نیا میثاق جمہوریت

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 16 مارچ 2019
tauceeph@gmail.com

[email protected]

بلاول بھٹو زرداری اور میاں نواز شریف نے نیا میثاق جمہوریت کرنے پر اتفاق رائے کرلیا، دونوں رہنماؤں نے دیگر سیاسی جماعتوں کو نئے میثاق پر شامل کرنے کی اہمیت پر بھی اتفاق کا اظہارکیا ۔ بلاول بھٹو نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں میثاق جمہوریت پر عمل درآمد نہ ہونے کو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی ناکامی کہا ۔

بلاول اور میاں نواز شریف کی یہ ملاقات کیا بے نظیر اور میاں نواز شریف کے درمیان 2005ء میں لندن میں ہونے والی ملاقات کی طرح دوررس نتائج کی حامل ہوگی ؟ اس بات کا انحصار عمران خان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پر منحصر ہے ۔ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ممکنہ طور پر نئے میثاق جمہوریت کے بنیادی نکات کیا ہوں گے ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ تاریخی طور پر ایک دوسرے کے حریف رہے۔

شریف خاندان نے بھٹو حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کی حمایت کی تھی ۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار میں آتے ہی اتفاق فونڈری کو شریف خاندان کے حوالے کر دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے بانی سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکی صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی سے میاں نوازشریف کا خاندان براہِ راست متاثر ہوا تھا ۔

سابق آمر جنرل ضیاء الحق نے 1979ء میں پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر اپنے اقتدار کو مستحکم کیا تھا ۔ 1983ء کی ایم آر ڈی کی بحالی جمہوریت کی تحریک پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی تاریخی قربانیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دباؤ کو زائل کرنے کے لیے جنرل ضیاء الحق نے 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات منعقد کرائے جس میں میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔

جب جنرل ضیاء الحق نے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو ان کے عہدے سے برطرف کیا تو جمہوری نظام کو دھچکا پہنچا، یوں جب 1988ء میں بے نظیر بھٹو پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں تو میاں صاحب پنجاب کے وزیر اعلی بنے۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان مخالفت کا دور شروع ہوا ۔ وفاق اور پنجاب کے درمیان تاریخ میں پہلی دفعہ ٹکراؤ ہوا ۔ پنجاب نے پہلی دفعہ صوبائی خودمختاری کی اہمیت کو محسوس کیا۔

پہلی دفعہ پنجاب کے اپنے بینک، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے قیام کے مطالبے ہوئے، پھر میاں نواز شریف ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کی بدعنوانیوں کا چرچا ہوا۔ احتساب کا ادارہ آصف علی زرداری اور ان کے دوستوں کے خلاف سرگرم ہوا ۔میاں نواز شریف نے وزیر اعظم کے مکمل اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کی۔ وہ بھارت سے دوستی اور پاکستان کے لبرل چہرے کی اہمیت سے واقف ہوئے، یوں صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جیسا جنرل ضیاء الحق نے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے ساتھ کیا تھا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں میاں نواز شریف کے والد میاں شریف سمیت قریبی عزیز اور ساتھی قید ہوئے۔ جب پیپلز پارٹی کے صدر فاروق لغاری نے بدعنوانی اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات لگا کر بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کیا توآصف زرداری بدعنوانی کے الزامات کے ساتھ جیل بھیج دیے گئے۔ میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے شوہر کی مسلسل نظربندی کے باوجود صدر کے آٹھویں ترمیم کے تحت اسمبلیوں کو توڑنے کے اختیارات کے خاتمے کے لیے میاں صاحب کی آئینی ترمیم کی حمایت کی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان تاریخ میں یہ پہلا تعاون تھا۔ میاں نواز شریف نے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو لاہور میں مدعو کر کے خطے سے کشیدگی ختم کرنے کے لیے تاریخی اقدام کیا، مگر بعض قوتوں کو یہ سب کچھ پسند نہ آیا۔

کارگل کا محاذ گرم ہوا تو میاں نواز شریف نے امریکا کے صدر کلنٹن سے مذاکرات کر کے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کو رکوایا، اس کے بعد وزیر اعظم نے اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے جنرل مشرف کو برطرف کیا۔ میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور انھیںاٹک قلعہ میں نظربند کردیا گیا۔ میاں نواز شریف کے خلاف کراچی میں طیارہ اغواء کرنے کا مقدمہ چلا۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کراچی کی لانڈھی جیل بھیج دیے گئے جہاں آصف زرداری طویل عرصے سے نظربند تھے۔ آصف زرداری نے میاں برادران کو لانڈھی جیل میں خوش آمدید کہا۔ کہا جاتا ہے کہ لانڈھی جیل میں بے نظیر بھٹو ، زرداری اور نواز شریف خاندان کے درمیان مفاہمت کے دروازے کھل گئے۔ صدرکلنٹن کی ایماء پر سعودی حکمرانوں نے مداخلت کی اور میاں صاحب اپنے اہل خان کے ساتھ جدہ پہنچا دیے گئے، میاں نواز شریف کچھ عرصے بعد لندن چلے گئے۔ بے نظیر بھٹو پہلے ہی لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ آصف زرداری بھی جیل سے چھٹکارا پاکر لندن میں مقیم ہوئے۔

2005ء میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت پر اتفاق رائے ہوا۔ اس میثاق کے ذریعے پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کرنے، اقتدار کی پرامن قانونی منتقلی، شفاف انتخابات، عوام کے جاننے کے حق، صوبوں کے اختیارات اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے یکساں احتساب کے لیے شفاف ادارے کے قیام پر اتفاق ہوا۔ اگرچہ بے نظیر بھٹو نے صدر پرویز مشرف سے این آر او کر کے میثاق کی روح کو مجروح کیا اور بعدازاں میاں نواز شریف نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک اور یوسف رضا گیلانی کی منتخب حکومت کے خلاف مقتدرہ کی ڈاکٹرائن کو اپنا کر میثاق کو نقصان پہنچایا مگر 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین میں ترمیم پر اتفاق کر کے آصف زرداری اور میاں نواز شریف نے جمہوریت کے مستقبل کو بچالیا۔ پہلی دفعہ سیاسی جماعتوں کے وفاق اور صوبوں میں اکثریت کے حکومت کرنے کے حق کو عملی طور پر تسلیم کیا گیا۔

اس ترمیم کے ذریعے آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کے قیام ، احتساب کے شفاف نظام کے لیے منتخب اسمبلیوں کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کی سربراہی قائد حزب اختلاف کو سونپنے، آزاد انتخابات کے لیے نگراں حکومت کی تشکیل، وفاقی اور صوبائی کابینہ کے سائز جیسے اہم معاملات طے ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر 18ویں ترمیم پر 1970ء میں اتفاق ہو جاتا تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا۔ مگر میثاق کی اہم شقوں پر عملدرآمد کے باوجود مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے مقتدرہ سے ڈکٹیشن لینے کا سلسلہ ترک نہ کیا۔  اس میثاق میں اچھی طرز حکومت اور بدعنوانی سے پاک ریاست کے تصور کو حقیقی شکل دینے کے لیے اقدامات شامل نہ ہوئے۔

عمران خان نے کرپشن کے خلاف بیانیے کو اپناتے ہوئے 18ویں ترمیم کو نشانہ بنایا۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی بری طرز حکمرانی اور بدعنوانی کے خلاف محاذ نہ کرنے کی حکمت عملی کو مقتدرہ نے خوب استعمال کیا۔  سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف محدود آپریشن ہوا۔ وزیر اعظم نواز شریف اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے سحر میں تھے۔ اس بناء پر آصف زرداری سے ملنے سے انکاری ہوئے۔ زرداری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقریرکرکے دبئی چلے گئے۔

آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں نے پاناما لیکس اسکینڈل میں میاں نواز شریف پر تحریک انصاف سے زیادہ گولہ باری کی۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مخالفت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی ، سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں مسلم لیگ سے مفاہمت کرکے میاں رضا ربانی کو نامزد کرنے کے بجائے مقتدرہ کے جاری کردہ نقشے پر عملدرآمد کیا۔ صرف بلاول بھٹو نے اس معاملہ میں اعتدال پر مبنی رویہ اختیار کیا مگر اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ پر سختی کے دن آئے ہی چاہتے ہیں۔

شاید اسی بناء پر بلاول میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے لاہور جیل تک گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ میثاق جمہوریت نے جمہوری اداروں کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا مگر دیگر جماعتوں کو اس میثاق سے دور رکھا گیا۔ دونوںجماعتوں نے میثاق کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا، یوں پارلیمنٹ کی حاکمیت متاثر ہوئی۔

یہی وقت ہے کہ نئے میثاق جمہوریت پر تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے۔ اس نئے میثاق میں پارلیمنٹ کی بالادستی مستحکم کرنے کے ساتھ اچھی طرز حکومت اور شفاف نظام کے قیام کو ایجنڈا میں سرفہرست ہونا چاہیے اور سماجی انصاف کو تمام تر جدوجہد کا محور قرار دینا چاہیے۔ شاید یہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے لیے آخری موقع ہے۔ دونوں جماعتیں مقتدرہ سے قربت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے عوام کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔