آسٹریلوی سینیٹر کو اسلام مخالف بیان دینا مہنگا پڑ گیا، پارلیمنٹ کی رکنیت بھی جاسکتی ہے

ویب ڈیسک  اتوار 17 مارچ 2019
اسلام مخالف بیان دینے پر سینیٹر کے سر پر انڈا مارا تھا۔ فوٹو : فائل

اسلام مخالف بیان دینے پر سینیٹر کے سر پر انڈا مارا تھا۔ فوٹو : فائل

 پرتھ: اسلام مخالف بیان دینے والے آسٹریلوی سینیٹر فریزر اینیگ کی رکنیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسلامو فوبیا کے شکار آسٹریلوی سینیٹر نے پارلیمنٹ میں نیوزی لینڈ مساجد پر حملے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری مسلمان پناہ گزینوں پر ہی ڈال دی اور نفرت آمیز ریمارکس دیئے تھے جس پر آسٹریلوی سینیٹر کو نا صرف عوام سے انڈے کھانے پڑ رہے ہیں بلکہ ان کی رکنیت ہی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

آسٹریلوی سینیٹر کے نفرت آمیز تبصرے پر ایک نوجوان نے ان کے سر پر میڈیا کی موجودگی میں انڈا مار کر احتجاج ریکارڈ کروایا جس پر آسٹریلیا کے نسل پرستوں نے نوجوان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سینیٹر نے بھی نوجوان کو مکے رسید کیے تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : مسلم مخالف بیان دینے والے آسٹریلوی سینیٹر کو نوجوان نے انڈا دے مارا

دوسری جانب خود آسٹریلیا کے اراکین پارلیمنٹ نے بھی فریزر اینیگ کے رویے پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور ویسٹرن آسٹریلیا کے پریمیئر مارک مگ گوآن نے سینیٹر فریزر اینیگ کی سینیٹر شپ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے باہر پھینک دینے کا مشورہ دیا ہے۔

ادھر انٹرنیٹ پر بھی آسٹریلوی سینیٹر کی رکنیت ختم کرنے کے لیے دستخطی مہم جاری ہے جس پر اب تک 5 لاکھ  افراد نے دستخط  کر دیئے ہیں اور آسٹریلوی سینیٹر کے سر پر انڈا مارنے والا 17 سالہ نوجوان ہیرو بن گیا ہے، نوجوان کے حق میں لاکھوں افراد نے مہم چلائی اور نوجوان کو قانونی امداد اور مزید انڈے خریدنے کے لیے فنڈ ریزنگ پیج بھی بنایا گیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔