ایک سفر باب الاسلام کے تاریخی مقامات کا (چھٹی قسط)

ببرک کارمل جمالی  بدھ 13 مارچ 2019
جس کے پاس قائداعظم کی تصویر والا نوٹ ہے، وہ مین گیٹ پر 30 روپے داخلہ فیس دیکر بابائے قوم کے مزار میں داخل ہوسکتا ہے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

جس کے پاس قائداعظم کی تصویر والا نوٹ ہے، وہ مین گیٹ پر 30 روپے داخلہ فیس دیکر بابائے قوم کے مزار میں داخل ہوسکتا ہے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

ہم موٹروے پر سفر کرتے ہوئے کراچی کے ٹول پلازہ پہنچے جہاں موٹروے پولیس نے ہمارے ساتھ سفر کرنے والے تمام احباب کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ ہم آدھے گھنٹے بعد کراچی شہر میں داخل ہوئے۔ پاکستان کا صنعتی دارالحکومت شہر کراچی دو کروڑ سے زائد افراد کا مسکن ہے، یعنی پاکستان کی تقریباً دس فیصد آبادی شہر قائد کی باسی ہے۔ یہ وہ کراچی ہے جس میں صوبائی حکومت، مقامی نمائندے اور صوبائی انتظامیہ مسائل کی ذمہ داری ایک دوسرے کاندھے پر ڈال کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے کنارہ کشی کرتے ہیں۔ گزشتہ چند سال میں ارباب اقتدار نے کراچی کا امن بحال کرنے کی کامیاب کوشش کی اور شہر کی بڑی سڑکوں کی حالت بہتر کی مگر بڑھتے ہوئے ٹریفک، بالخصوص موٹر بائیکس اور رکشوں کو کنٹرول کرنے کےلیے جامع ٹریفک پلان تشکیل دیں تو اہل کراچی بہت خوش ہوں گے۔

کراچی شہر کو ﺗﺎﺭﯾﺦ کے ﺍﻭﺭﺍﻕ کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں ﮐﮧ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ 1729 میں ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ۔ اُﺲ ﻭﻗﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﺻﺮﻑ 25 ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯾﺎﮞ ﺗﮭیں۔ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﺎﮨﯽ ﮔﯿﺮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﻼﻧﭻ ﺳﮯ ﺍٓﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻟﯿﺎﺭﯼ ﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﯾﮧ بستی ’’ﻟﯿﺎﺭﯼ‘‘ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻧﯽ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ نقل مکانی ﮐﺮﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﯾﮩﺎﮞ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ عظیم الشان شہر کراچی یہیں بسایا گیا۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ بلاگز بھی ضرور پڑھیے:

ایک سفر باب الاسلام کے تاریخی مقامات کا (پہلی قسط)

ایک سفر باب اسلام کے تاریخی مقامات کا (دوسری قسط)

ایک سفر باب الاسلام کے تاریخی مقامات کا (تیسرا حصہ)

ایک سفر باب اسلام کے تاریخی مقامات کا (چوتھی قسط)

ایک سفر باب الاسلام کے تاریخی مقامات کا (پانچویں قسط)

اس روز ہم کراچی کی سڑکوں پر سفر کر رہے تھے کہ اچانک ہماری نظر بابائے قوم کے مزار پر پڑی۔ ہم نے سب سے پہلے بابائے قوم کے مزار پر حاضری دینے کا فیصلہ کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کل کراچی شہر کی خاص وجہ شہرت بابائے قوم کا مزار ہی ہے۔ ہم تھکے ہارے بابائے قوم کے مزار پر پہنچ گئے۔

ویسے تو ہم پاکستانی بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناحؒ کو ہر چودہ اگست، چھ ستمبر، گیارہ ستمبر اور پچیس دسمبر ہی کو دھوم دھام سے یاد کرتے ہیں مگر اب کراچی کے شہریوں سمیت بہت سے پاکستانیوں نے اپنے ویک اینڈ پر قائداعظمؒ کے مزار پر جانا شروع کردیا ہے۔ جس کے پاس قائداعظم کی تصویر والا نوٹ ہے، وہ بھی تیس روپے دے کر بابائے قوم کے مزار کے اندر داخل ہوسکتا ہے کیونکہ مزار کے مین گیٹ سے داخلہ فیس تیس روپے ہے۔ سو ہم تیس روپے دے کر بابائے قوم کے مزار کے مین گیٹ سے اندر داخل ہوگئے۔ ساتھ میں کینٹین موجود تھی جہاں ہر چیز دوگنی قیمت پر دستیاب تھی کیونکہ بابائے قوم کے مزار کے سامنے بابائے قوم کے نوٹ کی قدر شاید کم تھی۔ ہم نے بابائے قوم کے مزار کے ارد گرد گھوم پھر کر اچھا وقت گزارا۔ ویسے ہم بابائے قوم کے مزار پر کئی مرتبہ گئے لیکن چودہ اگست کو ایک میلہ سا لگتا ہے جس میں ملک کے اعلی قائدین بابائے قوم کے مزار پر آتے ہیں۔ ان قائدین میں مقامی ایم پی اے، ایم این اے کے ساتھ وزیراعظم پاکستان، صدر پاکستان، گورنر اور وزیر اعلی اپنی اپنی باری پر بابائے قوم کے مزار پر پھول چڑھا کر واپس اپنی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں۔

اس روز ہم مزار قائد پر تھے کہ اچانک سیکیورٹی سخت ہوگئی۔ ابھی ہم جوتوں کے ٹوکن لے کر اوپر مزار کی طرف جا ہی رہے تھے کہ ہمیں پیچھے جانے کا حکم ملا۔ ہمارے علاوہ وہاں سیکڑوں لوگ اور بھی تھے جنہیں ایک کونے میں دھکیل دیا گیا۔ اب ہم مزارِ قائد کے احاطے میں واقع میوزیم کی طرف چل پڑے، جہاں داخل ہونے کی فیس پچاس روپے تھی۔ ہم فیس دے کر میوزیم میں داخل ہوگئے جہاں پر قائداعظمؒ کے استعمال کی تمام چیزیں شیشے میں بند رکھی ہوئی تھیں۔ ان ہی میں بابائے قوم کی کار بھی کھڑی تھی جس کی تصویر کھینچنے پر ہمیں خوب ڈانٹ بھی پڑی تھی۔ ایک کونے میں چھوٹے سے لفظوں میں لکھا تھا کہ یہاں تصویر کھینچنے پر پابندی ہے۔ اس میوزیم میں جگہ جگہ بابائے قوم ؒکی تاریخ لکھی ہوئی تھی، پھر ہم تاریخ میں گھس گئے۔

قائداعظمؒ 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کانام محمدعلی رکھا گیا اور آپ کا خاندانی نام جناح تھا۔ بچپن اور لڑکپن میں قائداعظمؒ کو کرکٹ اور اسنوکر میں بہت دلچسپی تھی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد قائداعظمؒ اعلی تعلیم حاصل کرنے کےلیے انگلینڈ چلے گئے جہاں انہوں نے قانون کی کلاس میں داخلہ لے لیا اور پھر ایک دن عظیم قانون دان کی ڈگری لے کر وطن واپس آگئے۔ انہوں نے کراچی کے بجائے بمبئی کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں پر قانون کی پریکٹس شروع کردی۔ ایک روز قائداعظمؒ برصغیر کے نامور وکلا میں سے ایک وکیل بن گئے اور 1910 میں آپ بمبئی سے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ آپ نے اپنی سیاست کےلیے کانگریس کو چنا اور 1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1920 میں آپ نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔ 1929 میں قائداعظمؒ نے اپنے چودہ نکات پیش کیے۔ 1930 میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کی۔ 1939 میں آخرکار کانگریس نے خود حکومت دے دی اور 1940 میں قرارداد لاہور منظور ہوئی جسے ’’قراردادِ پاکستان‘‘ بھی کہا گیا۔ قائداعظمؒ نے فرمایا کہ پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جس دن برصغیر میں پہلا مسلمان ہوا تھا۔

یہ تاریخ پڑھنے کے بعد بابائے قوم کے میوزیم کو خیرباد کہا اور ان کی لحد پر حاضری دینے پہنچ گئے۔ فاتحہ خوانی کے دوران کچھ شکوے شکایت دل ہی دل میں کرنے لگے۔

باغ جناح میں ٹہلتے ہوئے ہمیں جھریوں سے بھرے چہرے والا ایک ضعیف العمر شخص ملا جس نے بتایا کہ اس وقت کے لوگ انتہائی متحد، محب وطن اور پرجوش ہوتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد وقت کم تھا اور مقابلہ سخت تھا۔ ابھی انگریز اور ہندوؤں کے دیئے ہوئے زخم تازہ تھے کہ اللہ کو ہمارا ایک اور امتحان لینا مقصود ہوا اور 11 ستمبر 1948 کو بابائے قوم، خالق حقیقی سے جاملے۔ قائداعظمؒ کے بعد اس قوم کو احساس ہوا کہ وہ کتنی اہم شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔ قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی اس جدوجہد کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا وطن ہو جہاں مسلمان آزادانہ طور پر بھرپور زندگی گزار سکیں، جہاں لوگ اعلی اخلاق و کردار کے ساتھ اپنے حقوق و فرائض کو بہترین طریقے سے ادا کرکے زندگی بسر کرسکیں۔ ’’یہ ملک پاکستان انتہائی جدوجہد اور قربانیوں سے حاصل کیا گیا،‘‘ یہ الفاظ کہتے ہی وہ شخص مجھے تنہا چھوڑ کر آگے چل پڑا اور میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔

کراچی میں گزشتہ چند سال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں سے شہر میں امن و امان کی صورت احوال میں خاصی بہتری آئی ہے اورعوام کے دلوں سے بہت حد تک خوف نکل گیا ہے۔ آبادی، کراچی کا بڑا مسئلہ ہے، شہر کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر اوور لوڈڈ ہے۔ میں نے مزار قائد کے احاطے میں موجود کینٹین سے کچھ کھانے کی چیزیں خریدیں اور انہیں کھانے کے بعد کچھ خالی شاپر ڈسٹ بن میں ڈال دیئے۔ مگر جب میں نے ارد گرد نظریں دوڑائیں تو مجھے کئی کاغذوں کے خالی ریپرز نظر آئے تو کچھ مایوسی ہوئی۔

آگے بڑھا تو ایک اور عمر رسیدہ اور جھریوں سے بھرپور چہرے والا شخص اپنی بیگم کو بابائے قوم کا یہ فرمان سنا رہا تھا: ’’مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟ مسلمانوں کا طرزِ حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے پہلے ہی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا تھا۔ الحمدللہ قرآن پاک ہماری رہنمائی کےلیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔‘‘

’’آج ترقی یافتہ پاکستان کا نعرہ لگانے والے قائد کے پاکستان اور ان کے رہنما اصولوں کو بھول گئے ہیں؛ جنہوں نے مسلمانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور دین اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کےلیے الگ خودمختار ریاست قائم کرنے کےلیے انتھک جدوجہد کی تھی اور ہمیں آزاد ریاست دے گئے۔‘‘ یہ باتیں سن کر میں خاموش ہوگیا۔ میں نے اس جھریوں زدہ چہرے سے کوئی بھی سوال نہ کیا اور مزار کے اندر داخل ہوگیا۔ میں اندر جاکر سوچنے لگا کہ میرے پیارے پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جسے اللہ نے دنیا کے بہترین معدنی وسائل سے نوازا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس کے پاس بہترین چار موسم ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس کے پاس دنیا کے بہترین تازہ پھل موجود ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں کی مٹی انتہائی زرخیز ہے جو سونا اگلتی ہے۔ مگر آج میرے دماغ میں ایک سوال ابھرتا ہے کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب بابائے قوم نے دیکھا تھا؟ اس بات پر ہم سب کو ضرور سوچنا چاہیے۔

ہماری دعا ہے کہ پاکستان کو اللہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ ان شاء اللہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گا۔

سفر ابھی جاری ہے

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ببرک کارمل جمالی

ببرک کارمل جمالی

بلاگر ایم اے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کرچکے ہیں جبکہ بلوچستان کے مسائل پر دس سال سے باقاعدہ لکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف اخبارات میں آپ کے کالم اور بلاگ شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔