سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید اریب والدین کا اکلوتا بیٹا تھا

ویب ڈیسک  ہفتہ 16 مارچ 2019
اریب دو ماہ قبل ہی چھٹیاں گزارنے پاکستان آیا تھا، ماموں اریب (فوٹو: ایکسپریس نیوز)

اریب دو ماہ قبل ہی چھٹیاں گزارنے پاکستان آیا تھا، ماموں اریب (فوٹو: ایکسپریس نیوز)

کراچی: سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید ہونے والوں میں کراچی کا رہائشی اپنے والدین کا اکلوتا اریب بھی شامل ہے جو چند سال قبل ہی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کے بعد نیوزی لینڈ گیا تھا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اریب اپنے والدین کی اکلوتی نرینہ اولاد تھا، جو چند سال قبل چارٹرڈ اکائونٹنٹ بننے کے بعد ترقی کی منازل طے کرتا ہوا نیوزی لینڈ پہنچا اور جنونی قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔

کراچی بلاک 14 دستگیر فیڈرل بی ایریا کے رہائشی محمد ایاز کو اکلوتے بیٹے کے زخمی ہونے کی خبر ملی، پہلے انہیں یہی پتا چلا تھا کہ اریب کے پیروں میں گولی لگی ہے لیکن نیوزی لینڈ میں پاکستانی سفارت خانے اور پاکستانی دفتر خارجہ نے اریب کے انتقال کی تصدیق کی تو اہل خانہ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے شہید اریب کے ماموں نے بتایا کہ اریب کو اعلی تعلیم دلانے کے لیے اس کے والدین نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کیا، چند سال قبل چارٹرڈ اکائونٹنٹ بننے کے بعد اریب کو مقامی چارٹرڈ فرم میں ملازمت مل گئی اور اس نے کچھ ہی عرصے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا اور ڈیڑھ سال قبل نیوزی لینڈ چلا گیا۔

اریب کے ماموں کے مطابق دو ماہ قبل اریب پاکستان آیا تو اس سمیت پورے خاندان کی خوشی دیدنی تھی، پورا خاندان محمد ایاز کو مبارک بادیں دے رہا تھا کہ انہیں محنت کا ثمر مل گیا لیکن کسی کے علم میں نہیں تھا کہ اریب پاکستان سے جانے کے بعد زندہ واپس نہیں لوٹے گا، اور والدین کے خوابوں کی تکمیل کا مرحلہ آئے گا تو انتہا پسند جنونی قاتل پل بھر میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون چھین کر لے جائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔