تاجروں کے خلاف چھاپے نہیں مارے جائیں گے، چیئرمین ایف بی آر

بزنس رپورٹر  اتوار 17 مارچ 2019
ہمارے لیے ٹیکس ادا کرنے والے بہت اہم ہیں،سیلز ٹیکس ریفنڈ ہر صورت واپس کرنا ہے، ایف اے ٹی ایف کا بہت اہم معاملہ ہے۔ فوٹو: فائل

ہمارے لیے ٹیکس ادا کرنے والے بہت اہم ہیں،سیلز ٹیکس ریفنڈ ہر صورت واپس کرنا ہے، ایف اے ٹی ایف کا بہت اہم معاملہ ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی: چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) جہانزیب خان نے اعلان کردیا ہے کہ تاجروں کے خلاف چھاپے نہیں مارے جائیں گے۔

چئیر مین ایف بی آر جہانزیب خان نے ایف پی سی سی آئی اور کے سی سی آئی میں الگ الگ تقریب سے خطاب میں کیا۔ فیڈریشن چیمبر میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے ٹیکس ادا کرنے والے بہت اہم ہیں، زیادہ توجہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو نیٹ میں لانے پرہے جبکہ ٹیکس نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، بلوچستان میں بھی تجارت بڑھانے کے لیے اقدام کیے جانے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کی رقم ہماری نہیں ہے ،سیلز ٹیکس ریفنڈ ہر صورت واپس کرنا ہے، ایمنسٹی لینے والوں کی معلومات کو بہت محفوظ رکھا ۔چیئرمین ایف بی آرنے کہا کہ جو اِنکم ٹیکس گوشوارے کو دوبارہ جائزہ لینے کی اپیل کرے تو اس پر جرمانہ نہیں ہونا چاہیے ، ڈیٹا کی بنیاد پر 6 ہزار افراد کو 3 ارب روپے ٹیکس کے نوٹس جاری کیے گئے جس میں سے اب تک 1 ارب 85 کروڑ روپے ریکوری ہوئی ، اب تک ایف بی آرکو اپنے ہدف سے 220 ارب روپے کم ٹیکس وصولی ہوئی ہے ، ہم نے انڈر انو ائسنگ پر بھی کام شروع  کردیا۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا بہت اہم معاملہ ہے ،کسٹم نے بھی اس حوالے سے اہم اقدام کے ہیں ،مسافروں کی معلومات بھی اب پہلے سے مل جایا کرے گی ۔  ایسے اقدام سے کرنسی کی اسمگلنگ میں بھی کمی ہوئی ہے۔ ایف بی آر چھاپے نہیں مارے گا لیکن جن کو شو کاز نوٹس جاری ہو وہ اس پر رپورٹ کریں ،بے نامی اکاؤنٹس اگر سامنے آئیں تو اس کو ضبط کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ تمام کاروبار کو رجسٹرڈ کرانے کے لیے اگلے بجٹ میں اہم تجویز بھی لائی جائیں گی۔ایف بی آر کسی صورت بزنس کمیونٹی کو ہراساں نہیں کرے گا۔ ہر ماہ کراچی کا دورہ کروں گا اورفیڈریشن اور تمام ایسوسی ایشن سی بھی ملاقات کروں گا، صنعتکاروں کے مسائل سنے ہیں جو زیادہ تر درست ہیں اور انھیںحل کیا جائے گا۔

کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ  رواں مالی سال کے اختتام تک دو تہائی ریفنڈ واپس کردیے جاہیں گے، اسمگلنگ کی روک تھام کے خالاف مزید سخت اقدام کیے جائیں گے ، ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے بہترین لوگوں کی ٹیم تشکیل دے دی ہے ۔ ایف بی آر کے لیے بہت بڑا ریفارم ایجنڈا تیار ہوچکا ہے ، ریفارم ایجنڈے پر بڑے سرمایہ کاری کی جائے گی ، آٹو میٹڈسسٹم سے ٹیکس سسٹم میں بہتری آئے گی۔ ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکس کے فرق میں کمی ہوگی۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اب ٹیکس نیٹ سے باہر افراد کے لیے مشکلات کا وقت شروع ہوچکا ہے ، اگر نیٹ بڑھا تو سیلز ٹیکس کی شرح بھی کم ہوسکتی ہے،اگر کہیں کسی کی جانب سے ٹیکس کم ادا کیا ہو اس کو موقع دینا چاہیے ، اس کو چوری نہیں کہنا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔