پنجاب میں جنگل سے پکڑے گئے جانوروں اورپرندوں کی خرید وفروخت پر پابندی

آصف محمود  اتوار 10 مارچ 2019
چولستان کے بعد اب سالٹ رینج میں بھی چنکارہ ہرن آزاد کئے جائیں گے فوٹو: فائل

چولستان کے بعد اب سالٹ رینج میں بھی چنکارہ ہرن آزاد کئے جائیں گے فوٹو: فائل

 لاہور: پنجاب میں جال کی مدد سے کسی بھی قسم کے جانوروں اور پرندوں کو پکڑنے پر پابندی لگائی جارہی ہے۔

محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کے اعزازی گیم وارڈن بدر منیر چوہدری نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں جنگلی حیات کی افزائش اور اضافے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے، جنگلی حیات کی وہ اقسام جن کی نسل ختم ہوچکی ہے یاختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں ایسے جانوروں اور پرندوں کی بریڈنگ سینٹرز سے افزائش کے بعد جنگلوں میں چھوڑا جائے گا۔ چولستان کے بعد اب سالٹ رینج میں بھی چنکارہ ہرن آزاد کئے جائیں گے تاکہ وہ کھلے ماحول میں پروان پاسکیں۔

بدر منیر چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب میں جال کی مدد سے کسی بھی قسم کے جانور اور پرندے پکڑنے پرمستقل پابندی لگائی جارہی ہے ، بالخصوص کوئل، بٹیرے، تیتر، مرغابی، سی سی ، چکور اورکونج وغیرہ کوجال کی مدد سے پکڑاجاتا ہے۔ پنجاب بھر میں جنگلی جانوروں اورپرندوں کی فروخت پربھی پابندی لگادی گئی ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا جائے گا۔ مارکیٹ میں صرف ایسے جانور اور پرندے فروخت کرنے کی اجازت ہوگی جو کسی بریڈنگ سینٹر سے خریدے گئے ہوں گے جب کہ بریڈنگ سینٹرز کا ریکارڈ بھی چیک کیا جائے گا کہ انہوں نے جنگلی جانوروں اور پرندوں کی افزائش مقامی سطح پر کروائی ہے یا کہیں سے خریدے تھے۔

جنگلی حیات کے تحفظ ، بقا اور افزائش کے لئے آن لائن جنگلی جانوروں اور پرندوں کی خرید و فروخت ان کے شکار کی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف بھی سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اعزازی گیم وارڈن بدر منیر چوہدری نے بتایا کہ جب شکاری ،شکار کئے گئے جانور اور پرندوں کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں تو اس سے ناصرف بین الاقوامی سطح پر پاکستانی کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ دیگر شکاری مقابلے کے طور پر زیادہ جانور اور پرندے شکار کرکے ان کی تصاویر شئیرکرتے ہیں ۔ یہ اقدام جنگلی حیات کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔

پنجاب میں جنگلی جانوروں کی بقا کے لئے ایک دستخطی مہم بھی شروع کی گئی ہے جس پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، صوبائی وزیرجنگلات سبطین خان، ڈی جی وائلڈ لائف پنجاب، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے کنٹری ڈائریکٹر حامد نقی اور اعزازی گیم وارڈن بدر منیر چوہدری سمیت 300 سے زائد اہم شخصیات نے دستخط کرکے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ جنگلی حیات سے پیار کرتے ہیں اور اس کے غیر قانونی شکار اور خرید و فروخت کو روکنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔