گھانا میں مُردوں کو برسوں بعد دفنایا جاتا ہے

عبدالوارث ساجد  اتوار 17 مارچ 2019
مرنے والوں کی سست تدفین کی وجہ ریفریجریشن کا عمل ہے، ماہرین۔ فوٹو: فائل

مرنے والوں کی سست تدفین کی وجہ ریفریجریشن کا عمل ہے، ماہرین۔ فوٹو: فائل

کئی ممالک میں مرد عورت کی وفات کے بعد انہیں ایک دو روز میں دفنایا جاتا ہے لیکن افریقی ملک گھانا میں اس اہم کام میں بھی کئی ہفتے بلکہ کئی سال بھی لگ جاتے ہیں۔ اس عرصے میں لاش کو برف میں منجمد کرکے رکھا جاتا ہے۔

گھانا میں کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے خاندان کے ایک ایک فرد اور دور دراز رشتے داروں سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے خواہ مرنے والے نے ان سے برسوں تک بات نہ کی ہو۔ یہ رشتہ داروں کا انتظار بھی تدفین میں تاخیر کا باعث بنتا ہے تاہم تدفین کے اخراجات کی ذمے داری مرنے والے کے بچوں اور قرابت داروں پر ہی ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ مرنے والے کے گھر کو ڈھا کر دوبارہ تعمیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح رونے دھونے والوں کی فہرست بنانا بھی ایک عذاب ہوتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں ورثا کو جنازے میں آنے والے ایک ایک فرد سے بات کرنی پڑتی ہے کہ آیا وہ فارغ بھی ہیں یا نہیں؟

حال میں ایک مشہور صنعت کار کے انتقال کے بعد اس کی84سالہ زندگی پر ایک خوب صورت رنگین کتاب چھاپی گئی اور جنازے میں آنے والوں میں مفت تقسیم کی گئی۔ دوسری طرف اگر کوئی خوش نصیب لاش دو سے تین ہفتے میں دفنادی جائے تو لوگ اسے عزت نہیں دیتے اور اسے برا شگون سمجھتے ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق مرنے والوں کی سست تدفین کی وجہ ریفریجریشن کا عمل ہے اور گھانا میں جگہ جگہ لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سردخانے موجود ہیں۔ اگر ان کا فروغ کم ہوجائے تو ازخود لوگ اپنے مردوں کو جلد دفنانے لگیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔