صوبوں نے قانون سازی نہیں کی بلدیاتی الیکشن ستمبر میں ممکن نہیں، الیکشن کمیشن

قانون سازی کے بعدالیکشن کی تیاریوں کیلیے 3 ماہ درکارہونگے،صوبوں کوحتمی تاریخ دی جائیگی،کمیشن کے اجلاس میں فیصلہ،سندھ میں تبادلوں پر چیف سیکریٹری سے وضاحت طلب  فوٹو: فائل

قانون سازی کے بعدالیکشن کی تیاریوں کیلیے 3 ماہ درکارہونگے،صوبوں کوحتمی تاریخ دی جائیگی،کمیشن کے اجلاس میں فیصلہ،سندھ میں تبادلوں پر چیف سیکریٹری سے وضاحت طلب فوٹو: فائل

اسلام آ باد:  الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ چاروں صوبوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کیلیے یکساں قانون سازی مکمل نہ کرنے کے باعث ستمبر میں بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں لیکن الیکشن کمیشن کی بار بار کی یاد دہانی کے باوجود چاروں صوبوں نے قانون سازی کا عمل مکمل نہیں کیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا گیا کہ قانون سازی کے عمل میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ کمیشن کو قانون سازی کے بعد چاروں صوبوں میں انتخابات کی تیاریاں مکمل کرنے کیلیے 3 ماہ درکار ہوں گے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کی صدارت میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ افسران کا اجلاس پیر کو ہوا جس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلیے قائم خصوصی سیل کے افسران نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بلدیاتی انتخابات کیلیے کی جانیوالی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور صوبوں کی جانب سے تاحال بلدیاتی انتخابات کیلیے صوبائی لوکل گورنمنٹ قانون کے مسودے نہ ملنے پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ اجلاس میں اس پر اتفاق کیا گیا کہ چونکہ صوبوں کی جانب سے تاحال کسی ایک مسودے پر قانون سازی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا تو صرف ایک ماہ بعد بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں ہیں لہٰذا سپریم کورٹ سمیت متعلقہ اداروںکو صوبائی حکومتوں کی جانب سے تاخیر سے آگاہ کیا جائیگا کہ بلدیاتی انتخابات دسمبر سے پہلے ممکن نہیں ہیں، صوبائی حکومتوں کو پھر ایک حتمی تاریخ دی جائیگی کہ مسودہ قانون دیا جائے جسکے تحت انتخابات کرائے جائیں۔

چاروں صوبائی حکومتوں کے مسودہ قانون کے جائزے کے بعد چاروں صوبائی حکومتوں کو ایک قانون پر متفق کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں ایک اجلاس بھی بلایا جائیگا۔ آئی این پی کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومتیں عید کے فوری بعد بھی قانون سازی کر لیں تو اکتوبر کے آخری ہفتے سے قبل بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو گا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ ضمنی انتخابات کی تمام تیاریاں مکمل ہیں اور 42 حلقوں میں ضمنی انتخابات شیڈول کے مطابق ہونگے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ کنٹونمنٹ میں قانون سازی کے بعد بلدیاتی انتخابات کیلیے 60روز درکار ہوں گے۔ علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے پابندی کے باوجود سندھ میں تقرر و تبادلوں کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سے وضاحت طلب کر لی، فنکشنل لیگ کی درخواست پرالیکشن کمیشن نے چیف سیکریٹری سندھ سے وضاحت طلب کی۔ فنکشنل لیگ کا موقف ہے کہ سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود انتخابی حلقوںمیں تقرر و تبادلے کیے۔ ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری ہونیکے بعد متعلقہ حلقوں میں تقرر و تبادلوں پر پابندی عائد ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔