شہباز شریف کو کرپشن الزامات سے کلین چٹ مل رہی ہے

مزمل سہروردی  جمعـء 15 مارچ 2019
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

کرپشن کرپشن کا شور مچانے والی یہ حکومت اب تک ماضی کی حکومت کا کرپشن کا ایک کیس بھی سامنے نہیں لا سکی ہے۔ بلکہ اس حکومت کا موقف ہے کہ اس نے ابھی تک کسی کے خلاف بھی کرپشن کا کوئی کیس نہیں بنایا ہے۔ جو کیس انتخابات سے پہلے بنے تھے وہی چل رہے ہیں۔ میں پی پی پی کی بات تو نہیں کرنا چاہتا کیونکہ پی پی پی ابھی سندھ میں برسر اقتدار ہے۔ لیکن ن لیگ پر تو اقتدار کے دروازے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔

وہ اقتدار سے باہر ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اب تک ن لیگ کی نہ تو پنجاب اور نہ ہی مرکزی حکومت کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس اور اسکینڈل سامنے لا سکی ہے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں اب تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے شہباز شریف کو کلین چٹ پر کلین چٹ جاری کرنی شروع کر دی ہے۔ اب تک پنجاب حکومت شہباز شریف کے منصوبوں کی تعریف کرنے کے سواکچھ نہیں کر سکی ہے۔

پنجاب میں بننے والی میٹروز اور اورنج لائن میں بھی یہ حکومت کوئی کرپشن نہیں ڈھونڈ سکی بلکہ پشاور کی میٹرو پر نااہلی کی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ کبھی ٹریک چھوٹا بن جاتا ہے، کبھی کچھ ہوجاتا ہے۔ لاگت میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

ایسا اگر ن لیگ کے کسی منصوبے کے ساتھ ہوا ہوتا تو کرپشن کرپشن کا  طوفان مچ جاتا۔ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد پنجاب میں لگائے جانیو الے بجلی کے منصوبوں کے آڈٹ کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مجھے امید ہے کہ اگر اب تک کچھ سامنے نہیں آیا تو صاف ظا ہر ہے کہ یہ منصوبے صاف شفاف ہی نکلیں گے ۔ پی کے ایل آئی کی مثال بھی سب کے سامنے ہے۔ اس منصوبے کو بھی جس قدر گندا کرنے کی کوشش کی گئی وہ بھی سب ناکام ہو گئی ہیں بلکہ سپریم کورٹ نے ہی اس منصوبے کو کلین چٹ دے دی ہے۔

بیچاری تحریک انصاف کی حکومت اس ضمن میںبھی کچھ سامنے لانے میں ناکام رہی ہے۔ اب صرف ڈاکٹر سعید اختر کو نکال کر ہی تسکین حاصل کی جارہی ہے۔ اسی طرح خواتین پر تشدد کے خلاف بنائے جانے والے سینٹر میں تنخواہیں بند کر کے بھی شہباز شریف کے منصوبوں سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ملازمین کی تنخواہیں بند کرنے سے شہباز شریف کو فائدہ ہی حاصل ہوگا۔

سونے پر سہاگہ پنجاب اسمبلی میں شہباز شریف کی لیپ ٹاپ اسکیم کو بھی کلین چٹ دے دی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پنجاب حکومت نے پنجاب اسمبلی کو بتایا ہے کہ لیپ ٹاپ کی خریداری اور ان کی تقسیم میں کوئی بے قاعدگی سامنے نہیں آئی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پانچ سال میں شہباز شریف نے ذہین طلبا میں چار لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے تھے۔ اس موقعے پر تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی اور شور مچاتی تھی لیپ ٹاپ کی خریداری میں بہت گھپلے کیے جا رہے ہیں۔

من پسند لوگوں کو ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ مہنگا لیپ ٹاپ خریدا گیا ہے۔ لیکن اب پنجاب اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ قدرت کی ستم ظرفی دیکھیں یہ کلین چٹ بھی تحریک انصاف کو خود ہی جاری کرنی پڑی۔ الزام بھی انھوں نے ہی لگائے اب کلین چٹ بھی وہی جاری کر رہے ہیں۔ اس کلین چٹ کے بعد جب بہت شور مچ گیا۔ اس لیے اب نئی منطق پیش کی جا رہی ہے کہ ہم کلین چٹ پیش کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ کلین چٹ تو نیب جاری کرے گا۔ کون سمجھائے تحریک انصاف کو کہ اب آپ اپوزیشن میں نہیں حکومت میں ہیں۔ تحقیقات کرنے کا اختیار آپ کے پاس ہے۔

اگر پنجاب حکومت کے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے تو نیب کے پاس ثبوت کہاں سے آئیں گے۔ نیب نے بھی تو آپ سے ہی ثبوت لینے ہیں۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی پنجاب حکومت اب تک لاہور اور دیگر شہروں کی صفائی کے لیے بنائے جانے والا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا نظام چلانے میں بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہے۔تا ہم اب اس ضمن میں بھی حکومت پنجاب کو اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے اور اب 18مارچ کو لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میںہفتہ صفائی منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اب تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے پنجاب اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں یہ تسلیم کر لیا ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام میں کوئی کرپشن سامنے نہیں آئی ہے۔ نہ کوئی گھوسٹ ملازمین سامنے آئے ہیں۔اور نہ ہی کرپشن کا کوئی اور اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ انتخابات سے قبل لاہور اور کراچی کے تقابلی جائزہ میں کراچی والوں نے بھی یہ بات بھی تسلیم کی ہے کہ لاہور میں صفائی کا بہترین نظام ہے۔ کراچی کے گند کے سامنے لاہور بہت صاف قرار دیا گیا تھا۔ لاہور کی ترقی کو کراچی کے لیے مثال قرار دیا گیا ہے۔ اسی تقابلی جائزہ میں شہباز شریف کو کراچی میں بہت پذیر آئی ملی تھی۔ وہ پذیرائی آج بھی موجود ہے۔

میری تجویز ہو گی کہ شہباز شریف کراچی کے ساتھ اپنے روابط دوبارہ مضبوط کریں۔ آشیانہ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر ہے ، اگر یہاں بھی فیصلہ ان کے حق میں آیا تو ایسا لگ رہا ہے کہ کم از کم شہباز شریف تو آشیانہ کیس سے بھی باعزت بری ہو جائیں گے۔

تحریک انصاف نے شہباز شریف کو کرپشن کے کیسز میں الجھانے کی بہت کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں ایک ماحول بنایا گیا کہ جیسے پنجاب کی سابق حکومت کے تمام منصوبے کرپشن کا شاہکار ہیں۔ لیکن اب یہ تمام الزامات  غلط ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔ خود تحریک انصاف کی طرف سے تمام منصوبوں کو کلین چٹ جاری کرنا دراصل شہباز شریف کو کلین چٹ دینے کے مترادف ہے۔ اس کو قدرت کی ستم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے۔ شہباز شریف اور ان کے منصوبوں کو ملنے والی کلین چٹ تحریک انصاف کو پریشان کر رہی ہیں۔ اسی لیے وہ ایک دن کلین چٹ بھی جاری کرتے ہیں اور دوسری دن وضاحت بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس سے تحریک انصاف اپناکیس مزید خراب کر رہی ہے۔اور شہباز شریف کو مزید فائدہ ہورہا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔