پریشانیوں کو الوداع، خوشیوں کو خوش آمدید!

حرا احمد  جمعرات 14 مارچ 2019
یاد رکھیے کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں زندگی کے سفر کا ایندھن ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

یاد رکھیے کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں زندگی کے سفر کا ایندھن ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

حالات کا دباؤ، زندگی کے بہاؤ کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ الجھنیں اور پریشانیاں ہیں کہ بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ کسی کو فکر معاش نے پریشان کر رکھا ہے تو کوئی قسمت سے نالاں نظر آتا ہے۔ کہیں خاندانی جھگڑے ہیں توکوئی گھریلو مشکلات کا شکار ہے۔ کوئی اولاد کی نافرمانیوں کا مارا ہوا ہے تو کوئی اخلاقی گراوٹ کے ہاتھوں پریشان ہے۔ کسی کو اپنوں کی بے وفائی کا غم ہے تو کوئی غیروں کی بے اعتنائی سے دل شکستہ ہے۔ خیالات اور حالات کا دباؤ انسانوں کی زندگی کو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بے نیاز کرتا جارہا ہے۔ ہماری زندگی میں جتنی زیادہ شکایتیں بڑھتی جاتی ہیں، خوشی کا مادہ اتنا ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں ہم ایک لمحے کےلیے بھی رک کر غور نہیں کرتے کہ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہم سے زیادہ دور نہیں، کہیں ہمارے ارد گرد ہی موجود ہے۔

ہمیشہ اس یقین کے ساتھ زندگی گزارئیے کہ آپ کے اردگرد بے شمار خوشیاں آپ کے انتظار میں ہیں اور وہ بہت جلد آپ تک پہنچے والی ہیں۔ آپ کا کام صرف ان کی کھوج لگانا اور انہیں اپنی طرف کشش کرنا ہے۔ حوصلہ مند اور باشعور لوگ اسی ذہنی رویّے کے ساتھ مشکل سے مشکل حالات سے بھی چھوٹی چھوٹی اور انمول خوشیوں کے ساتھ اپنا تعلق ہمیشہ استوار کیے رکھتے ہیں۔ دراصل یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی ہیں جو بڑی بڑی خوشیوں کے حصول کو ممکن بناتی ہیں۔ آپ اگر خوشی رہنا چاہتے ہیں تو اپنی ان خوشیوں پر کام کیجیے۔

اپنے خالق کے ساتھ اپنی تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے رہیے۔ اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسائل، مشکلیں، آزمائشیں اور الجھنیں انسانی زندگی کا حصہ ہیں؛ اور ان سے چھٹکارا پانے یا نجات حاصل کرنے کا سب سے بہترین راستہ ہے اللہ تعالی کی عبادت اور اس کی بندگی۔

قرب الہی کو حاصل کرنے اور اس کی بارگارہ میں اپنا دست سوال دراز کرنے کا بہترین ذریعہ ہے نماز۔ اس بے نیاز کے سامنے جھولی پھیلائیے جو دینے پر آئے تو فقیر کو بھی بادشاہ بنا دینے پر قادر ہے۔ اس پاک ذات کے سامنے اپنی تکلیفوں پریشانیوں کا تذکرہ کیجیے جو کسی کو اس کی ہمت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ بے شک اس کی بارگاہ میں پیش ہو کر دل کا بوجھ ہلکا کرنے والے ہر غم اور تکلیف سے بے نیاز کردئیے جاتے ہیں۔

خود شناسی اور باطنی شعور، اندورنی اور بیرونی خوشی کے حصول کا اہم ذریعہ ہیں۔ اپنی پہچان کا احساس اور باطنی شعور ہمیں حقیقی خوشی کی لذتوں سے سرشار کرتا ہے۔ ہم اپنا سارا وقت، اپنی ساری توانائی صرف اور صرف ظاہری اور مادی خوشیوں کو حاصل کرنے کی دوڑ دھوپ میں خرچ کردیتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے اور زندگی کا طویل سے طویل سفر بھی کٹ جاتا ہے۔ لیکن افسوس اس سارے عمل کے دوران ہم اپنے آپ اور اپنی ذات سے انجان اور حقیقت بے خبر رہتے ہیں۔ اپنی شخصیت کی نشوونما کے امکانات پر کام کرنے والے اور اپنی ذات کا عرفان حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والے حقیقی خوشیوں کی دوڑ میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔

خود شناسی کا عمل آپ کےلیے خوشی کے حصول کو آسان بناسکتا ہے، اسے کبھی بھی نظر انداز نہ کیجیے۔

اپنے ذہن اور ذہنی ماحول کی صفائی ستھرائی بھی آپ کو خوشی کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اگر آپ اپنے نصیب اور قسمت کو جگانا چاہتے ہیں تو اپنے ذہن سے ہر قسم کی منفی باتوں، منفی عادتوں اور منفی رویّوں کو نکال باہر کردیجیے۔ اپنے دماغ سے وہ تمام کچرا اور فضولیات نکال کر باہر پھینک دیجیے جو آپ کو ایک بہترین انسان بننے سے روکے کھڑے ہیں۔ ہمیشہ اپنے ذہن کی صفائی ستھرائی کرتے رہیے۔ اپنے دماغ میں خوشیوں اور کامیابیوں کےلیے زیادہ سے زیادہ جگہ بنائیے، یہ عمل آپ کے حصے کی خوشیاں تلاش کرنے میں آپ کا بہترین مونس و رفیق ثابت ہوگا۔ خود کو ایک پیداواری، موثر اور بہترین انسان بنانے کےلیے اپنا دماغ اور اپنی دماغی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کیجیے۔ اپنے دماغ کو ہر طرح کے حالات سے خوشیاں کشید کرنے اور پر امید رہنے کی عادت ڈالیے۔

بڑی بڑی مادی خوشیوں کےلیے خود کو ہلکان کرنے کے بجائے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی اہمیت کو جانیے۔

ہر ممکن حد تک دوسروں کےلیے آسانیاں پیدا کیجیے اور ان کے کام آئیے۔ انسانوں کی خدمت اور ان کے کام آنے کا جذبہ ہمیں خوشی کا وہ انمول اور قیمتی احساس عطا کرتا ہے جو ہمیں قلبی و روحانی طور پر مضبوط اور توانا بناتا ہے۔ بے سہارا اور ضرورت مندوں کے کام آنا ہی انسانیت کی معراج ہے۔ خود کو اس خوشی سے محروم رکھنے والے کبھی حقیقی اور اصلی خوشی کا مزا نہیں پاسکتے۔

زندگی کے سفر میں اپنے لیے خوشیاں پانا چاہتے ہیں تو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ ہمت اور حوصلہ پیدا کیجیے۔ ہماری زندگی میں ہمیں بہت سے لوگ ایسے ملتے ہیں جو تھوڑی سی مشکلات کو دیکھ کر ہی ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ پریشانیوں میں ہمت و حوصلے سے کام لیجیے اور اپنی پریشانیوں کا ذکر ان لوگوں سے کبھی نہ کیجیے جو آپ کو خوش دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ پریشانیاں اور ٹینشن آپ کی صحت پر بہت برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ خود کو کسی بھی قسم کی پریشانی میں پرسکون رکھنے اور صبر کے ساتھ اسے بہترین طریقے سے نمٹانے کی کوشش کیجیے۔

قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالی ہے: ’’(ترجمہ) اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو۔‘‘

اگر آپ زندگی میں سچی اور حقیقی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس دنیا میں اپنی موجودگی کے مقصد کو تلاش کرنا ہوگا۔

صدق دل اور خلوص نیت سے تلاش کریں گے تو مقصد حیات خودبخود آپ کے سامنے آن کھڑا ہوگا۔ پھر آپ کا کام ہے کہ اپنی تمام تر توانیاں اور کوششیں اپنے مقصد حیات کے حصول کےلیے وقف کردیں۔ دراصل مقصد حیات ہی وہ منزل ہے جس کےلیے جہدوجہد کرنے اور اسے پانے کی خوشی ہمیں دنیا کی باقی تمام خوشیوں سے بے نیاز کردیتی ہے۔

اپنی زندگی میں خوشیوں کے دروازے کھولیے۔ یاد رکھیے کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں زندگی کے سفر کا ایندھن ہیں؛ اور زندگی کے سفر میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو مشکل حالات سے بھی چھوٹی چھوٹی خوشیاں کشید کرنے کا فن جانتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

حرا احمد

حرا احمد

مصنفہ نوجوان بلاگر اور افسانہ نگار ہیں۔ لکھنے اور پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں۔ عوامی مسائل بالخصوص خواتین کے مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی کمپیوٹرسائنس میں فارغ التحصیل ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ٹیچر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔