جوتے کے ڈبے میں ملنے والا دو ارب کا گُل دان

عبدالوارث ساجد  اتوار 17 مارچ 2019
نیلام گھر والوں نے اس کی قیمت پانچ سے سات لاکھ یورو رکھی تھی وہ اپنی مجوزہ قیمت سے دس گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوگیا۔ فوٹو: فائل

نیلام گھر والوں نے اس کی قیمت پانچ سے سات لاکھ یورو رکھی تھی وہ اپنی مجوزہ قیمت سے دس گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوگیا۔ فوٹو: فائل

کباڑخانے میں برسوں سے پڑے ایک ڈبے میں پڑا گلدان چینی فن کا شاہکار نکلا۔ اور ایک کروڑ نوے لاکھ ڈالر (پاکستانی دو ارب روپے) میں نیلام ہوگیا ہے۔

اٹھارویں صدی میں بتایا گیا کہ گُل دان فرانس کے ایک گھر کے مچان میں رکھا ہوا تھا جسے سوتھ بائی نیلام گھر کو فروخت کرنے کے لیے دیا گیا نیلام گھر والوں نے اس کی قیمت پانچ سے سات لاکھ یورو رکھی تھی وہ اپنی مجوزہ قیمت سے دس گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوگیا۔ یوں اس نیلام گھر سے فروخت ہونے والی سب سے مہنگی شے بھی ثابت ہوا۔

یہ گل دان ایک خاندان کو وراثت میں ملا تھا جسے بے کار سمجھ کر کئی سال کباڑخانے میں رکھا گیا پھر اسے قیمت متعین کے لیے ایک نیلام گھر کودے دیا گیا۔ سوتھ بائی میں ایشیائی نوادرات کے ماہراولیورولیمر نے کہا کہ گل دان فروخت کرنے والا شخص میٹرو ٹرین سے سفر کرکے آیا تھا اور میرے آفس میں آکر جوتوں کا ایک ڈبا کھولا جس میں اخبار میں لپٹا ہوا ایک قدیم گل دان تھا۔

اس گل دان کی خوب صورتی دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ گل دان کی لمبائی 30 سینٹی میٹر ہے، جو بلب نما ساخت رکھتا ہے اور اس پر سبز، نیلے، پیلے اور جامنی شیڈز میں خوب صورت نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ پورسلین سے بنا یہ گل دان چین کے چنگ عہد سلطنت(dynasty qing)سے تعلق رکھتا ہے، جو چین کا آخری شاہی عہد بھی تھا۔ اس پر پرندے اور ہرن بھی نقش ہیں اور اس کی گردن پر سنہری کشیدہ کاری کی گئی ہے۔ گل دان کی سب سے اہم بات ایک مہر ہے جو چینامنگو فرماں روا کی مہر ہے۔

یہ خاندان 1736 سے 1796تک چین پر حکم راں رہا اسی لے یہ ایک نایاب شے کا درجہ رکھتا ہے۔ دوسری دل چسپ بات یہ ہے کہ نیلامی شروع ہوتے ہی بولی دینے والوں میں سے زیادہ سے زیادہ رقم لگانے کی جنگ شروع ہوگئی۔ اور صرف بیس منٹ میں اس کی بولی 19 ملین ڈالر پر پہنچ کر ختم ہوئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔