بسیار خوری و پانی کم پینے والے ہی گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں، ماہرین صحت

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 16 مارچ 2019
گردوں میں ایک بار پتھری ہوجائے تو 30 فیصد امکان ہوتا ہے کہ دوبارہ ہو جائے، پروفیسر محمد سعید قریشی۔ فوٹو: فائل

گردوں میں ایک بار پتھری ہوجائے تو 30 فیصد امکان ہوتا ہے کہ دوبارہ ہو جائے، پروفیسر محمد سعید قریشی۔ فوٹو: فائل

 کراچی: پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ گردوں کا مرض پاکستان میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ورلڈ کڈنی ڈے سے متعلق آگہی واک کے بعد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ گردوں کا مرض پاکستان میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، احتیاطی اقدامات پر توجہ نہ دی گئی تو اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے، گردوں کا علاج ڈائلیسز تکلیف دہ عمل ہے اور احتیاطی اقدامات بہت آسان ہیں جب کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں 131 رینل ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں۔

سیمینار میں ان کے ہمراہ پروفیسر راشد بن حامد، ڈاکٹر محمد تصدق خان، ڈاکٹر حامد مٹھانی اور ڈائٹریشن بدر حنا نے بھی شرکا سے خطاب کیا، پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ آگہی واک اور سیمینار کا مقصد گردوں کے امراض کے متعلق زیادہ سے زیادہ آگہی دی جائے، گردوں کے امراض کی تین بڑی وجوہات ہیں، طویل عرصے کنٹرول نہ رہنے والی شوگر، بلڈپریشر اور گردے میں ہونے والی پتھری، یہ امراض غیر متوازن غذا اور ورزش زندگی کے معمولات میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

اس موقع پر چیف رینل ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر راشد بن حامد نے کہا کہ دنیا بھر میں امراض سے اموات کی شرح میں گردوں کے امراض موت کی چھٹی بڑی وجہ ہیں جبکہ دنیا کی 10 فیصد آبادی گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں، جن میں سے 2.4 ملین سالانہ موت کا شکار ہوجاتے ہیں، گردوں کے ناکارہ ہونے کی صورت میں صرف ایک ہی راستہ موت سے بچا سکتا ہے اور وہ رینل ٹرانسپلانٹیشن ہے۔

ماہرین امراض گردہ نے کہا کہ یورالوجی کی 50 فیصد سرجری پتھری کی وجہ سے ہوتی ہیں، پاکستان، انڈیا اور تھائی لینڈ میں گردوں کی پتھری کی شرح بہت زیادہ ہے، وجہ یہاں کا ہائی ٹمپریچر ، غیر متوازن غذا، پانی اور ماحولیات ہے، گردوں میں ایک بار پتھری ہوجائے تو 30 فیصد امکان ہے کہ دوبارہ ہوجائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔