شاید آپ کے پاس ہو

جاوید چوہدری  اتوار 17 مارچ 2019
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

آرش درم بخش کے والدین ایران سے تعلق رکھتے تھے‘ ایران میں انقلاب شروع ہوا تو یہ لوگ فرانس بھاگ آئے‘ آرش 25 جولائی 1979کو پیرس میں پیدا ہوا ‘ یہ پیدائشی فرنچ تھا‘ ہجرت یا نقل مکانی بے شمار نفسیاتی‘ سماجی اور تہذیبی مسائل لے کر آتی ہے‘ آرش درم بھی بچپن میں ان مسائل کا شکار رہا‘ والدین نے بیروزگاری بھی بھگتی‘ بیماریاں بھی دیکھیں اور بھوک بھی سہی‘ آرش نے بچپن میں بار ہا دیکھا یہ لوگ بھوکے سو رہے تھے جب کہ ہمسائے تیار خوراک کچرہ گھروں میں پھینک رہے تھے۔

آرش کا والد بعض اوقات بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے بھیک مانگنے پر بھی مجبور ہو جاتا تھا جب کہ والدہ کو دوسروں کے گھروں میں صفائی بھی کرنا پڑ جاتی تھی‘ آرش نے بھی بچپن ہی میں کام شروع کر دیا تھا‘ یہ محنتی تھا چنانچہ یہ زندگی میں ترقی کرتا چلا گیا‘ یہ وکیل بنا‘ وکالت میں نام پیدا کیا اور یہ بعد ازاں سیاست میں آگیا‘ یہ پیرس کا سٹی کونسلر منتخب ہو گیا‘ آرش کا بچپن محرومی میں گزرا تھا لہٰذا یہ جب پیرس میں خوراک ضایع ہوتے دیکھتا تھا تو اسے بہت افسوس ہوتا تھا۔

آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہوگی 2015تک فرانس تیار خوراک ضایع کرنے والے ملکوں میں پہلے نمبر پر تھا‘کیوں؟وجوہات بہت دلچسپ تھیں‘ فرنچ کھانے میں دنیا کے محتاط ترین اور صاف ترین لوگ ہیں‘آپ ان کی نفاست ملاحظہ کیجیے‘ کٹلری کا لفظ بھی فرنچ زبان سے نکلا‘ کٹلری (چھری‘ کانٹا‘ چمچ) کا استعمال مصر میں شروع ہوا‘ بازنطینی حکمرانوں نے استنبول میں اسے اشرافیہ کی زندگی کا حصہ بنایا اور یہ بعد ازاں یونان کے ذریعے یورپ میں داخل ہو گئی۔

برطانیہ میں سترہویں صدی میں کٹلری کا پہلا کارخانہ لگا اور یوں دنیا میں ’’ٹیبل مینرز‘‘ شروع ہو گئے‘ ٹیبل مینرز (کھانے کے آداب) کے بے شمار فوائد سامنے آئے لیکن اس کا ایک نقصان بھی ہوا اور وہ نقصان کھانے کا زیاں تھا‘ یورپ میں لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کھانا اگر ایک بار میز پر آ گیا تو یہ دوسری بار استعمال کے قابل نہیں رہتا لہٰذا یہ لوگ بچ جانے والا کھانا ضایع کردیتے تھے‘ فرانس اس معاملے میں پورے یورپ سے آگے تھا‘ فرنچ لوگ ہر سال 8 ملین ٹن تیار کھانا ضایع کرتے تھے‘ پورے یورپ میں 89 ملین ٹن جب کہ دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ ٹن تیار خوراک ضایع کر دی جاتی تھی۔

فرانس میں روایت تھی ریستوران میں جو کھانا میز پر سرو کر دیا گیا‘ گاہک نے اگر وہ نہیں کھایا یا اس کا کوئی حصہ بچ گیا تو عملہ گاہک کے اٹھنے کے بعد وہ کھانا کچرے کی ٹوکری میں ڈال دیتا تھا‘ اسٹورز میں بھی زائد معیاد خوراک ضایع کر دی جاتی تھی‘ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس ٹرینڈ میں تھوڑی سی تبدیلی آئی‘ لوگ ریستوران سے اپنا بچا ہوا کھانا پالتو جانوروں کے لیے پیک کرانے لگے‘ وہ پیکنگ اس زمانے میں ’’ڈاگی بیگ‘‘ کہلاتی تھی‘ یہ ٹرینڈ 1980کی دہائی تک چلتا رہا مگر پھر لوگوں نے یہ بھی ترک کر دیا۔

ان کا خیال تھا یہ ’’چیپ‘‘ لگتا ہے آپ اپنا بچا ہوا کھانا پیک کرائیں اور ساتھ ساتھ لے کر پھرتے رہیں‘ آرش درم بخش خوراک کا یہ زیاں بچپن سے دیکھ رہا تھا‘ وہ حیران ہوتا تھا فرانس میں 35 لاکھ لوگ خوراک کے لیے حکومت کے محتاج ہیں‘ لوگ کچرے کی ٹوکریوں سے خوراک نکال کر کھاتے ہیں اور دوسری طرف ٹنوں کے حساب سے تیار خوراک ضایع کر دی جاتی ہے‘یہ ظلم ہے‘ یہ زیادتی ہے چنانچہ اس نے جنوری 2015 میں خوراک کا زیاں رکوانے کے لیے دستخطی مہم شروع کی اور چارماہ میں دو لاکھ دستخط حاصل کر لیے‘ یہ ایشو اس کے بعد اسمبلی میں گیا اور اسمبلی نے 22مئی 2015 کو بل پاس کر دیا‘فروری 2016میں فرانس کی سینیٹ نے بھی بل متفقہ طور پرمنظور کرلیا۔

‘ بل کے مطابق ملک بھر کی کوئی بھی ایسی سپر مارکیٹ جس کا رقبہ 400 مربع میٹر سے زائد ہو گا وہ کسی قسم کی خوراک ضایع نہیں کرے گی‘ سپر مارکیٹ اضافی خوراک مستحق لوگوں تک پہنچائے گی ‘جانوروں کے استعمال میں دے گی یا پھر یہ کھاد بنانے والے اداروں کے حوالے کرے گی لیکن یہ اسے ضایع نہیں کرے گی‘ حکومت نے قانون بنا دیا تعلیمی اداروں میں بچوں کو خوراک کے بہتر استعمال اور خوراک کو ضایع ہونے سے بچانے کے طریقے بھی سکھائے جائیں گے تاکہ یہ بچے بڑے ہو کر خوراک کو محفوظ رکھیں‘ یہ اسے ضایع نہ کریں‘ یہ بل ایک انقلاب ثابت ہوااور فرانس میں خوراک کو ضایع ہونے سے بچانے کی باقاعدہ تحریک چل پڑی۔

فارن پالیسی میگزین نے اس سوشل اوئیرنیس کا سارا کریڈٹ آرش کو دیا اور اسے ’’ہنڈرڈ تھنکرز آف دی ورلڈ‘‘ میں شامل کر لیا‘ آرش کی اس معمولی سی کوشش سے فرانس دنیا میں سب سے زیادہ خوراک ضایع کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکل کر کم کھانا ضایع کرنے والے ملکوں میں آگیا‘ ایک شخص کی سوچ بہت بڑا انقلاب بن گئی‘ یہ انقلاب اب پوری دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے‘ یورپ کے بے شمار ملکوں کے ریستوران اب گاہک کو اس کی ضرورت سے زیادہ کھانا سرو ہی نہیں کرتے‘ گاہک اگر میز پر کھانا چھوڑ دے تو دیکھنے والے بھی ناراض ہو جاتے ہیں اور تین یورپی ملکوں میں گاہکوں کو اضافی کھانے پر جرمانہ بھی ہو جاتا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔

آرش درم بخش کی کہانی اور کنٹری بیوشن یہاں ختم ہو گیا اور یہاں سے ایک نئی تحریک شروع ہوتی ہے‘ فرانس میں کھانے کے بعد اب فالتو کپڑوں کے بچائو کی تحریک بھی چل رہی ہے‘ فرانس فیشن کے تین بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے‘ یہاں ہر سال کھربوں روپے کا کپڑا اور لباس مارکیٹ میں آتا ہے‘ اسٹورز میں جگہ محدود ہوتی ہے چنانچہ اسٹور مالکان فالتو بچ جانے والا کپڑا ضایع کر دیتے ہیں‘ یہ اسے کچرہ گھروں میں پھینک دیتے ہیں یا پھر یہ جلا دیا جاتا ہے یوں فرانس میں ہر سال 7 لاکھ ٹن کپڑا ضایع ہوتا ہے‘ یہ ضایع ہونے والے کپڑے صرف کپڑے نہیں ہوتے یہ قدرتی وسائل کا وسیع زیاں بھی ہوتے ہیں۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کاٹن کی ایک شرٹ پرکسان سے گاہک تک دو ہزار 700 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے چنانچہ پانچ سات سو روپے کی شرٹ صرف پانچ سات سو کانقصان نہیں ہوتا یہ پونے تین ہزار لیٹر پانی کا زیاں بھی ہوتا ہے‘ کپڑے کی تیاری‘ تراش خراش اور سلائی کے دوران وسیع پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی پیدا ہوتی ہے اور یہ پوری دنیا کے ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے‘ ایک پتلون اور ایک شرٹ پر 14 سو لوگوں کی محنت بھی خرچ ہوتی ہے اور یہ اپنی طبعی زندگی میں کم از کم 21 لوگوں کے کام آتی ہے چنانچہ ہم جب کوئی کپڑا ضایع کر دیتے ہیں تو ہم 21 لوگوں کو ان کی بنیادی ضرورت سے بھی محروم کرتے ہیں۔

ہم 14 سو لوگوں کی محنت بھی برباد کرتے ہیں‘ ہم دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیدائش کا راستہ بھی ہموار کرتے ہیں اور ہم پونے تین ہزار لیٹر پانی بھی ضایع کر دیتے ہیں‘ فرانس میں آرش جیسے لوگوں کا خیال ہے ہمیں خوراک کی طرح کپڑے اور لباس کو بھی ضایع ہونے سے بچانا چاہیے تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام آ سکے‘ یہ تحریک بڑی تیزی سے زور پکڑ رہی ہے‘ فرنچ پارلیمنٹ بہت جلد اس پر بھی قانون سازی کر دے گی۔

آپ اگر کسی دن ریسرچ کریں تو آپ کو دنیا کے مختلف کونوں میں آرش جیسے بے شمار لوگ ملیں گے‘ یہ لوگ دنیا کو خوبصورت اور قابل رہائش بنا رہے ہیں‘ آپ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں جائیں‘ آپ کو پانی کی ٹونٹی کے قریب لکھا ہواملے گا دنیا پانی کی شدید قلت کا شکار ہے‘ ہم پانی کی بچت کر رہے ہیں‘ آپ ہمارا ساتھ دیں‘ یہ عبارت صرف عبارت نہیں‘ یہ ایک تحریک ہے اور یہ تحریک بھی آرش جیسے لوگوں نے شروع کی اور یہ اب دنیا بھر کے فائیو اسٹار ہوٹلوں کے ’’ایس او پیز‘‘ کا حصہ ہے۔

آپ ریسرچ کریں گے تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے دنیا کے بے شمار لوگ افریقہ میں خوراک‘ پانی اور رہائش کے مسائل پر بھی کام کر رہے ہیں‘ آرش جیسے لوگوں نے ایسے ’’اسٹرا‘‘ بنا لیے ہیں آپ جن کے ذریعے گندے نالوں اور جوہڑوں کا پانی بھی پی سکتے ہیں‘ یہ اسٹرا مٹی‘ جراثیم اور گند آپ کے جسم میں نہیں جانے دیتے‘ دنیا میں بے شمار لوگوں نے ادویات بینک بھی بنا رکھے ہیں‘ یہ لوگ مختلف گھروں سے فالتو ادویات جمع کرتے ہیں‘ انھیں ’’ری پیک‘‘ کرتے ہیں اور مریضوں تک پہنچا دیتے ہیں‘ مجھے آئر لینڈ میں چند لوگوں سے ملاقات کاموقع ملا‘ یہ لوگ معذوروں کے انتقال کے بعد ان کے لواحقین سے ان کی ویل چیئرز‘ باتھ روم کے آلات اور کپڑے حاصل کرتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ضرورت مند معذوروں کو پہنچا دیتے ہیں۔

یہ میڈیکل شوز بھی جمع کرتے ہیں اور پائوں کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو دے دیتے ہیں‘ برطانیہ میں ایک این جی او پرانی کتابیں اکٹھی کرتی ہے اور یہ کتابیں بعد ازاں غریب ملکوں میں پہنچا دیتی ہے‘ میں نے نیوزی لینڈ میں بے شمار موبائل لائبریریاں دیکھیں‘ یہ لائبریریاں لوگوں کی ملکیت ہیں‘ یہ کسی فارغ دن کسی محلے میں چلے جاتے ہیں اور موبائل لائبریری سجا کر بیٹھ جاتے ہیں‘ لوگ آتے ہیں‘ کتابیں لیتے ہیں اور پڑھتے رہتے ہیں‘ عام لوگ موبائل لائبریریوں میں پرانی کتابیںرکھ کر اپنی ضرورت کی کتاب لے جاتے ہیں‘ یہ علم کی ترسیل کا شاندار طریقہ ہے اور یہ طریقہ اب تک ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدل چکا ہے۔

میں جب بھی آرش جیسے لوگوں کی جدوجہد اور ترقی یافتہ ملکوں کی طرف سے ان کی پذیرائی دیکھتا ہوں تو میں جیلس ہو جاتا ہوں اور سوچتا ہوں نیکی کے یہ سارے کام صرف یورپ میں کیوں ہوتے ہیں‘ ہم مسلمان ان میدانوں میں کیوں مار کھا رہے ہیں‘ ہم کب جاگیں گے‘ ہم کب انسان ہونے کا ثبوت دیں گے اور ہم کب آرش کی طرح لوگوں کے لیے مفید ثابت ہوںگے؟ میرے پاس اس کب کا کوئی جواب نہیں‘ شاید آپ کے پاس ہو!



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔