مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

ماہ طلعت نثار  جمعـء 15 مارچ 2019
توکّل، باہمی اتحاد و اتفاق نصرت خداوندی کی ضمانت
 فوٹو: فائل

توکّل، باہمی اتحاد و اتفاق نصرت خداوندی کی ضمانت فوٹو: فائل

کفار و مشرکین مسلمانوں کے خلاف عداوت کی آگ میں اتنے جلے بیٹھے تھے کہ جب سرور کونین احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفے ﷺ بہ حکم خداوندی مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے آئے تو اس کے دوسرے ہی سال جنگ ہوئی جو غزوۂ بدر کے نام سے موسوم ہے۔

یہ بغیر منصوبہ بندی اور تیاری کے اچانک ہوئی تھی۔ اس میں مسلمانوں کی تعداد 313 جب کہ کفار کی تعداد تین گنا زیادہ تقریباً ایک ہزار تھی۔ کفار کے پاس اسلحے کی بھی فراوانی تھی۔ ان حالات میں مسلمانوں کا سہارا صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات تھی جس کے حضور وہ گڑگڑا کر دعا اور مدد کی فریاد کریں۔

حضور اکرمؐ ایک خیمے میںنہایت آہ و زاری سے دعا مانگنے میں مصروف تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے آنحضرت کی دعا کے یہ کلمات نقل فرمائے ہیں، مفہوم: ’’یااللہ مجھ سے جو وعدہ (کام یابی و کام رانی کا) آپ نے فرمایا ہے اس کو جلد پورا فرما دے۔ یااللہ اگر یہ مٹھی بھر جماعت المسلمین فنا ہوگئی تو پھر زمین میں کوئی تیری عبادت کرنے والا باقی نہیں رہے گا۔‘‘ دعا کی قبولیت کا بیان سورہ انفعال میں اس طرح بیان ہوا ہے جس کا مفہوم یہ ہے: ’’اللہ نے تمہاری فریاد سن لی اور فرمایا ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کروں گا جو یکے بعد دیگرے قطار کی صورت میں آنے والے ہوں گے۔‘‘

سورۃ العمران میں مدد کا تذکرہ کچھ اس طرح آیا ہے: ’’اور یقینا اللہ نے تمہیں بدر میں مدد دی جب تم کم زور تھے۔‘‘ آگے ان فرشتوں کی صفت بھی ارشاد فرمائی ہے کہ وہ ایک خاص لباس اور علامت کے ساتھ ہوں گے۔ حدیث مبارکہ میں مذکورہ علامت اس طرح بیان ہوئی ہے کہ بدر میں نازل ہونے والے فرشتوں کے عمامے سفید اور غزوہ حنین میں مدد کے لیے آنے والے فرشتوں کے عمامے سرخ تھے۔‘‘ رب کائنات نے فرشتوں کو جو بے نظیر قوت و طاقت عطا فرمائی ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے ہوسکتا ہے جو لوط علیہ السلام کے دور میں زمین کا تختہ الٹنے کے وقت پیش آیا کہ جبرئیلؑ نے ایک پَر کے ذریعے یہ وسیع و عریض تختہ الٹ دیا۔

غزوۂ احد 5 شوال تین ہجری جبل احد کے قریب ہوئی، اس لیے غزوۂ احد کے نام سے مشہور ہوئی۔ کفار کو غزوۂ بدر میں جو نقصان اٹھانا پڑا اس کا انتقام لینے کے لیے غزوہ احد ہوئی، غزوہ کے آغاز سے پہلے ہی مدینہ میں ہنگامی حالات کا اعلان کروا دیا گیا کہ مسلمان مجاہد جہاں بھی جائیں ہتھیار لگا کر جائیں، حتیٰ کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں بھی بغیر اسلحے کے نہ نکلتے۔ اس کے علاوہ آپؐ کے دولت خانے پر پہرا مقرر کیا گیا۔ غزوۂ احد میں بھی فرشتوں کا نزول ہوا تھا۔

حضرت جبرئیلؑ اور حضرت میکائیلؑ نازل ہوئے تھے اور حضورؐ کی حفاظت کرتے ہوئے لڑے تھے۔ جیسا کہ سعد بن ابی وقاصؓ کی روایت سے ثابت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے روز آپؐ کے ساتھ دو سفید کپڑوں میں ملبوس آدمی دیکھے جو لڑ رہے تھے اور وہ دو آدمی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے اور نہ بعد میں دیکھے۔غزوۂ خندق یا احزاب 5 ہجری: غزوۂ خندق اس لیے کہا جاتا ہے کہ پہلی مرتبہ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے خندق کھودی گئی تھی۔ غزوۂ احزاب اس لیے کہ احزاب کا مطلب ہے جماعتیں۔ کیوں کہ اس غزوہ کے موقع پر تمام قبائل عرب و یہود کی اتحادی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف متحد ہوگئی تھیں۔

جب حضورؐ کو اس متحدہ محاذ کے حرکت میں آنے کی اطلاع ملی تو سب سے پہلے جو کلمہ حضورؐ کی زبان مبارکہ سے نکلا وہ تھا: ’’ حسبنا اللہ و نعم الوکیل‘‘ یعنی ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی ہمارا بہتر کارساز ہے۔‘‘ یہ وقت مسلمانوں پر بہت زیادہ سخت تھا لیکن اللہ کی نصرت و امداد سے اس کا انجام مسلمانوں کے حق میں ایسی عظیم فتح و کام رانی کی صورت میں سامنے آیا کہ اس فتح نے تمام مخالف گروپوں یعنی منافقین، یہود و مشرکین کی کمر توڑ دی۔

خندق کی کھدائی اور معجزہ: تمام مہاجرین و انصار اور آقائے دو عالم حضورؐ نے خندق کی کھدائی میں حصہ لیا۔ تقریباً بیس دن میں خندق کی کھدائی کا کام مکمل ہوا۔ خندق کی کھدائی کے دوران ایک عظیم معجزہ پیش آیا وہ یہ کہ حضرت سلمان فارسیؓ کے حصے میں جو خندق کی کھدائی آئی اس میں ایک سخت چٹان آگئی کہ اس نے ان کے اوزار توڑ دیے مگر چٹان اپنی جگہ پر قائم رہی، حضورؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر مسئلہ پیش کیا گیا تو حضورؐ نے کدال اپنے دست مبارک میں لے کر چٹان پر ضرب لگائی اور یہ آیت پڑھی، مفہوم: (پوری ہوگئی نعمت آپؐ کے رب کی سچائی کے ساتھ) اس ضرب کے ساتھ چٹان کا ایک تہائی حصہ کٹ گیا اور ساتھ ہی ایک روشنی پتھر کی چٹان سے برآمد ہوئی۔ اس کے بعد دوسری ضرب لگائی اور مذکورہ آیت کو پورا کیا یعنی: چٹان ایک تہائی اور کٹ گئی اور پتھر سے ایک اور روشنی نکلی، تیسری مرتبہ پوری آیت پڑھی اور ضرب لگائی تو باقی چٹان بھی کٹ گئی اور پتھر سے اسی طرح روشنی نکلی۔

جب آپؐ خندق سے باہر نکلے تو حضرت سلمانؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے جتنی بار اس پتھر پر ضرب لگائی میں نے ہر بار پتھر سے روشنی نکلتی دیکھی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ پہلی ضرب پر جو روشنی نکلی میں نے اس روشنی میں یمن و کسریٰ کے شہروں کے محلات دیکھے اور جبرئیل امین نے مجھے بتایا کہ آپؐ کی امت ان شہروں کو فتح کرے گی۔ جب دوسری ضرب لگائی تو مجھے رومیوں کے سرخ محلات دکھائے گئے اور جبرئیل امین نے خوش خبری دی کہ آپؐ کی امت ان شہروں کو بھی فتح کرے گی۔

یہ ارشاد سن کر سب مسلمان خوش ہوئے اور آیندہ کی عظیم الشان فتوحات پر یقین ہوگیا۔ خندق کی کھدائی کا کام تقریباً پندرہ سے بیس دن تک جاری رہا۔ حضورؐ اور صحابہ کرامؓ نے تین دن تک فاقہ کشی فرمائی۔ حضورؐ اور صحابہ کرامؓ نے پیٹ پر پتھر باندھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضورؐ سے گھر جانے کی اجازت مانگی اور گھر جاکر اپنی بیوی سے کھانے کا پوچھا، بیوی نے کہا گھر میں صرف ایک صاع (تقریباً تین کلو) گندم ہے اور ایک بکری کا بچہ ہے۔ میں نے بیوی سے روٹی کا انتظام کرنے کا کہا اور خود بکری کا بچہ ذبح کرکے پکایا۔ بیوی نے گندم پیس کر روٹی پکانا شروع کی، جب کھانا تیار ہونے والا ہوا تو میں نے حضورؐ کو مدعو کیا اور کہا کھانا تھوڑا ہے چند افراد کو لے چلیے۔ حضورؐ نے فرمایا جب تک میں نہ آؤں تندور سے روٹی نہ نکالو اور ہانڈی چولہے سے نہ اتارو۔ آپؐ بمع مہاجرین اور انصار تشریف لے آئے اور خود اپنے دست مبارک سے روٹی پر گوشت رکھ کر کھانا صحابہ کرامؓ میں تقسیم فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ سب نے سیر ہوکر کھانا کھایا۔ پھر آخر میں حضرت جابرؓ سے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ اور اپنے لوگوں کو بھی بھیجو کیوں کہ آج لوگ بھوکے ہیں۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ تقریباً ہزار لوگوں نے سیر ہوکر کھانا کھایا پھر بھی ہانڈی گوشت سے بھری ہوئی جوش مار رہی تھی اور آٹا بھی ابھی تک باقی تھا۔

غزوۂ احزاب کے موقع پر سرور کونین حضورؐ نے اللہ کے حضور یہ دعا فرمائی، مفہوم :’’اے کتاب نازل کرنے والے اللہ اور اے جلد حساب کرنے والے! ان گروہوں کو شکست دے۔ اے اللہ ان کو شکست دے اور ان کے پاؤں اکھاڑ دے۔‘‘آپؐ اکثر یہ دعا بھی فرماتے، مفہوم: ’’اے اللہ ہمارا پردہ رکھ اور ہمارے خوف کو دور فرما دے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور دعا قبول ہوئی اور ایک زور دار آندھی آئی جس نے طوفان کی شکل اختیار کی اور دشمن بھاگ گئے۔ حدیث مبارکہ میں حضورؐ کا فرمان کا مفہوم ہے: ’’اللہ نے میری مدد باد صبا کے ذریعے کی۔‘‘ اس مدد کا تذکرہ سورۃ الاحزاب میں ان الفاظ میں آیا ہے، مفہوم: ’’پس ہم نے ان پر ایسی ہوا بھیجی اور ایک ایسا لشکر بھیجا جسے تم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘

تمام غزوات کے جائزے سے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں کہ توکل علی اللہ، باہمی اتحاد و اتفاق، خوف الٰہی اور شوق شہادت کے جذبات ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہ بات صد فیصد درست ہے کہ جن کے دلوں میں خوف الٰہی نہیں ہوتا ان کے دلوں میں دشمن کا خوف چھایا رہتا ہے۔ جیسا کہ مشرکین کے بارے میں ارشاد الٰہی کا مفہوم ہے: ’’ ان کے دلوں میں خدا سے زیادہ تمہارا خوف چھایا ہوا ہے۔‘‘

یااللہ مسلمانوں کے دلوں میں خوف الٰہی کی وہ حرارت شعلہ فگن کردے کہ دشمنان اسلام پر بجلی بن کر گریں۔ اے رب کریم عالم اسلام اور وطن عزیز کو غیر مستحکم اور تنہا کرنے کی ابلیسی سازشوں کو ناکام بنا دے۔ اے رب کریم ذوالجلال و الاکرام! مسلمانوں کو عالمی و اندرونی سازشوں سے پاک کرنے کے لیے باہمی اتحاد و اتفاق کی دولت سے مالا مال کردے۔ اے رب کریم! غزوات کے اس جائزے کو دور حاضر کے لیے باعث رشد و ہدایت بنادے اور جذبۂ ایمانی، خوف الٰہی، باہمی اتحاد و اتفاق میں اضافہ فرما دے۔ آمین

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔