جنگی جنون اور امن کا جذبہ

مبین مرزا  اتوار 10 مارچ 2019
پاکستان اور ہندوستان کے مابین اب جنگ نہیں ہونی چاہیے اور امید کی جاسکتی ہے کہ ہوگی بھی نہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور ہندوستان کے مابین اب جنگ نہیں ہونی چاہیے اور امید کی جاسکتی ہے کہ ہوگی بھی نہیں۔ فوٹو: فائل

سرحدوں پر تناؤ میں کمی ہے تاہم ماحول میں اب بھی کچھ ویسی ہی کیفیت ہے جیسی کسی خلفشار کے موسم میں ہوتی ہے۔

سراسیمگی، اندیشے اور وحشت کا احساس ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ یہ خیال کہ اگر واقعی جنگ ہوئی تو آگ اور خون کی ایسی بارش ہوگی کہ جنگوں کی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی ایسی مثال نہ دیکھی گئی ہوگی، اب بھی ذہنوں اور دلوں کو پراگندہ کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں وار تھیٹر کے اس نقشے کا سہرا بلاشبہ ہندوستان کے پردھان منتری نریندر مودی کے سر باندھا جانا چاہیے۔

پلوامہ میں ہندوستان کی پولیس فورس کی گاڑی پر خودکش حملے کے بعد نریندر مودی نے جنوبی ایشیا کے ماحول کو گرمانے اور وار تھیٹر کا نقشہ جمانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا ہے۔ بڑے اہتمام سے گمبھیر انداز اور سانپ کی پھنکار کا سا لہجہ بنا بنا کر ایسے بھاشن دیے ہیں جو معاشرے کی رگوں میں بارود بھرنے کا کام کریں اور ملک کے ایک سرے سے دوسرے تک اشتعال کی تندوتیز لہر دوڑا دیں۔ واقعے کے بعد نریندر مودی کے ابتدائی بیانات سے ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ اب سرحدوں پر معمول کا ماحول نہیں رہے گا، بلکہ طبلِ جنگ بجا دینے والی جھڑپیں ہوں گی۔

توقع کے عین مطابق ایسا ہی ہوا۔ چند روز پہلے ایک رات کے اندھیرے میں ہندوستانی ایئرفورس کے چار طیارے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لگ بھگ چھے ایئرو ناٹیکل میل تک اندر آئے اور بالاکوٹ کے جنگلات میں کسی ہدف کا تعین کیے بغیر اپ لوڈ کیا ہوا سامان، یعنی بم گرا کر چلے گئے۔ مودی سرکار اور ان کی وزارتِ دفاع نے اسے سرجیکل اسٹرائیک کہا اور دعویٰ کیا کہ یہ بم دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر گرائے گئے ہیں اور ان کے ذریعے جو کیمپ تباہ ہوئے، ان میں کم سے کم تین سو افراد مارے گئے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ ایک بڑا دعویٰ تھا جسے ہندوستان کے وہ سارے ٹی وی چینلز جن کی سرپرستی مودی سرکار کرتی ہے، ہندوستانی فضائیہ کی ایک شان دار کامیابی بناکر نہایت پرجوش انداز میں بتا اور دکھا رہے تھے۔ ایک ارب سے زائد افراد کی آبادی والے ہندوستان میں جہاں ہندو واضح اکثریت میں ہیں، مودی سرکار کی اس کارروائی نے ملک کے طول و عرض میں ایک دم اُن کی بہادری اور مقبولیت کا ماحول بنا دیا اور ایک غلغلہ سا بلند ہوگیا کہ جیسے کسی بڑے اور پرانے خواب کو تعبیر مل گئی ہو۔ میڈیا جہاں بھی غیرذمے دار اور آپے سے باہر ہوتا ہے، ایسی ہی جہالت کے کھیل تماشے دکھاتا ہے۔ اگرچہ متوازن مزاج رکھنے والے ہندوستانی سیاسی راہنما اور ٹی وی چینلز کے اینکرز اپنی حکومت کے اس عمل کو درست قرار نہیں دے رہے تھے۔

ان میں کچھ لوگ یہ بھی پوچھنا اور جاننا چاہتے تھے کہ جو تین سو دہشت گرد مارے گئے ہیں، وہ کون تھے، یعنی دہشت گردوں کا کون سا دھڑا تھا، ان کا سرغنہ کون تھا اور یہ سوال بھی کیا جارہا تھا کہ ٹی وی چینلز اس تباہی کی فوٹیج کیوں نہیں دکھا رہے جو بھارتی فضائیہ کے برسائے ہوئے بموں سے ہوئی ہے۔ ملک میں چونکہ نقار خانے کی سی فضا تھی، اس لیے ایسے لوگوں کی بات عوام کے کانوں تک مؤثر انداز میں پہنچ ہی نہیں پارہی تھی۔

دوسری طرف اس واقعے کے بعد پاکستانی حکومت پر ایک دم دباؤ بڑھ گیا۔ سوال اٹھا کہ ملک کے دفاع اور اس کے وقار کی بحالی کے لیے وہ کیا کررہی ہے؟ قابلِ داد بات ہے کہ پاکستانی حکومت نے اس دباؤ میں آکر غیرعقلی اقدامات کرنے کے بجائے تحمل سے پوری صورتِ حال پر غور کیا۔ جمہوری اور عسکری قیادت نے نہ صرف خود اکٹھے ہوکر مستقبل کے لائحۂ عمل کے لیے سوچا، بلکہ حزبِ اختلاف کی ساری جماعتوں کو بھی اس حوالے سے گفتگو میں ساتھ بٹھایا گیا۔ اعتراف کیا جانا چاہیے کہ یہ بہت مستحسن اقدام تھا جس نے پورے ملک میں اتحاد، ہم آہنگی اور یگانگت کی ایسی فضا قائم کی کہ قومی جذبہ اور اجتماعی شعور پوری طرح نمایاں ہوا۔

باہمی مشاورت کے بعد سیاسی و عسکری سطح پر بہ یک آواز مودی سرکار کو پیغام دیا گیا کہ جو کچھ اُس نے کیا ہے، اُس کا جواب دیا جائے گا، لیکن طریقے اور وقت کا تعین حکومتِ پاکستان کرے گی۔ پاکستانی قیادت کے اس تحمل کو ہندوستان کے انتہاپسند طبقے اور چینلز نے خوف اور بزدلی سے تعبیر کرتے ہوئے اچھالا اور اپنے حق میں استعمال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہ کوشش بلاشبہ، حد درجہ اشتعال انگیز تھی۔ خیر، اگر بات یہاں تک بھی رہتی تو چلیے ٹھیک تھا۔ اس صورتِ حال کو مودی سرکار بار بار اور دیر تک اپنے حق میں استعمال بھی کرسکتی تھی۔ یہ کام اگر وہ ہوش مندی سے کرتی تو اس کا پورا امکان تھا کہ اپنے اصل ہدف، یعنی انتخابات میں کامیابی کے لیے بھی اس سے کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا سکتی تھی— لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس سے ایک چوک ہوگئی جس نے صورتِ حال کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔

پہلی بات تو یہی کہ جو بم گرائے اُن سے مودی سرکار نے ایسے نتائج اور کامیابی کے حصول کا دعویٰ کیا جو حالات اور حقائق کے برخلاف تھا۔ دعویٰ کرنے میں آدمی کا کچھ نہیں جاتا، لیکن اس دور میں کسی بھی دعوے کی حقیقت ذرا سی دیر میں کھل جاتی ہے۔ آج نیویارک میں اَنڈر ورلڈ کے جگمگاتے نائٹ کلبز سے لے کر افریقا کے تاریک جنگلوں تک دنیا کا شاید کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو سیٹلائیٹ کوریج کے دائرے سے باہر ہو۔ بالفرضِ محال اگر ہے بھی تو اس کے فوکس ہونے اور ساری دنیا کے سامنے آجانے میں دنوں یا گھنٹوں کا نہیں، صرف کچھ منٹ کا وقت ہی لگے گا۔

مودی سرکار نے جو دعویٰ کیا، وہ اپنے چینلز پر اس کے ثبوت کی فوٹیج دکھانے سے قاصر تھی۔ چلیے، وہ نہیں تو دنیا کی دوسری بڑی خبر رساں ایجنسیز کے ٹی وی چینل تو بغیر کسی تأمل کے مودی سرکار کی اس فتح کے شواہد بڑی آسانی سے دکھا سکتے تھے، لیکن وائس آف امریکا سے لے کر سی این این اور بی بی سی تک کسی چینل نے ایسی کوئی فوٹیج نہیں دکھائی جس میں تین سو دہشت گردوں کے تباہ حال کیمپ اور باقیات کو فوکس کیا گیا ہو۔ تین سو آدمی تو بہت بڑی بات ہے تین سو چوہے یا کوے بھی ایک جگہ ماردیے جائیں تو اس واقعے کا ثبوت مکمل طور پر کسی بھی طرح لمحوں میں چھپائے نہیں چھپ سکتا۔ اصل میں اس دعوے سے مودی سرکار اپنے عوامی جذبات کو متحرک کرنا چاہتی تھی تاکہ انتخابات میں فائدہ اٹھا سکے، لیکن ایسا ممکن نہ ہوا، بلکہ یہ عمل بیک فائر کرگیا اور مودی سرکار کو الٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔

ادھر یہ ہوا کہ پاکستان کے الیکٹرونک میڈیا اور دنیا کے دوسرے ٹی وی چینلز نے جس علاقے میں بم گرائے گئے تھے، وہاں کی خوب کوریج کی، بار بار دکھایا گیا کہ ان بموں سے چھے درخت تباہ ہوئے، ایک کوا مارا گیا اور ایک شخص زخمی ہوا۔ یہ ہے ہندوستانی فضائیہ اور مودی سرکار کا کل کارنامہ۔ اب دباؤ چوںکہ خود مودی سرکار پر آگیا اور کام یابی کا اعلان رسوائی کے نقشے میں تبدیل ہوگیا تو اس نے ادبدا کر پاکستان پر ہوائی حملہ کرادیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حملہ بھی دراصل حملہ نہیں تھا، محض سرجیکل اسٹرائیک کا ڈراما تھا، جس کا ہدف اور کچھ نہیں صرف اور صرف مودی سرکار کی جگ ہنسائی کو روکنا اور اس کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنا تھا۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ اب جو جنگی جہاز ایئر اسٹرائیک کررہے تھے وہ نہ تو تباہی کا کوئی واضح ہدف لیے ہوئے تھے اور نہ ہی تباہ کار سامان سے لیس تھے۔ یہ سارا منصوبہ چوںکہ کسی سوچ بچار، حکمتِ عملی اور جنگی تیاری کا نتیجہ نہیں تھا، اس لیے کامیابی کے بجائے مودی سرکار کے لیے رسوائی کا کچھ اور سامان سمیٹ لایا، اور وہی ہوا کہ:

بندہ جوڑے پلی پلی اور رام مندھائے کپے

مودی سرکار نے اپنے پورے دورِ اقتدار میں سوائے ہوسِ اقتدار کے تماشے کے سوا ویسے تو اور کیا ہی کیا ہے، لیکن اگر کچھ کوشش بھی کی تھی تو وہ ایک ہی جھٹکے میں ٹھکانے لگی۔ اب صورت یہ ہے کہ جس اقتدار کے لیے وہ یہ سرجیکل اسٹرائیک اور دہشت گردوں کے صفائے کا سارا ناٹک رچا رہے تھے، وہ اب انھیں صاف صاف ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے، اور انھیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کریں تو کیا اور جائیں تو کہاں؟

سیاسی راہنما کی حیثیت سے مودی کی عقل و نظر اور فہم و بصیرت کا یہ عالم ہے کہ اب وہ ایسے بیانات دے رہے ہیں جن سے سوائے ہذیان کے اور کچھ ظاہر نہیں ہورہا، مثلاً اس واقعے کے بعد کہ جب انھوں نے ہوائی حملہ کیا جس میں ان کے دو جہاز پاکستان ایئر فورس نے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کرلیا، ایک گفتگو میں انھوں نے اعلان کیا کہ اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ تو صرف پائلٹ پروجیکٹ تھا، اصل کام تو اب شروع ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی طبعاً متشدد اور انتہا پسند آدمی ہیں۔ اگلے انتخابات میں کام یابی کی خواہش نے اس وقت ان کے اندر مایوسی کی حد کو پہنچی ہوئی شدت پیدا کردی ہے۔ ان کا بس نہیں چل رہا اور انھیں سمجھ نہیں آرہا کہ کس طرح ابھی آئندہ انتخابات میں ان کی کام یابی کا اعلان ہوجائے۔

دوسری طرف خود اپنے ہی ملک میں اس وقت اُن کی شخصیت ایک انتہاپسند اور اقتدار پرست سیاست داں کی حیثیت سے گفتگو کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ ان کی حمایت کرنے والے میڈیا ہاؤسز بھی اس سلسلے میں ان کی ساکھ کو سنبھالنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اس کا اندازہ اُن بیانات سے لگایا جاسکتا ہے جو سیاست داں، صحافی اور سماجی راہنما ان کے بارے میں دے رہے ہیں۔ معروف سیاسی راہنما کیجروال نے کہا ہے کہ مودی سرکار سے پوچھا جانا چاہیے کہ اقتدار کی تین سو نشستوں کے لیے انھیں کتنے فوجیوں کی لاشیں درکار ہیں؟ اندراگاندھی کے پوتے اور کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے کہا ہے کہ مودی ملک کو آگ میں جھونک رہے ہیں اور یہ کہ انھوں نے ہندوستانی فضائیہ کے تیس ہزار کروڑ روپے امبانی کی جیب میں ڈال دیے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِاعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے اس سارے معاملے میں اصل اسٹیٹس مین شپ کا مظاہرہ کیا ہے۔ معروف صحافی راجدیپ سرڈیسائی نے کہا کہ شاید ہم بھارتیوں کو یہ بات پسند نہ آئے، لیکن اخلاقی سطح پر یہ عمران خان کی جیت ہے۔ اسی طرح ساگا ریکا گھوس نے بیان دیا کہ مودی جی سے معذرت کے ساتھ، لیکن آج عمران خان نے انھیں ڈپلومیسی میں، جنگ کی حکمتِ عملی میں اور عوامی مقبولیت میں چت کردیا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ ناول نگار، سماجی اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ارون دھتی رائے نے اپنے ایک مضمون میں اس پوری صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے مودی سرکار کے سارے اقدامات کو انتخابی نتائج حاصل کرنے کا ناٹک قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ انتہا پسندی کو اپنے پوری حکومتی دور میں مسلسل عوام دشمن مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کی متحدہ اپوزیشن بھی اب انھیں بالکل کھلے لفظوں میں عوام دشمن، ہوسِ اقتدار والا عفریت اور تباہ کار جنگجو قرار دے رہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ان کے دورِ اقتدار میں حکومتی حکمتِ عملی نے ہندوستانی سماج میں دراڑیں ڈال دی ہیں اور اسے تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان تدبر رکھنے والی معتدل مزاج سیاسی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ اس پوری صورتِ حال میں انھوں نے جس طرح تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا، بار بار بھارت کے وزیراعظم کو مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی دعوت دی، ردِعمل کی سیاست سے گریز کیا، جنگ کے خلاف ایسے بیانات دیے کہ جنگ شروع ہوجائے تو پھر کسی کے قابو میں نہیں رہتی، یا یہ کہ جنگوں کے بارے میں لگائے گئے اندازے ہمیشہ غلط ثابت ہوتے ہیں اور پھر سب سے بڑھ کر انھوں نے مارگرائے جانے والے جنگی جہاز کے زندہ گرفتار ہونے والے پائلٹ کو طبّی امداد اور بہتر انسانی سلوک کے بعد کسی شرط اور مطالبے کے بغیر اور فوراً ہی جس طرح بھارتی حکومت کو واپس کردیا ہے— یہ سب باتیں اُن کے سیاسی قد و قامت میں نہایت غیر معمولی اضافے کا سبب بنی ہیں۔ اب ان کا شمار عالمی سطح کے سیاسی قائدین میں کیا جارہا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اگر ذرا بھی ناسمجھی اور ردِعمل کی سیاست کا راستہ اختیار کرتی تو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا میدان سجنے میں لمحوں کی بھی تاخیر نہ ہوتی۔

یہ جنگ اس بار بھی پہلے کی طرح روایتی حریفوں کی محاذآرائی ہوتی یا پھر اس کے ذریعے تیسری عالمی اور دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کا آغاز ہوتا— قطعیت کے ساتھ اس سلسلے میں کچھ کہنا ذرا مشکل ہے، اس لیے کہ دنیا میں ہونے والی جنگوں اور قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر جنگ کا آغاز ایک قاعدے اور باضابطہ حکمتِ عملی سے ہوتا ہے، لیکن بہت جلد جنگ کے تباہ کن شعلے جس شے کو سب سے پہلے نگلتے ہیں وہ قاعدہ اور حکمتِ عملی ہی ہوتی ہے۔ جنگ دراصل جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے، ہر سمت اور رینگتے رینگتے یک لخت اچھلتے ہوئے۔ یہ بھی طے ہے کہ جنگ جیتنے والا بھی ہارنے والے سے کچھ کم نقصان نہیں اٹھاتا۔ اس کے حصے میں بھی تباہی اور موت بہت بڑے تناسب کے ساتھ آتی ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے مابین اب جنگ نہیں ہونی چاہیے اور امید کی جاسکتی ہے کہ ہوگی بھی نہیں۔ اس لیے کہ دونوں ملک ایٹمی طاقت اور اسلحے کے بڑے ذخائر کے مالک ہیں۔ اس لیے کہ دونوں کی دوستی ان عالمی طاقتوں سے ہے جو اسلحے کی تجارت سے اپنے ملک کی معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں۔ پاکستان چین اور ہندوستان اسرائیل سے اندھا دھند اسلحے کی خریداری کرتا ہے۔ اب اگر دونوں ملک روایتی جھگڑے سے آگے بڑھ کر اپنے مہلک ہتھیار استعمال کرنے پر آجائیں تو دونوں ہی خطۂ ارض سے اس طرح مٹ کر رہ جائیں گے کہ ان کا نشان تک نہ ملے گا۔ بات صرف ان دونوں ملکوں کی بھی نہیں ہے، اس تباہی کی لپیٹ میں پورا خطہ نہیں، بلکہ دنیا کا اور بھی بڑا حصہ آجائے گا۔ اس حقیقت کو عالمی برادری اچھی طرح سمجھ سکتی ہے۔ اسی لیے تناؤ کی اس فضا میں عالمی سطح پر مصالحت کا کردار ادا کرنے والے ممالک اور افراد فی الفور سامنے آئے ہیں۔

تاہم اس حقیقت کو بھی مسلسل پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ نریندر مودی جیسے متشدد اور اقتدار کے پجاری اپنی ہوس کے بھرے میں آکر کسی بھی انتہائی مرحلے تک جاسکتے ہیں۔ حصولِ اقتدار کی مایوس کن صورتِ حال اُن کے لیے جنگ کو حصولِ مقصد کا سنہری موقع بنا دیتی ہے۔ مایوسی اور محرومی کی نفسیات بڑی تباہ کن ہوتی ہے۔ یہ آدمی کو خود کو پھونک ڈالنے سے لے کر دنیا کو آگ لگانے تک کسی بھی اقدام پر اکسا سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اس صورتِ حال میں نہ صرف چاق چوبند رہنا ہے، بلکہ اس جنگی جنون کا توڑ ہر ممکن امن کے جذبے سے کرنا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔