’چھینک‘ خدا کی طرف سے ایک نعمت

منیرہ عادل  ہفتہ 16 مارچ 2019
چھینک آئے تو منہ اور ناک پر رومال رکھ لیا جائے تاکہ باہر نکلنے والے جراثیم دوسرے لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

چھینک آئے تو منہ اور ناک پر رومال رکھ لیا جائے تاکہ باہر نکلنے والے جراثیم دوسرے لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ڈیئر کرنیں فرینڈز! آپ سب کیسے ہیں؟ ’’ہماری صحت‘‘ کا سلسلہ آپ کو یقیناً  بے حد پسند آرہا ہوگا، اسی لیے ہم ہر ہفتے ایک نیا موضوع لاتے ہیں،  تاکہ آپ کی معلومات میں بھی اضافہ ہو اورآپ کی  صحت بھی بہتر ہو۔

موسم سرما کا آغاز ہو یا اختتام، اس موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ چھینکیں آنا، آواز بیٹھ جانا، شدید زکام، ناک بہنا، حلق میں شدید خراش محسوس ہونا، کھانسی، جسمانی  تھکن اس کی مخصوص علامات ہیں۔

ڈاکٹر کی دوا کے ساتھ گھر میں تازہ لیموں  کا رس، نیم گرم پانی میں ملاکر اور دو چمچے شہد ملاکر پینا مفید ہے۔ ادرک والی چائے سے بھی سکون ملتا ہے۔ اس مرض میں آرام ضروری ہے اور ساتھ ہی  اپنے جسم کو خصوصاً سر، کانوں اور پیروں کو سرد ہوا سے بچانا چاہیے اور چھینک یا کھانسی آئے تو منہ پر رومال رکھ لینا چاہیے۔

دوستو! کیا آپ جانتے ہیں کہ چھینک آنا خدا کی طرف سے ہمارے لیے ایک نعمت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب چھینک آتی ہے تو اس کے زور سے ہوا تیزی سے ناک کے راستے ہمارے جسم سے باہر نکلتی ہے اور  چوں کہ اس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے تو باہر نکلنے والے ذرات ہماری ناک سے کافی دور  جاکر گرتے ہیں۔ حضورﷺ ؐ نے ہمیں ہدایت فرمائی ہے کہ چھینک آجائے تو الحمد للہ کہو اور جو شخص اسے سنے،  وہ یرحمک اللہ  کہے۔

چھینک آئے تو منہ اور ناک پر رومال رکھ لیا جائے تاکہ باہر نکلنے والے جراثیم دوسرے لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ چھینکوں کو روکنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے جس سے سانس لینے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ چھینک آئے تو منہ کو کھول لینا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے ہماری ناک، منہ، حلق سے لے کر پھیپھڑوں تک تمام ہوائی راستوں میں نرم جھلیاں بنادی ہیں جن میں غدود ہوتے ہیں جو رطوبت خارج کرتے ہیں۔ یہ رطوبت بھی قدرت  کی طرف سے ان ہوائی راستوں کی حفاظت کا انتظام ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے یہ راستے نم رہتے ہیں اور رگڑ اور خراش سے محفوظ رہتے ہیں۔ مختلف وجوہ کی بنا پر جھلیوں میں موجود خون کی رگیں سکڑ جاتی ہیں تو خون کی فراہمی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے یہ جھلیاں کم زور ہوجاتی ہیں۔ پھر تو نزلے کا وائرس آسانی سے ان پر حملہ کردیتا ہے۔

مریض جب چھینکتا، کھانستا ہے تو وہ یہ وائرس اور جراثیم فضا میں پھیلا دیتا ہے۔ اگر کسی غذا کو ہاتھ لگایا ہو اور صحت مند شخص اس غذا کو ہاتھ لگائے یا کھالے تو وہ بھی بیمار پڑ سکتا ہے۔ نزلے کا وائرس مریض کے تولیے، برتنوں اور ہر اُس شے پر ہوسکتا ہے جس کو مریض نے ہاتھ لگایا ہو۔

صحت مند انسان مسلسل کام کرکے تھکا ہوا ہو تو بھی وہ نزلے کا اثر جلد قبول کرلیتا ہے۔ وہ لوگ یا طلبہ و طالبات جن کو اکثر نزلہ زکام ہوتا رہتا ہے، ان کو چاہیے کہ اپنی روزانہ غذا میں ایک کپ دودھ، سبز پتوں والی سبزیاں مثلاً پالک، گوبھی، گاجر، شلجم اور سلاد لیں، ایک نارنگی، کینو یا فروٹر یا ٹماٹر لیں۔ حیاتین ج والے پھل کھانے سے بھی نزلہ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ حیاتین ج (وٹامن سی) کینو فروٹر، مالٹے، چکوترے میں ہوتا ہے۔ سیب، آڑو اور ناشپاتی کو چھلکے سمیت کھانے سے بھی یہ وٹامن ملتا ہے۔ ورزش بھی مفید ہے۔

موسم ٹھنڈا ہو تو گرم لباس پہنیں جس سے سینہ گردن تک ڈھک جائے، پیروں میں گرم جرابیں اور بند جوتے ہوں۔ سخت سردی ہو تو سر اور کانوں کو ڈھانپ لیں۔ گرم کمرے سے ایک دم ٹھنڈک میں نہ نکلیں۔ سونے کے کمرے میں دھواں نہیں ہونا چاہیے۔ ہوا کی آمد و رفت کا اچھا انتظام ہو۔ گرمی میں بھی کھلے آسمان تلے نہیں سونا چاہیے۔  سردی کی بیماریوں میں کچا مکھن تو مفید ہے، لیکن چکنائی میں تلی چیزیں نزلہ اور زکام میں نقصان پہنچاتی ہیں،  کیوں کہ ان کی چربی گرم ہوکر حلق میں خراش ڈال دیتی ہے۔

ناک بند ہو تو کچھ لوگ منہ سے سانس لینے لگتے ہیں۔ قدرت نے ہماری ناک اور سانس کی نالی اس طرح بنائی ہے کہ ہوا جب ناک سے گزرتی ہے تو پھیپھڑوں تک پہنچنے سے پہلے وہ گرم ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر کوئی منہ سے سانس لیتا ہے تو اس کے جسم میں ہوا کے راستوں اور پھیپھڑوں میں خراشیں پڑ جائیں گی۔  کرنیں دوستو! پانی خوب پیا کریں اور روزانہ غسل کیا کریں، تاکہ نزلے و  زکام سے محفوظ رہیں اور  اسکول کی چھٹی بھی نہ ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔