امریکی جانیں یا الظواہری

نصرت جاوید  بدھ 7 اگست 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

کافی ٹال مٹول کے بعد جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری پاکستان کے دورے پر آہی گئے تو میں نے ان کی یہاں مصروفیات پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ روزمرہّ رپورٹنگ میں کافی برس گزارنے کے بعد اب ایسے دوروں سے جی اُکتا گیا ہے۔ جن میں کام کی بات کم اور آنیاں جانیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ اپنی اس بے اعتنائی کے باوجود مجھے ہرگز امید نہ تھی کہ جان کیری پاکستان کی حکومت سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کا طریقہ کار طے کرنے آئے ہیں۔ ان کو امریکی جیلوں میں مقید پاکستانیوں کو رہا کروانے کی ہرگز عادت نہیں۔ ہاں ان کا اثر اس وقت بہت کام آیا تھا جب وہ امریکی وزیر خارجہ نہیں اس ملک کی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ ریمنڈ ڈیوس تو آپ کو یاد ہوگا۔ اس کی رہائی کے لیے دیت اور قصاص کا بہانہ کام آیا اور اس ضمن میں مقتولین کے ورثا کو رقم کی فراہمی سے لے کر ان کی Safe Housesتک منتقلی اور پھر برق رفتاری سے انصاف کی فراہمی کے انتظامات نہ تو اس وقت کی مرکزی حکومت نے کیے تھے نہ شہباز شریف کی صوبائی حکومت نے۔ ان دونوں حکومتوں نے تابعدار بچوں کی طرح خود کو صرف انتظامی تعاون تک محدود رکھا اور اقتدار میں اپنے اپنے حصے کے پانچ سال پورے کرنے کی سہولت کمائی۔

جان کیری ڈرون حملے بھی نہیں رکوا سکتے۔ وہ اپنے تئیں بڑے طاقتور سیاست دان ہوں گے۔ مگر باس ان کے امریکی صدر اوبامہ ہیں۔ اوبامہ کو یہ ہتھیار بہت پسند آگیا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس کے ’’کامیاب‘‘ استعمال کے بعد وہ اسے یمن جیسے ملکوں میں بھی استعمال کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ جان کیری کے دورہ  پاکستان سے چند روز پہلے صدر اوبامہ نے اپنی ایک تقریر میں ڈرون حملوں کی اہمیت کو تفصیل سے اُجاگر کیا اور اپنے تئیں انسانی حقوق کے چیمپیئن وغیرہ بنے، امریکی نقادوں کو یہ تسلی بھی دے ڈالی کہ ان کی حکومت نے بڑی سوچ بچار کے بعد ایک طریقہ وضع کرلیا ہے جس کے نتیجے میں ڈرون حملوں سے معصوم اور بے گناہ شہری کم سے کم تعداد میں ہلاک ہوا کریں گے۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ ویسے بھی القاعدہ کے زیادہ تر لوگ ڈرون حملوں میں مارے جاچکے ہیں  جو باقی رہ گئے ہیں ان کی بھی فراغت ہو جائے تو مزید ڈرون حملے روک دیے جائیں گے۔ اپنے صدر کے اس تفصیلی بیان کے بعد جان کیری ڈرون حملوں کی بابت کوئی اور بات کر ہی نہیں سکتے تھے۔

اپنے دورہ پاکستان میں ویسے بھی انھوں نے زیادہ وقت ہمیں یہ سمجھانے میں صرف کیا کہ امریکا اپنی افواج کو افغانستان سے مکمل طور پر نکال نہیں رہا ہے بس ان کی تعداد میں نمایاں کمی کردی جائے گی۔ امریکی افواج کی بھاری تعداد میں واپسی شروع ہونے سے پہلے البتہ پاکستان کو چھ ماہ دیے گئے ہیں جن کے دوران توقع یہ کی جا رہی ہے کہ ہماری حکومت طالبان پر اپنا اثرورسوخ بھرپور طریقے سے استعمال کرے، انھیں کرزئی حکومت کے نمایندوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھائے۔ ایک بار سارے افغان فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے تو ایک نام نہاد “Afghan-Led & Afghan Decided”معاہدہ امن کی امید پیدا ہوجائے گی۔ امریکی اس امید کے بہانے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنا شروع ہوجائیں گے۔ پاکستان اس دوران ان افواج اوران کے بھاری اور قیمتی اسلحے کی پاکستانی راستوں سے خیروعافیت کا بندوبست کرے گا۔ اس کام میں اس کی جو رقم خرچ ہوگی وہ Coalition Support Fundکی صورت میں ادا کردی جائے گی۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ اس سوال کا جواب دینا امریکی اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتے۔ ہاتھی بڑا جانور ہے۔ انڈہ دے یا بچہ۔

صاف ظاہر ہے ناک سیدھی طرح پکڑیں یا بازو موڑ کر، افغانستان دوبارہ 1990ء کی دہائی کے ان دنوں میں واپس چلا جائے گا جب مجاہدین اسلام کی قوتِ ایمانی کی وجہ سے کمیونسٹ روس کی فوجیں وہاں سے نکل گئی تھیں۔ ان کے جانے کے بعد امریکا بھی افغانستان کو بھول گیا۔ غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل گئیں تو احمد شاہ مسعود اور گل بدین حکمت یار کی افواج نے ایک دوسرے پر خوفناک میزائل چلاچلاکر عام افغانیوں کا جینا دو بھر کردیا۔ پناہ لینے کے لیے وہ پاکستان آنا شروع ہوگئے۔ طالبان نے اس موقعہ سے فائدہ اُٹھایا اور بالآخر کابل پر قبضہ کرلیا۔ مجھے یقین ہے اب کی بار امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی تو اس ملک میں مزید تباہی آئے گی۔ امریکی کرزئی کی فوج کو جدید ترین اسلحہ دے کر جائیں گے ان کے مقابلے میں ’’نیٹو افواج کو شکست دینے‘‘ کے نشے میں سرمست طالبان ہوں گے۔ کابل پر قبضے کے لیے تاریخی معرکے برپا ہوں گے۔ ہمیں مگر اس سے کیا لینا دینا۔ افغان جانیں اور ان کا کام۔

میرے لیے تو فکر مندی کی بات یہ تھی کہ اپنی پریس کانفرنس کے دوران جب جان کیری کو بتایا گیا کہ ان کے ملک کی طرف سے پھینکے جانے والے ڈرون پاکستان کی خود مختاری پر سوالیہ نشان ڈال دیتے ہیں تو انھوں نے فوراً  یاد دلایا کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری بھی تو اپنی یہاں موجودگی سے کچھ ایسا ہی پیغام دے رہا ہے۔ سچی بات ہے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ہم تو اس مصری کو بھول بیٹھے تھے۔ مگر جان کیری نے یاد دلایا تو اس نے بھی فوراً ایک بیان داغ ڈالا جس میں امریکا کو ایک گھنائونی سازش کے ذریعے اخوان المسلمون کے مرسی کی منتخب شدہ حکومت کو مصری فوج کے ذریعے برطرف کروانے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ بات صرف اس بیان تک محدود رہتی تو میں اتنا فکر مند نہ ہوتا۔ پچھلے ایک ہفتے سے مگر امریکا اور کئی یورپی ملک یمن وغیرہ میں اپنے سفارت خانے بند رکھے ہوئے ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ یہ فیصلہ ایمن الظواہری کی اس گفتگو کے بعد ہوا جو اس نے خلیجی ملکوں میں مقیم القاعدہ کے ایک رہ نما سے ٹیلی فون پر کی تھی۔ امریکی جاسوس اداروں نے وہ ساری گفتگو سن لی۔ اب مجھے یہ نہ بتائیں کہ امریکی جاسوس اداروں نے صرف گفتگو سنی۔ یہ پتہ نہیں چلاسکے کہ ایمن الظواہری نے ٹیلی فون کس مقام سے کیا تھا۔ میڈیا کو اس گفتگو کی تفصیلات ازخود بتانے کے بعد امریکی اداروں کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ ایمن الظواہری تک جلد از جلد پہنچنے کی کوشش کریں۔ دیکھئے کب پہنچتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو برسات کا رومان پرور موسم ہے اور عیدالفطر کی آمد آمد ۔ امریکی جانیں اور الظواہری۔ ساہنوں کیہ؟(ہمیں اس سے کیا)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔