بڑھاپا

ذیشان الحسن عثمانی  جمعرات 14 مارچ 2019
ہمارے گاؤں میں 50 کے پیٹے میں لوگ مسجد کا فرنیچر بن جاتے تھے، فجر سے پہلے مسجد میں آتے اور عشاء کے بعد نکلتے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ہمارے گاؤں میں 50 کے پیٹے میں لوگ مسجد کا فرنیچر بن جاتے تھے، فجر سے پہلے مسجد میں آتے اور عشاء کے بعد نکلتے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

بڑھاپے کی ابتداء جوانی سے ہوتی ہے۔ بندہ جوانی کہاں گزارتا ہے، کیسے گزارتا ہے، کس کے ساتھ گزارتا ہے؟ ان تمام کا تعلق بڑھاپے سے ہے۔ جوانی کے کام بڑھاپے کی حدود کا تعین کرتے ہیں۔ جن کی جوانی پاک گزرے وہ بڑھاپے میں ذلیل ہونے سے بچ جاتے ہیں۔

کچھ لوگ اچانک بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ تمام مشاغل سے توبہ تائب ہو کر یکسوئی سے اللہ کی طرف دھیان ہوجاتا ہے۔ انسانی نفسیات ہے کہ وہ ہمیشہ آگے کی سوچتا ہے۔ بچہ ہمیشہ باپ کے جوتے میں پاؤں ڈالتا ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ وہ سیکنڈوں میں بڑا ہوجائے۔ پھر پڑھائی، جاب اور فیملی کی خواہش؛ پھر مکان، پیسہ، گاڑی اور گھومنے کا شوق؛ پھر بڑھاپا۔ اب آگے سوائے موت کے کچھ نہیں دکھتا تو گھوم کر پھر بچہ بن جاتا ہے۔

میرا ایک دوست بڑا رنگین مزاج تھا۔ پھر ایک دن اچانک بوڑھا ہوگیا۔ کہنے لگا عبداللہ، اللہ سائیں نے بیٹی دی ہے، اب حیا آتی ہے۔ ایک دوست کی ماں کا انتقال ہوگیا اور وہ بوڑھا ہوگیا۔ اور ایک کو تو دولت کی فراوانی نے بوڑھا کردیا، کہتا تھا نافرمانی کا بوجھ ہی نہیں اٹھتا تھا، اب شکر کے بوجھ نے تو کمر دوہری کردی۔

ہمارے گاؤں میں 50 کے پیٹے میں لوگ مسجد کا فرنیچر بن جاتے تھے۔ فجر سے پہلے مسجد میں آتے اور عشاء کے بعد نکلتے۔ سردی، گرمی، طوفان و بارش، آپ انہیں مسجد میں ہی پائیں گے۔ چپ چاپ، خاموشی سے نماز و تلاوت میں مشغول۔ آتے جاتے بچوں اور جوانوں کو نماز کی تلقین اور بس۔ جیسے آج کل کے نوجوان دوستوں کو اپنے محبوب کے قصّے سناتے ہیں، یہ بھی مسجد آنے کی تلقین کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پروان چڑھتے معاشرے کا ایک دردناک المیہ یہ بھی ہے کہ لوگوں نے بوڑھا ہونا چھوڑ دیا ہے۔ میرا دوست عبداللہ کہتا ہے کہ بڑھاپا بڑی نعمت ہے۔ نہ کام کاج، نہ ذمہ داریاں۔ بندہ بس ذکر کرتا رہے، کرتا ہی رہے اور ایسے ہی مرجائے، کیا کہنے۔

عجیب پاگل آدمی ہے۔ ایک دن کہنے لگا کہ کبھی کبھی جوانی کا ایک دن، ایک لمحہ یا ایک فون کال دس سال کا بڑھاپا تبدیل کردیتی ہے۔ کاتب دنیا لکھ دیتا ہے۔ شہرت و دولت لکھ دیتا ہے مگر سجدہ نکال دیتا ہے۔ اب مارتا رہے ٹھوکریں، لگاتا رہے چکر، سب غارت۔ جس کی تقدیر سے قرب نکل گیا، نسبت کھوٹی ہوگئی، اب وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے بولے، اسے ہی نہیں دیکھنا تو کسے پرواہ!

ایک دن کہنے لگا کہ جس نے محبت میں یار کے زانوں پر سر رکھ کر زلفوں میں شام نہ گزاری ہو کہ کسی بھی اور کی طلب نہ رہے، اسے مسجد میں پہلی صف کا مزہ آہی نہیں سکتا۔ وہ کہتا ہے کہ موذّن کو نہ دیکھو، یہ دیکھو پیغام کس کا ہے، کس کے کہنے پر پکار رہا ہے۔ کس کےلیے پکار رہا ہے۔ مجھے تو یقین جانیے، اب عبداللہ سے ڈر لگنے لگا ہے۔ پچھلے دنوں مسجد میں لڑ پڑا۔ ایک غریب آدمی فون پر کسی کو آئی لو یو کہہ رہا تھا۔ عبداللہ نے اسے جھوٹا کہہ دیا۔ کہنے لگا، کسی ایک جگہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ چل نکل یہاں سے۔ اس آدمی نے تو گریبان ہی پکڑ لیا۔

سوچنا چاہیے اور بڑھاپا پلان کرنا چاہیے۔ 40، 50، 55، 60 کوئی ایک نمبر سوچ لیجیے اور اس کے بعد بس۔ دنیا نے بہت سال لے لئے، اب باقی عمر محبت کےلیے رکھ چھوڑیئے۔ کوئی نسبت، کوئی ذکر، کوئی حالت۔ دس بیس سال وقف کر دیجیے۔ خدارا، بڑھاپے کو تو بڑھاپے کےلیے چھوڑ دیجیے۔

کسی کو 70 کی دہائی میں فوڈ بلاگر بننے کی سمائی ہے، تو کوئی سائیکل پر ملک گھومنے نکل گیا ہے، کسی نے انا کے ماروں کے انٹریوز کرنے کی ٹھانی ہے تو کسی نے اپنی زندگی کی کارگزاری دنیا کو سنانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ جیسے مہذب گھرانوں میں بچوں کو دس بارہ سال کی عمر سے پہلے موبائل فون نہیں دیتے، بالکل اسی طرح 60 کے بعد بوڑھوں کو بھی نہیں دینا چاہیے، صبح سے شام واٹس اپ گروپ کے ایڈمن بن جاتے ہیں اور ہر الٹے سیدھے مسیج کو درجنوں لوگوں تک بھیجنا ان کی زندگی کا واحد فرض بن جاتا ہے۔ الله کا خوف تو چپ کرا دیتا ہے، پتا نہیں لوگ خدا کے ڈرنے پر دو دو گھنٹے بول کیسے لیتے ہیں؟ ایک بزرگوار دوست ہیں، انہیں کافر کہلوانے کو شوق چڑھ آیا ہے، آئے دن کہتے پھرتے ہیں کہ فلاں آدمی مجھے قادیانی کہتا ہے، فلاں اس فرقے یا مذہب کا بتاتا ہے، ہزار بار کہا کہ محترم آج کی دنیا میں کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں، چھوڑیئے ان باتوں کو۔ سچا آدمی تو درکنار، مدّت ہوئی کوئی ڈھنگ کا جھوٹا نہیں ملا ۔ پہلے لوگ اگر جھوٹ کہہ دیتے تو پھر اس پر قائم رہتے تھے، آج کل تو اپنے جھوٹ تک سے مکر جاتے ہیں۔ جس معاشرے میں لفظوں کی آبرو لٹ جائے وہاں فرق کیا پڑتا ہے؛ جو چاہے کہیے، جہاں چاہے کہیے اور جسے چاہے کہیے۔

جو دیکھتے ہیں اور حق رکھتے ہیں بولنے کا، وہ خاموش ہیں یا کرادیئے گئے ہیں۔ جن پر بولنا حرام ٹھہرا، وہ میڈیا پر آن بیٹھے ہیں۔ میرے دوست عبدللہ کو ایک گورنمنٹ جاب کی آفر آئی۔ اس نے یہ سوچ کر انکار کردیا کہ آج کوئی ایسی پوسٹ نہیں بچی جہاں منافق نہ بیٹھا ہو، کہیں فرشتوں نے منافقوں کی حاضری لگائی تو میرا نام بھی نہ آجائے۔ نام نامی کے اس دور میں تھوڑی محنت کریں اور کچھ گمناموں کو ڈھونڈیں جو خاموش رہنا سکھا دیں۔

ایک عمر ایسی آنی ہی چاہیے کہ بندہ چپ ہوجائے۔ مان لیا کہ آپ ثاقب الذّہن ہیں، بڑے آدمی ہیں، بس کردیجیے۔ 7 ارب لوگ بستے ہیں دنیا میں! بالوں میں سفیدی آجائے اور دل کالا رہ جائے، عمر رسیدہ ہو جائے اور اپنے رب تک رسائی نہ ہو۔ تہذیبوں کے تصادم پر لیکچر دے دیں مگر نفس کا تصادم نظر نہ آئے، قوموں کے عروج و زوال کے چکر میں شخصیت زوال پذیر ہوجائے۔ عمر گزر جائے اور خدا یاد نہ آئے اور اس کو نہ پہچانیں… اس بڑھاپے سے کہیں بہتر کہ آدمی جوانی میں مرجائے۔

عبداللہ کہتا ہے کہ جب اپنی جوانی پر نظر پڑتی ہے تو کانپ جاتا ہوں کہ بڑھاپا کتنا بھیانک ہوگا۔ ہر شخص کی تنہائیوں کا ایک ربّ ہوتا ہے۔ جب تنہا ہوا، اس کا خیال آگیا۔ اگر وہ ربّ خدائے پاک و برتر کی ذات نہیں تو آدمی کو ڈرنا ہی چاہیے کہ کیا کر رہا ہے، کدھر جارہا ہے، کیوں جارہا ہے، رک کیوں نہیں جاتا؟

آئیے! آج اپنی جوانی کا واسطہ دے کر اپنے بڑھاپے کے سنورنے کی دعا کرتے ہیں۔

’’اے تنہائیوں کے مالک اللہ! اے اللہ! تو جانتا ہے کہ گناہ کی ہر پلاننگ کے بعد تجھے پکارا کہ دیکھ میں تو یہ کرنے چلا ہوں، کوئی کنٹرول نہیں۔ میں مارا جاؤں گا۔ تو بچا لے۔ تو روک لے، تو کرم کر۔

’’اے عظیم الشان دروازوں کے مالک اللہ! اے لکھنے والوں کے اللہ کہ جب وہ تیرے حکم سے لکھتے چلے گئے۔ اے مضطرب راتوں کے مقصود اللہ، تجھے ان اُلٹی ہتھیلیوں کا واسطہ جو بے کسی میں الٹا دی گئیں۔ اُس بڑھی جھولی کا واسطہ جو شکم کو ظاہر کردے۔ ان کھلی پنڈلیوں کا واسطہ جو خوف سے شل ہوگئیں؛ اور ان بہتی آنکھوں کا واسطہ جنہیں توبہ کےلیے لفظ نہیں ملے۔

’’ہم پر رحم کر، ہمارا بڑھاپا سنوار دے۔ ہماری جوانیاں ایسی کردے کہ لوگ بڑھاپے میں طعنہ نہ دیں۔

’’بےشک تیرا حق ہے کہ بندہ تنہائی میں صرف تیرا ہو۔ ہم تنہائیوں کے مشرک ٹھہرے۔ ہمیں عشق میں مرتد نہ کر۔

’’محبت کا نہیں تو نسبت کا واسطہ، خود کا نہیں تو امت کا واسطہ
ان واری ہوئی محبتوں کے صدقے، دیدار لکھ دے
ان ادھورے گناہوں کے صدقے، سجدہ لکھ دے
اس چپ کے صدقے، تو بات کر لے
تھوڑے میں اب گزارہ نہیں، کُھل کے مل
میں نہیں بن پاتا ناں تیرا! تُو اپنا بنا لے۔ آمین!‘‘

صوفی کو کبھی کبھار بجھا بھی رہنا چاہیے۔ مسلسل جلتا رہے گا تو راکھ ہوجائے گا۔

آپ سب کو بڑھاپا مبارک!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی

ذیشان الحسن عثمانی

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی فل برائٹ فیلو اور آئزن ہاور فیلو ہیں۔ ان کی تصانیف http://gufhtugu.com/authors/zeeshan-ul-hassan-usmani/ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ وہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور معاشرتی موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آج کل برکلے کیلی فورنیا، امریکہ میں ایک فرم میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ہیں۔ آپ ان سے [email protected] پر رابطہ کر سکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔