لبرل ازم اور سیکولر ازم کے تضادات

عمران شاہد بھنڈر  ہفتہ 16 مارچ 2019

لبرل آئیڈیالوجی سرمایہ دارانہ نظام کی اساس پر تعمیر شدہ اقدارکا فلسفہ ہے۔ یہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو نوعِ انسانی کے درمیان اس تفریق وامتیازکو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے جو اس کے اپنے مثالی آدرشوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ضروری تھا۔ تاہم اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ آج لبرل آئیڈیالوجی خود ہی اپنے پاؤں کی زنجیر بن کر رہ گئی ہے۔ لبرل ازم جن تعقلات پر قائم تھا، ان میں تضادات اور کلیت پسندانہ کردار سے محرومی لبرل آئیڈیالوجی کو بڑا چیلنج پیش کرتی ہے۔

عہد حاضر کا بحران لبرل ازم کا بحران ہے، مذہب کا نہیں، مذہب کا بحران تو صنعتی معاشرے کے ظہور اور جدید فلسفے کے ساتھ شروع ہوا تھا ۔ لبرل عقلیت نے جس کو غیر عقلیت کہا، اڈورنو اور ہورکہیمر نے ’’ روشن خیالی کی جدلیات‘‘ میں یہ ثابت کردیا کہ حقیقت میں روشن خیالی کا رد جسے غیر عقلیت کے نام سے منسوب کیا گیا تھا وہ عقلیت ہی کا وہ حصہ تھا جسے وہ خود سے باہر تصورکرتی تھی اور اس کے انہدام کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاتا تھا۔

سرمایہ دارانہ اساس پر آخر کار طاقت کا بے پناہ استعمال ہی لبرل عقلیت کی حد ہے۔ عقلیت کے تضادات نمایاں ہونے سے آئیڈیالوجیکل شناختوں سے لے کر انفرادی شناختوں کے مسئلے پر بھی سوالات قائم ہوچکے ہیں۔ مختصر یہ کہ لبرل ازم کا بحران، دراصل عقلیت، آزادی، انفردایت، مساوات اور انصاف کی اس آفاقی حیثیت کا بحران بن گیا ہے، جس کا دعویٰ روشن خیالی کے ترجمان کرتے رہے ہیں۔

لبرل ازم میں مذہبی عوامل کسی حد تک موجود ہیں، لیکن میرا یہ کہنا ہے کہ ان عوامل کو بڑے باریک طریقے سے الگ کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر امریکی معاشرے میں لبرل آئیڈیالوجی کی جو شکل فرانسس فوکویاما نے اپنی کتاب ’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ میں پیش کی تھی، اس میں فوکویاما نے جس طرح ہیگلیائی شعوری فلسفے کی تشریح کی تھی، اس میں مسیحیت کے چند بنیادی نکات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

فوکویامہ کا دعویٰ بھی یہی تھا کہ امریکی لبرل جمہوریت کے ’’ فاتح ‘‘ قرار پانے کی وجہ دراصل مسیحی فلسفہ شناخت کی فتح ہے۔ کیونکہ سرمایہ دارانہ معاشی اساس پر عقل کا سفاک کردار نمایاں ہوگیا تھا۔ عہد حاضر میں سیکولر ازم کو عقلیت سے جوڑنے کا مطلب لبرل عقلی فلسفوں کے پیدا کردہ ان تضادات کی ماہیت سے انکارکرنا ہے ، جن کی بنیاد پر مابعد جدید فکر لبرل عقلیت کی حدود کا تعین کرتی ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قدیم الٰہیاتی ، روشن خیال عقلیت اور عہدِ حاضر کی غیر عقلیت یا عقلیت کی توسیع کے تصور پر مبنی انھی تصورات کے درمیان بہرحال ایک بنیادی فرق موجود ہے اور جس طرح مذہب کی بعض اشکال عہد حاضر میں ناپسندیدہ تصورکی جاتی ہیں، اسی طرح لبرل ازم کے مثالی آدرش ایک طرف ، لیکن عقلیت کے کلیت پسندانہ کردار کی نفی کی جاتی ہے ۔ عقلیت کے کلیت پسندانہ اور آفاقی رجحان کی نفی ہی دراصل سیکولر عقلیت کی نفی سے عبارت ہے۔ یہ بات بالکل واضح رہنی چاہیے کہ لبرل آئیڈیالوجی میں عقلیت ایمان کا تعین کرتے ہوئے اسے محدود کرتی ہے، اس کے تصورات کی نفی بھی کرتی ہے، تاکہ اس کے کلیت پسندانہ کردارکو محدود کرکے خود کوکلیت اور آفاقیت کی سند دے سکے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ انفرادیت اورآزادی کا جو مفہوم سترھویں صدی کے لبرل تصور پر قائم تھا، وہ محض خالی تجرید نہیں تھی بلکہ حقیقت میں قدیم سماجی اور الٰہیاتی تصورِ آزادی اور تصورِ انفرادیت سے بنیادی طور پر مختلف تھا۔ سماجی تصورِ آزادی اورتصورِ انفرادیت میں فرد اپنی ذات کو کسی نہ کسی گروہ یا قبیلے کا حصہ بن کر شناخت کرتا تھا، اگر وہ کسی مذہب کا پیروکار تھا تو اس کی آزادی اور انفرادیت کا کوئی بھی مفہوم مذہبی احکامات سے الگ قائم نہیں ہوسکتا تھا۔ خدا کی منشا ومرضی کے بغیر نہ ہی آزادی کا کوئی مفہوم برآمد ہوتا تھا اور نہ ہی انفرادیت کا کوئی یگانہ تصور یعنی ایسا تصورجس میں مرکزیت خدا کوحاصل نہ ہو۔ لبرل آئیڈیالوجی کے مثالی آدرشوں کے تحت انسان کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے، تو پھر کم از کم مذہبی تصورِ آزادی اور مذہبی تصور انفرادیت سے ہم آہنگ ہونا ممکن نہیں رہتا۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ سیکولر ازم کی نظری اساس میں کسی ایک نظریے یا مذہبی آئیڈیالوجی کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ سیکولر ازم کو اپنے وجود کی شناخت کے لیے مختلف اقسام کے نظریات کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی ایسے معاشرے میں سیکولرازم کا کوئی مفہوم نہیں جہاں ’’ تکثیریت‘‘ کے رجحانات نہ موجود ہوں۔ جس معاشرے میں ایک ہی مذہب موجود ہوگا وہاں سیکولرازم کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ اس سے میں یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہوں کہ سیکولر ازم محض ایک ’’نظریہ‘‘ ہونے کی بنا پر ان مذہبی نظریات پر انحصار کرتا ہے، جن سے اس کی ساخت متصادم نظر آتی ہے۔

سیکولرازم جب یہ کہتا ہے کہ کوئی ایک مذہب سچا یا آفاقی کردار کا حامل نہیں ہے، جس کے تابع دیگر تمام نظریات کو کردیا جائے، تو اس وقت یہ اس مذہب کے کلیت پسندانہ رجحان اور اس کے ’’بڑا بیانیہ‘‘ ہونے کی نفی کردیتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس مذہب کو مائیکرو سطح پر قبول کرتا ہے۔ نتیجہ یہ اخذ ہوتا ہے کہ سیکولرازم کا تضاد یہ ہے کہ یہ مذہب کو بڑا بیانیہ تسلیم نہ کرنے کے باوجود اپنی شناخت اسی مذہب کے مائیکرو سطح پر عمل آرا ہونے سے حاصل کر رہا ہے۔ فرق یہ ہوا کہ سیکولر ازم خود ایک بڑا بیانیہ بن جانا چاہتا ہے۔ ایک ایسا بڑا بیانیہ جو محض مائیکرو سطح پر ہی نظریات کے کردار کو قبول کرتا ہے۔

عہدِ حاضر میں یہ ناگزیر اس لیے ہے کہ اس کے بغیر یعنی بڑے بیانیے کی سطح پرکوئی بھی مذہب یا نظریہ قابلِ قبول نہیں ہوسکتا ۔ سیکولر ازم جب مذاہب پر انحصارکرتا ہے تو اس کی تجریدی آفاقیت کو چیلنج درپیش رہتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ آخری تجزیے میں ہرآئیڈیالوجی ایک نوع کا ’’باطل شعور‘‘ ہی ہوتی ہے، جو اس نظام کے پیدا کردہ حقیقی طبقاتی تضادات کو مخفی رکھنے کا کام کرتی ہیں، جن کو مخفی رکھنا خود اس نظام کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔

میں اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ عہدِ حاضر میں سیکولرازم حقیقی معنوں میں انسانی فلسفیانہ رجحان ہے ، لیکن اس کو حقیقی سطح پر محسوس کرنے کا قضیہ ہمیشہ اس لیے تضاد کا شکار رہتا ہے کہ جس معاشی اساس پر اس کے حصول کی کوشش کی جاتی ہے، وہ بذاتِ خود گھناؤنے تضادات میں الجھی رہتی ہے، جو کسی بھی وقت اپنے الٹ میں بدل کر اپنی ہی علمیاتی اور اخلاقی حیثیت کو نیست ونابود کردیتی ہے۔ مثال کے طور پر نائن الیون کے بعد سیکولر ممالک میں مسلمانوں پر حملوں نے سیکولر ازم کی حدود کو متعین کر دیا، جب کہ انھی ممالک کے حقیقی اہداف کے حصول کے لیے چونکہ جنگیں ناگزیر تھیں اس لیے ایک مخصوص مذہب کے خلاف میڈیائی پروپیگنڈا عروج پر پہنچ گیا ۔

مختصر یہ کہ اگر ہمیں نظریات کی حدود متعین کرنی ہیں تو انھیں ان کو جنم دینے والی معاشی اساس ،اس اساس میں ہونے والے تغیر و تبدل اور اس کے نتیجے میں برپا ہونے والی ان فکری و نظری تبدیلیوں کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا جو ایک تسلسل میں اپنی ہی سابقہ حیثیت کی نفی کردیتی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔