روزمرہ کا غصہ، اسٹریس اور ڈپریشن معمولی نہیں

سید عرفان احمد  منگل 12 مارچ 2019
اصل مسئلہ زندگی کے اوسط روزمرہ مسائل کا پیش آنا نہیں بلکہ ان پر ہمارا ردِعمل سب سے اہم ہوتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اصل مسئلہ زندگی کے اوسط روزمرہ مسائل کا پیش آنا نہیں بلکہ ان پر ہمارا ردِعمل سب سے اہم ہوتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

مورخہ 7 اور 8 فروری 2019 کو دو اندوہناک خبریں پڑھنے کو ملیں۔ ایک خبر پشاور کے میڈیکل کالج کے جواں سال طالبعلم کی خودکشی کی تھی تو دوسری کوئٹہ کے ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ سے متعلق تھی۔ ان دونوں نے امتحانات میں کم نمبروں سے مایوس ہوکر خودکشی کی تھی۔ پاکستان میں نوجوانوں کی خودکشی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، سات ہزار سے زائد پاکستانی ہر سال خودکشی کرتے ہیں۔ یہ تعداد بھی حقیقی تعداد سے کم ہے کیوں کہ یہ تعداد وہ ہے جو خبروں میں آجاتی ہے ورنہ گاؤں دیہات اور دور دراز علاقوں میں تو نہ جانے کیا کچھ ہوجاتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔

خودکشی ایک انتہائی اقدام ہے۔ لوگ خودکشی کا سنتے اور افسوس کے ساتھ ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن، ایک بہت اہم نکتہ جو پاکستانی خواتین و حضرات – خواہ نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوں یا بڑی عمر کے پختہ کار – بھول جاتے ہیں کہ خودکشی کا انتہائی اقدام کوئی بھی یک دَم نہیں کرتا۔ یہاں تک پہنچنے میں لوگوں کو مہینے بلکہ برسوں لگ جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زندگی کے عمومی ناگفتہ بہ حالات اور نشیب و فراز – طلاق، موبائل یا پرس کا چھینا جانا، کوئی قدرتی آفت، جاب کا چھوٹ جانا، کسی پیارے کی موت وغیرہ – ہمیں جسمانی، ذہنی یا نفسیاتی مسئلے میں مبتلا کرسکتے ہیں؟

میں اکثر یہ بات اپنے کلائنٹس اور احباب کو سمجھاتا رہتا ہوں کہ وہ اپنے روزمرہ اسٹریس، ڈپریشن، غصے، جھنجھلاہٹ، چڑچڑے پن وغیرہ کو معمولی نہ سمجھیں؛ کیوں کہ یہ معمول کی منفی جذباتی کیفیات ہی آدمی کو خودکشی تک لے جاسکتی ہیں – کم ازکم اسے نفسیاتی مریض تو ضرور بنادیتی ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق سے بھی اس سوال کا جواب ملتا ہے کہ روزمرہ کے کشیدہ حالات و تجربات بھی ہمیں نفسیاتی یا ذہنی بیماری میں مبتلا کرسکتے ہیں اور اگر اس کا مناسب تدارک نہ کیا جائے تو معاملہ، خدا نخواستہ، خودکشی تک جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق شعبہ نفسیات کے سوسن چارلس نے کی۔ اس مطالعے میں یہ جائزہ لیا گیا کہ جن لوگوں کو روزمرہ کے دباؤ اور منفی واقعات سے سابقہ پڑا، اگلے دس برس بعد ان پر اس پر کیا ذہنی، جذباتی یا نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے۔ اس تحقیق سے اس پہلو کو جاننے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اوسط درجے کے وہ منفی اثرات جو ہم روزمرہ واقعات و حالات سے لیتے ہیں، آگے چل کر کیوں کر اور کتنا ہماری شخصیت و صحت پر منفی نتائج مرتب کرتے ہیں۔

اس تحقیق کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اصل مسئلہ زندگی کے اوسط روزمرہ واقعات کا پیش آنا نہیں، بلکہ ان واقعات و تجربات پر ہمارا ردِعمل سب سے اہم ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج آپ کے ساتھ جو منفی واقعہ پیش آیا ہے، اگر اس پر آپ کا ردِعمل درست نہیں ہوگا تو اگلے پانچ، دس یا پندرہ برس بعد آپ کسی نفسیاتی یا ذہنی بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ خواہ روزمرہ واقعات کتنے ہی معمولی ہوں، ان پر آپ کا ردِعمل اگر سخت ہوگا تو آپ نفسیاتی مریض بن سکتے ہیں۔

ایسے میں اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم سب کا واسطہ زندگی میں روزانہ ہی قدم قدم پر منفی اور کشیدہ واقعات سے پڑتا ہے تو ایسے میں ہم ان واقعات سے کیسے مؤثر طور پر نمٹیں؟

اس سلسلے میں، ماہرین درج ذیل اقدامات تجویز کرتے ہیں:

اوّل: خود کو موجودہ لمحے میں رکھنے کا ہنر سیکھیے۔ اس کےلیے ’’مائنڈ فلنیس‘‘ کی مختلف مشقیں پوری دنیا میں ماہرین تجویز کرتے ہیں، کیوں کہ سائنسی بنیادوں پر اب مائنڈ فلنیس کی افادیت نہایت واضح ہے۔ چنانچہ پوری دنیا میں اب بچوں سے لے بڑی عمر کے خواتین و حضرات کو ہر شعبہ زندگی میں مائنڈ فلنیس کی مشقیں سکھائی اور کرائی جارہی ہیں۔

دوم: چھوٹے چھوٹے واقعات اور معاملات کو سر پر سوار کرنے اور انہیں جی کا جنجال بنانے کی عادت چھوڑ دیجیے۔ جو لوگ معمولی سے نقصان اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے جھگڑنے کھڑے ہوجاتے ہیں یا پھر بات کا بتنگڑ بنانے میں ماہر ہوتے ہیں، وہ اکثر عمر کے پانچویں، چھٹے یا ساتویں عشرے میں نفسیاتی یا ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔

سوم: روزانہ دس سے پندرہ منٹ ایروبک ایکسرسائز (سائنس کو بہتر بنانے والی ورزشیں) کیجیے۔ اس کےلیے کسی اہتمام کی ضرورت نہیں۔ آپ گھر پر بھی اس طرح کی ہلکی پھلکی ورزش کرسکتے ہیں جو فائدہ دیتی ہے۔ جسمانی کسرت، ذہنی و جذباتی کیفیت پر براہِ راست گہرے مثبت اثرات ڈالتی ہے۔

اب کی بار اگر آپ کو روزمرہ کا اسٹریس یا ڈپریشن ستائے تو اسے ہلکا نہ لیجیے اور نہ اسے سر پر سوار کیجیے۔ ابھی سےاس کے تدارک کی تدابیر کیجیے، کیوں کہ یہی دانش مندی ہے!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سید عرفان احمد

سید عرفان احمد

بلاگر کامیابی ڈائجسٹ اور ہیپی پاکستان کے بانی اور مائنڈ تھیراپسٹ ہیں۔ گزشتہ تیس سال سے صحافت اور پرسنل ڈیویلپمنٹ کے شعبوں سے وابستہ اور تیس سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ سرٹیفائیڈ لائف کوچ، ہپناتھیراپسٹ اور این ایلپر ہیں۔ ذہنی، جذباتی اور ازدواجی مسائل کے حل کےلیے اُن سے فیس بک آئی ڈی IrfanKD پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔