارش کے بعد شہر میں گدلے اور مٹھی سے بھرے پانی کی سپلائی شروع ہوگئی ہے پانی میں مٹھی کے ذرات واضح طور پر محسوس اور دکھائی دے رہے ہیں۔

اس صورتحال سے کراچی میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے جبکہ گدلے پانی کی فراہمی کے باعث منرل واٹر کی  مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے ذرائع نے بتایا کہ انسپکشن چیمبر کے ذریعے بارش کا پانی فراہمی آب کی لائنوں اور کنڈیوٹ میں داخل ہوگیا ہے اور شہر کو فراہم کیے جانے والے پانی کے ذریعے گھروں میں آرہا ہے یہ پانی اتنا گدلا ہے کہ اس کو پینا تو درکنا اس سے ہاتھ منہ دھونا بھی محال ہے،ذرائع نے بتایا کہ ہمیشہ بارش کے موسم میں واٹربورڈ میں پھٹکری کا استعمال کیا جاتا تھا تاہم اس مرتبہ واٹربورڈ کے حکام نے ایسا کرنے کی زحمت نہیں کی واٹر بورڈ کے نااہل افسران کی غلطیوں اور نااہلی کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑرہا ہے اور شہری مٹھی سے بھرا ہوا گدلا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری طرف کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹر پلانٹ کے مکمل طور پر استعداد کے مطابق نہ چلنے کا انکشاف ہوا ہے،واٹربورڈ کے فلٹر پلانٹ استعداد کے مطابق کام نہیں کررہے ہیں فلٹر پلانٹس کے فلٹر تبدیل نہیں کیے گئے ہیں یا ان میں خرابی ہے جس کے باعث فلٹر کے تمام مروجہ مراحل کے بغیر گدلا اور مٹیلا پانی کراچی کے شہریوں کو فراہم کیا جارہا ہے،گزشتہ ڈھائی سال کے دوران واٹربورڈ کی انتظامیہ مرمت کے نام پر ڈھائی ارب روپے خرچ کردیے ہیں اس کے باوجود بیشتر فلٹر اور ٹریٹمنٹ پلانٹ غیر فعال ہیں جس کے باعث حالیہ بارشوں میں شہر کے70 فیصد گٹر اوورفلو ہوگئے ہیں جس سے شہر کی سڑکیں سیوریج کے پانی سے ڈھک گئی ہیں۔

واٹربورڈ کے افسران نے صوبائی وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس  صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کرائیں جبکہ افسران نے نیب اور اینٹی کرپشن سے اپیل کی ہے کہ وہ واٹربورڈ کے جن معاملات کی تحقیقات کررہی ہے اس میں ادارے میں مرمت کے نام پر خرچ کیے جانے والے ڈھائی ارب روپے کی بھی تحقیقات کی جائے تاکہ اندازہ ہوسکے افسران نے کس بے رحمی سے سرکاری وسائل کو لوٹا ہے،ذرائع کے مطابق سیوریج کے پانی کو ایک خاص مرحلے سے گزارکر سمندر میں پھینکنے کے لیے واٹربورڈ کے3 ٹریٹمنٹ پلانٹ ہیں، ان  ٹریٹمنٹ پلانٹس کے مکمل استعداد سے کام نہ کرنے پر شہر میں سیوریج کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے، حالیہ بارش میں اہم شاہراہوں گلیوں اور محلوں کے گٹر اوور فلو ہوگئے ہیں اگر ٹریٹمنٹ پلانٹ مکمل استعداد سے کام کررہے ہوتے تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔