اگر ہم تالیاں نہ بجاتے

زبیر رحمٰن  اتوار 17 مارچ 2019
zb0322-2284142@gmail.com

[email protected]

خیبر پختون خوا ،کوہستان کے علاقے میں تین لڑکیوں کو روایتی ناچ دیکھتے ہوئے تالیاں بجانے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کی وجہ سے قتل کردیا گیا تھا ، بعد ازاں تین لڑکوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا ، چند روز بیشتر مقدمے کے آخری مدعی نوجوان افضل کو بھی قتل کردیا گیا ۔ تالیاں بجانے پر انسانوں کو قتل کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، تالیاں تو قوالیوں میں بھی بجائی جاتی ہیں۔ اب رہا ناچ تو ناچ میں بھی کیا برائی ہے ؟

مور ،کبوتر، اونٹ ،گھوڑے اور برڈ آف پیرا ڈائیز بھی ناچتی ہیں توکیا انھیں قتل کرنا ضروری ہے ؟ انسان جیسا آج ہے کل ایسا نہیں تھا ۔آج بھی چارکروڑ انسان اس کرہ ارض میں ننگ دھڑنگ جنگلوں میں رہتے ہیں۔ لاکھوں برس قبل ہمارے آ بائواجداد بھی ایسے ہی رہتے تھے۔کپڑا بننے کے بعد ہم کپڑے پہننے لگے۔ نازی فوج جب یورپ کے دیگر ممالک پر حملہ آور ہوئی تو قتل عام شروع کردیا ۔ ایک موقعے پر جب کمیونسٹوں کے ایک جتھے کوگرفتارکیا تو ان کے ہاتھ پیچھے سے باندھ کرکوئلے کے کان میں جوکہ ہزاروں فٹ گہرا تھا میں دھکیلا گیا تو وہ دھرتی کے عظیم ثبوت کان کے اندر مر تے ہوئے بھی مزدوروں کا عالمی گیت ’’ انٹر نیشنل ‘‘ گا رہے تھے۔

’’ زمین کے بدبخت ساکنو ، بھوک کے نادار قیدیو! اٹھوکہ آنے والا ہے اب نیا چلن ، ہم کچھ نہیں تھے اب سب کچھ ہو نگے‘‘ وہ تو باشعور اور اپنے نصب العین کے پکے عظیم مزدور تھے مگر یہ بے چاری معصوم ، بھولی اور ان پڑھ لڑکیاں تھیں ۔ نہ جانے کیا کیا ان کے ذہن میں آیا ہوگا ۔ شاید سوچا ہوگا کہ اگر ہم تالیاں نہ بجاتے تو قتل بھی نہیں کیے جاتے، شاید یہ بھی ذہن میں آیا ہوگا کہ تالی بجائی توکیا جرم کیا، یہاں تو لا کھوں، کروڑوں انسانوں کا قتل کرنے والوں کو اپنا ہیرو کہا جاتا ہے ۔

زمانہ قدیم میں حکمت ، علاج ، حساب ،کتاب ، علم وہنر ، غذا اور جڑی بوٹیوں کی کلکشن سب کچھ تو خواتین ہی کرتی تھیں، ناچ گانا تو ان کی تہذیب کا حصہ تھا ۔موئن جو د ڑو ، ٹیکسلا اور ہڑپہ سے ’’ ڈانسنگ گرل ‘‘ یعنی ناچنے والی مٹی کی بنی ہوئی گڑیاں ملی ہیں ۔ ان لڑکیوں کو جب مقتل میں لے جایا جارہا تھا تو وہ نہ جانے کیا کیا سوچ رہی تھیں کہ ’’ میں پیدا کیوں ہوئی ؟ تالیاں کیوں بجائی؟ میں تو جب ماں کی گود میں تھی، اس وقت بھی تالیاں بجاتی تھی، میرے والدین خوش ہو تے تھے اور مزید تالیاں بجانے پر اصرارکرتے تھے، آخر اب کیوں مجھے مارا جا رہا ہے، میں نے کیا جرم کیا ؟کیا دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو یہاں کیوں ایسا ہوتا ہے، اگر ایک خاص قوم کا ہونا جرم ہے تو اس قوم کا تو دلیپ کمار اور شاہ رخ بھی ہیں، انھیں کیوں قتل نہیں کیا گیا ۔ وہ بھی تو فلموں میں کئی بار ناچے ہیں۔ ہم نے ایسا کیا جرم کیا ؟ اس لیے شاید میں محنت کش گھرانے کی ہوں اور قدامت پرستی کے ماحول میں پرورش پائی اور پلی بڑھی ۔ شاید وہ یہ بھی سوچتی ہوں کہ میں مقتل میں پہلی بار نہیں لائی گئی ہوں ، ہزاروں برسوں سے ایسا ہوتا آرہا ہے۔

آٹھ مارچ کو اسی سلسلے میں دنیا بھر میں اور پاکستان میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا ، مگرکہیں ان مظلوم اور معصوم خواتین کے قتل کا تذکرہ ہوا اور نہ احتجاج ۔ بیشتر مظاہروں ، ریلیوں اور سیمیناروں میں خواتین تو تھیں لیکن محنت کش خواتین نہ ہونے کے برابر تھیں ۔ صرف حیدرآباد میں ہوم بیسڈ وومین ورکرز فیڈریشن اور ایگریکلچر ورکرز جن میں بیشتر خواتین کسان تھیں، ہزاروں کی تعداد میں عورتیں نعرے لگا رہی تھیں کہ ’’جب تک عورت تنگ رہے گی، جنگ رہے گی، جنگ رہے گی، یکساں کام یکساں اجرت ‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔

1857 میں نیویارک، امریکا کی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں اجرتوں میں اضافہ اور اوقات کار میں کمی کے لیے کامیاب جدوجہد کی تھی اور سرمایہ کے جبرکے خلاف علم بغاوت کیا۔

پاکستان میں عورتوں سے ظلم و زیادتی کے خلاف یہ دن 8 مارچ1948میں منایا جانے لگا۔ ہالینڈ کی سوشلسٹ پارٹی نے اقوام متحدہ میں یہ دن منانے کی تجویز رکھی اور اس تجویزکو تسلیم کرلیا گیا اور عالمی طور پر منایا جانے لگا۔ پاکستان میں حکمران طبقات خواہ وہ حزب اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں سبھی نے یہ دن منایا اور بیانات دیے، ٹاک شوز پہ نظر آئے ، اگرکوئی نظر نہیں آیا تو وہ محنت کش خواتین تھیں۔ خواتین کی اجرتوں میں کمی، ظلم و زیادتیوں کے خلاف کوئی آواز نہیں سنائی دی ۔

کے پی کے میں حکو مت ہے یعنی تحریک انصاف کی ، وہ بھی خاموش رہی ۔ ویسے تو عمران خان کی پارٹی میں خواتین تو بہت نظر آتی ہیں ، وزیر بھی ہیں لیکن محنت کش خواتین نہیں ہیں ۔کھیتوں میں کام کرنے والی اورکارخانوں میں مزدوری کرنے والی خواتین رہنما نظر نہیںآتیں ۔ شاید اسی لیے ان تین لڑکیوں کے قتل پر بیانات تو دیے لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ۔ قاتلوں کو اب تک گرفتارکیا گیا اور نہ کوئی سزا ہوئی ۔ اس صوبے میں اپنے آپ کو بڑے انقلابی اور لبرل کہلانے والے بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔کوئی مظاہرہ کیا اور نہ کوئی احتجاج ۔ان کی اپنی بیٹیوں کے ساتھ اگر ایسا ہی کچھ ہوتا توکیا وہ بیٹھے رہتے؟

خواتین کے ساتھ زیادتی مختلف ملکوں میں مختلف انداز میں ہوتی ہے ۔ درحقیقت یہ زیادتیاں طبقاتی نظام کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ سوویت یونین میں شامل سب سے پسماندہ علاقے یعنی وسطیٰ ایشیا (ازبکستان ، تاجکستان ،کرغستان ، قازقستان اورکوہ قاف) میں سوشلسٹ انقلاب سے قبل ہزار میں دوخواتین خواندہ تھیں مگر انقلاب کے بعد سو میں ساٹھ خواتین ڈاکٹرز اور سو میں پچاس انجینئرز خوا تین تھیں اور اب بھی تقریبا اتنی ہی ہیں، ہر چند وہاں کمیو نسٹ نظام یعنی اسٹیٹ لیس سوسائٹی قائم نہیں ہوئی تھی ۔اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خواتین کے مسائل طبقاتی نظام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔مثال کے طور پر سندھ سے کم عمر ہندو لڑکیوں کو وڈیرے اغوا کر کے یا رقم کی لالچ دے کر مسلمان ہونے کا اعلان کردیتے ہیں۔

اگر یہ بات درست مان لی جائے تو پھر مرد اور زیادہ عمرکی عورتیں کیوں مسلمان نہیں ہوتیں ۔ یہ درحقیقت جاگیردارانہ نظام کی خامی ہے ، جس میں مذہب کا سہارا لے کر اپنی مذموم ہوس کو پورا کرتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بھی آواز اٹھانا ضروری ہے،ورنہ تمام ترکیبیں اکارت جائیں گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔