کیا چوہدری نثار کو کوئی خطرہ نہیں

جاوید چوہدری  بدھ 7 اگست 2013
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

چوہدری نثار علی خان اس وقت دنیا کی ساتویں جوہری طاقت کے وزیر داخلہ ہیں‘ میرا ان سے لو اینڈ ہیٹ (محبت اور نفرت) کا تعلق ہے‘ میں انھیں پسند کرتا ہوں مگر چوہدری صاحب مجھ سے نفرت کرتے ہیں‘ اس نفرت کی وجہ بہت دلچسپ ہے‘ چوہدری نثار علی خان اور ملک ریاض کے درمیان اختلافات تھے‘ ملک میں جن دنوں ڈاکٹر ارسلان افتخار اور ملک ریاض کا تنازعہ چل رہا تھا‘ چوہدری نثار ان دنوں میرے ٹی وی پروگرام میں تشریف لائے‘ یہ لائیو شو تھا‘ اس شو میں چوہدری صاحب نے دعویٰ کیا ’’ میرے پاس ملک ریاض کی کرپشن اور زمین پر قبضوں کی دو سو فائلیں ہیں‘‘ چوہدری صاحب نے اس دعوے کے بعد اعلان کیا‘ وہ اگلے ہفتے یہ دو سو فائلیں لے کر دوبارہ اس پروگرام میں آئیں گے اور یہ ثبوت قوم کے سامنے رکھیں گے‘‘ بات طے ہو گئی لیکن شاید چوہدری صاحب مصروف ہو گئے اور وہ یہ اپنا وعدہ نہ نبھا سکے‘ یہ دوبارہ پروگرام میں تشریف نہیں لائے اور یوں یہ معاملہ سلجھ نہ سکا‘ ملک ریاض نے اس انٹرویو پر احتجاج کیا‘ ان کا کہنا تھا’’ یہ یک طرفہ انٹرویو تھا۔

صحافتی اصولوں کے مطابق میرا موقف بھی سامنے آنا چاہیے تھا‘ آپ نے چوہدری نثار کا دعویٰ پوری قوم کو سنا دیا لیکن مجھے جواب تک کا موقع نہیں دیا‘‘ ملک ریاض کی یہ بات درست تھی‘ قانون‘ آئین اور اخلاقیات سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال کو بھی صفائی کا موقع دیتی ہے چنانچہ ملک ریاض کو موقع نہ دینا زیادتی تھی مگر میں چونکہ چوہدری نثار کی عقیدت میں گرفتار تھا لہٰذا میرا خیال تھا چوہدری نثار جب تک دو سو فائلیں لے کر سامنے نہیں آتے ہمیں اس وقت تک ملک ریاض کو پروگرام میں دعوت نہیں دینی چاہیے‘ ہم چوہدری صاحب سے رابطے کی کوشش کرتے رہے‘ میرا اسٹاف ہر دوسرے دن ان کے دفتر پیغام چھوڑتا رہا مگر چوہدری صاحب شاید مصروف تھے‘ یوں یہ معاملہ پانچ ماہ تک لٹکا رہا‘ لوگ اس دوران ملک ریاض کے موقف کا مطالبہ کرتے رہے ‘ ان لوگوں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر ارکان بھی شامل تھے‘ یہاں تک کہ ہم لوگ ملک ریاض کا موقف ریکارڈ کرنے پر مجبور ہو گئے‘ مگر ہم لوگوں نے اس معاملے میں ملک ریاض سے ذرا سی زیادتی کی۔

ہم نے چوہدری نثار کے برعکس ان کا پروگرام لائیو نہیں کیا‘ ہم نے پروگرام ریکارڈ کیا اور اس پروگرام سے بھی‘ ساڑھے چار منٹ کے قابل اعتراض حصے کاٹ دیے‘ یہ پروگرام 15 نومبر 2012ء کو آن ائیر ہوا‘ چوہدری نثار اس پروگرام کے بعد ناراض ہو گئے‘ انھوں نے اپنے پی اے کے ذریعے میرے ایسوسی ایٹ پروڈیوسر کو ایک پیغام لکھوایا جس میں چوہدری صاحب کا کہنا تھا‘ جاوید چوہدری کو شرم آنی چاہیے اور یہ شرمناک صحافت ہے اور میں کبھی اس کا منہ نہیں دیکھوں گا وغیرہ وغیرہ‘ میں نے پیغام سنا تو میں نے ہنس کر ٹال دیا‘ میں اس کے باوجود چوہدری نثار علی خان کی عزت کررہا ہوں اور شاید اس وقت تک کرتا رہوں گا جب تک ان میں وہ خوبیاں موجود رہیں گی جن کا میں ابھی تذکرہ کروں گا۔

چوہدری نثار ان سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جو 1999ء سے لے کر 2007ء تک آٹھ برسوں میں ڈگمگائے نہیں‘ مجھے جنرل پرویز مشرف نے خود بتایا‘ ہم چوہدری نثار کو وزیراعظم بنانا چاہتے تھے لیکن یہ ’’انٹرسٹڈ‘‘ نہیں تھے‘ یہ کوشش صدر آصف علی زرداری نے بھی کی مگر چوہدری صاحب ان کے ٹریپ میں نہیں آئے‘ یہ اپوزیشن لیڈر تھے تو یہ پولیس سیکیورٹی اور بلٹ پروف گاڑی کے بغیر اسلام آباد میں پھرتے تھے‘ ان کے ساتھ اسٹاف کا کوئی شخص بھی نہیں ہوتا تھا‘ مجھے انھوں نے ایک بار اس خطاب کے چند نکات بھی سنائے جو میاں نواز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد قوم سے کرنا تھا‘ میں دل سے سمجھتا ہوں اگر میاں نواز شریف اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ خطاب کرتے یا یہ آج چوہدری نثار کے نقطوں پر مبنی تقریر کر دیں تو معاملات ٹھیک ہو جائیں ‘ ملک کی سمت درست ہو جائے کیونکہ بہرحال اس ملک کے کسی نہ کسی لیڈر کو یہ تقریر کرنا ہوگی اور ملک کو ان لائینز پر چلانا ہو گا جن کا اظہار چوہدری نثار نے تین سال قبل کیا تھا‘ میں نے وہ نقطے لکھ لیے تھے اور میں آیندہ کسی وقت یہ نقطے آپ کے گوش گزار کروں گا‘ چوہدری نثار کا تازہ ترین اقدام بھی قابل ستائش ہے۔

انھوں نے وزراء کالونی میں سرکاری رہائش گاہ نہیں لی‘ یہ قانوناً وزراء کالونی میں سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کی مورچہ نما رہائش گاہ حاصل کر سکتے ہیں‘ یہ ان کی بلٹ پروف گاڑیاں اور وزیراعظم کے برابر پروٹوکول بھی لے سکتے ہیں مگر انھوں نے یہ نہیں لیا‘ یہ اسلام آباد میں اپنی ذاتی رہائش گاہ میں مقیم ہیں اور وزیر داخلہ ہائوس ‘ امور کشمیر کے وفاقی وزیر برجیس طاہر کو الاٹ کر دیا گیا ہے‘چوہدری نثار علی خان کا یہ اقدام قابل ستائش ہے‘ ملک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے‘ ہماری ساٹھ فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے‘ لوگ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے بچے بیچ رہے ہیں‘ ہم 65 برسوں میں سیلاب تک کنٹرول نہیں کر سکے‘ آج بھی کراچی جیسا شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے‘ ہماری سیکیورٹی کی حالت یہ ہے کہ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل طارق مجیدکے داماد عامر ملک کو اگست 2010ء میں لاہور سے اغواء کر لیا گیا اور شنید ہے جنرل طارق مجید کا داماد تاوان ادا کر کے چھڑوایا گیا‘ 2 فروری 2009ء کو کوئٹہ سے یونیسیف بلوچستان کے سربراہ جان سلوکی اغواء ہوئے‘ ریاست اسے بھی نہیں چھڑوا سکی اور یہ بھی4 اپریل 2009ء کوادائیگی کے بعد رہا ہوئے‘ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے لوگ روز اٹھا لیے جاتے ہیں اور ریاست ان کی رہائی کے لیے ادائیگی پر مجبور ہو جاتی ہے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا علی حیدر گیلانی الیکشن مہم کے دوران ملتان سے اغواء ہوا اور آج تک برآمد نہیں ہو سکا‘ اغواء کار گیلانی فیملی کو باقاعدہ فون بھی کرتے ہیں اور اب انھوں نے اپنی شناخت بھی ظاہر کر دی ہے مگر ریاست انھیں بھی برآمد نہیں کر سکی‘دہشت گرد کوئٹہ سے پنجاب جانے والی مسافر کوچز سے 24 مسافر اغواء کرتے ہیں‘ ان کے شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں اور14 مسافروں کو پنجابی ہونے کی وجہ سے گولی مار دیتے ہیں‘چلاس میں کل دہشت گردوں نے سرے عام فائرنگ کر کے کرنل غلام مصطفی‘ کیپٹن اشفاق عزیزاور ایس ایس پی دیامرہلال خان کو شہید کر دیا‘ طالبان گاڑیوں پر بنوں جیل آتے ہیں‘ جیل توڑتے ہیں‘ تین ساڑھے تین گھنٹے جیل میں رہتے ہیں اور 284 لوگ ساتھ لے کر قبائلی علاقے میں پناہ لے لیتے ہیں‘ بنوں جیل چار چھائونیوں سے صرف دس منٹ کے فضائی فاصلے پر واقع ہے‘ طالبان ڈی آئی خان جیل پر حملہ کرتے ہیں‘ کنٹونمنٹ کی دیوار توڑ کر جیل تک پہنچتے ہیں اور 253 لوگوں کو لے کر چلے جاتے ہیں اور ریاست ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکتی اور آج اسلام آباد میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے اگلی جیل وہ ہو گی جس میں شکیل آفریدی بند ہے۔

طالبان یہ جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو نکالیں گے اور منہ مانگا معاوضہ لے کر اسے امریکا کے حوالے کر دیں گے یا پھر طالبان کے بھیس میں امریکی جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو لے جائیں گے‘ خفیہ اداروں نے ایسی ٹیلی فونک گفتگو بھی ریکارڈ کی جس میں وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بڑے شہروں کو نشانہ بنانے کی ہدایات دی جا رہی تھیں‘ کراچی شہر میں خوف زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور راولپنڈی اسلام آباد میں بھی بھتے کی پرچیاں تقسیم ہو رہی ہیں اور تاجر اور دکاندار جان بچانے کے لیے رقم دینے پر مجبور ہو رہے ہیں‘ یہ ہیں ہماری ریاست کے حالات‘ ریاست کی حالت یہ ہے جی ایچ کیو کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے لاہور کی جیل میں مقید ایک قیدی کو راولپنڈی لایا جاتا ہے‘ حملہ آوروں سے اس کے ذریعے مذاکرات کیے جاتے ہیں جب کہ پولیس دہشت گردوں کا راستہ روکنے کے لیے تیار نہیں‘ فوج اجتماعی فیصلوں کی منتظر ہے اور سیاستدان پانچ پانچ سال لگانے میں مصروف ہیں لیکن ان حالات میں وزراء سرکاری رہائش گاہیں‘ مراعات‘ سیکیورٹی‘ بلٹ پروف گاڑیاں اور پروٹوکول سمیٹنے میں مصروف ہیں۔

ہماری موجودہ حکومت نے بھی پرانی حکومت سے کچھ نہیں سیکھا‘ یہ بھی اسی طرز عمل کا تعاقب کر ر ہے ہیں جس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے تابوت میں کیل ٹھونک دیے تھے‘ ان حالات میں چوہدری نثار کا اقدام واقعی قابل ستائش ہے‘ کیا چوہدری نثار کی جان کو کوئی خطرہ نہیں؟ یہ خطرہ موجود ہے لیکن اگر اس کے باوجود ملک کا وزیر داخلہ ذاتی رہائش گاہ میں رہ سکتا ہے‘ یہ پروٹوکول اور سیکیورٹی کے بغیر ’’موو‘‘ کر سکتا ہے تو پھر باقی وزراء ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ سرکاری رہائش گاہیں کیوں نہیں چھوڑ سکتے؟ یہ ذاتی گھروں میں کیوں نہیں رہ سکتے اور یہ قوم کو سرکاری گاڑیوں کا خرچ معاف کیوں نہیں کر سکتے؟ آپ دنیا کی تقلید نہ کریں‘ آپ کم از کم چوہدری نثار کی روایت پر ہی عمل کر لیں‘ آپ قوم پر تھوڑا سا رحم کر دیں‘ قوم آپ کو دعائیں دے گی ورنہ دوسری صورت میں قوم آپ کے ہر دشمن کو اپنا ہیرو بنا لے گی‘ یہ عدنان رشید جیسے لوگوں کو اپنا لیڈر مان لے گی اور اس وقت نہ سرکاری رہائش گاہیں آپ کے کام آئیں گی اور نہ ہی بلٹ پروف گاڑیاں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔