پی ایس ایل سیزن 4: نوجوان ٹیلنٹ، نیا ولولہ اور خدشات

روبیس علی  پير 18 مارچ 2019
گزشتہ تینوں سیزنز کی طرح اس سال بھی نئے نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار پرفارمنس دکھائی۔ (فوٹو: فائل)

گزشتہ تینوں سیزنز کی طرح اس سال بھی نئے نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار پرفارمنس دکھائی۔ (فوٹو: فائل)

دنیا بھر میں لیگ کرکٹ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ سلسلہ ٹی ٹوئنٹی سے شروع ہوا اور اب ٹی ٹین یعنی صرف دس اوورز کی کرکٹ تک جا پہنچا ہے۔ اس وقت دنیا کی تمام بڑی انٹرنیشنل ٹیموں کی اپنی اپنی لیگ ہے جن میں آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ، انڈیا کی انڈین پریمیئر لیگ، اور ویسٹ انڈیز کی کیریبین پریمیئر لیگ شامل ہے۔ ایک طرف جہاں فرنچائز کرکٹ کا مقصد خوب سارا پیسہ کمانا ہے وہیں اپنے لوکل پلیئرز خصوصاً نوجوان کھلاڑیوں کےلیے بین الاقوامی معیار کا پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی ہے جہاں وہ اپنا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے دکھا سکیں۔

پاکستان میں لیگ کرکٹ کی ابتداء 2016 میں ہوئی جب پہلی بار متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں پاکستان سپرلیگ کا میلا سجایا گیا؛ اور پھر اگلے تین ایڈیشن بھی ان ہی میدانوں میں منعقد ہوئے۔ البتہ دوسرے ایڈیشن کا فائنل، تیسرے ایڈیشن کا پلے آف مرحلہ اور فائنل جبکہ چوتھے ایڈیشن میں پلے آف میچز اور فائنل سمیت لیگ مرحلے کے آخری تین میچز بھی پاکستان میں کھیلے گئے۔

پی ایس ایل کے چاروں ایڈیشنز پر نظر دوڑائی جائے تو ان سب میں ایک چیز مشترک ہے، اور وہ ہے نوجوان ٹیلنٹ کا سامنے آنا۔ بات ہو شاداب خان، حسن علی یا شاہین شاہ آفریدی کی، یا ذکر ہو حسین طلعت، آصف علی اور محمد نواز کا؛ یہ تمام ہی وہ نوجوان کرکٹرز ہیں جنہیں پی ایس ایل کے ذریعے میدان میں گرین کیپ پہن کر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔

گزشتہ تینوں سیزنز کی طرح اس سال بھی نئے نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار پرفارمنس دکھائی، جن میں کراچی کنگز کے عمر خان، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے محمد حسنین، لاہور قلندرز کے حارث رؤف اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے محمد موسی شامل ہیں۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے آف اسپنر عمر خان اس مرتبہ سب کی توجہ کا مرکز رہے۔ 18 سالہ عمر خان نے نہ صرف اپنی گھومتی گیند سے شین واٹسن، اے بی ڈی ویلیئرز اور لیوک رانکی جیسے خطرناک بیٹسمین کو ناکوں چنے چبوائے بلکہ صرف 11 میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کرکے ٹاپ 5 بالرز کی فہرست میں جگہ بھی بنائی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے محمد حسنین نے اپنی برق رفتار گیندوں سے شعیب اختر، وقار یونس، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر سمیت چیف سلیکٹر انضمام الحق کو بھی حیران کردیا۔ حیدرآباد کے 18 سالہ محمد حسنین نے 7 میچوں میں 12 شکار کیے اور ساتھ ہی ساتھ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کی آسٹریلیا سے اگلی ون ڈے سیریز کےلیے اسکواڈ میں جگہ بنانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ لاہور قلندرز پلیئر ڈیویلپمنٹ پروگرام کی دریافت 25 سالہ حارث رؤف نے بھی فاسٹ بالنگ میں اپنی اہلیت ثابت کردی۔ کراچی کنگز کے خلاف میچ میں ایک اہم موقع پر 4 قیمتی وکٹیں حاصل کرکے حارث نے اپنے میچ وننگ اسپیل سے خود کے اور پاکستان میں فاسٹ بالنگ کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ دے دیا۔ حارث نے دس میچوں میں 11 شکار کیے۔

2017 انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے وا لے نوجوان فاسٹ بالر محمد موسی، اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ بنے جہاں انہیں 7 میچز کھیلنے کا موقع ملا اور وہ 7 ہی وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ البتہ کوچ اسلام آباد یونائیٹڈ وقار یونس کے مطابق موسی میں ایک معیاری فاسٹ بالر والی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔

حالیہ ایڈیشن میں جہاں بالرز نے اپنی پرفارمنس سے سب کو متاثر کیا وہیں دوسری جانب کوئی بھی پاکستانی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا، جبکہ پاکستان سپر لیگ کے چاروں سیزنز میں اب تک ایک بھی وکٹ کیپر بیٹسمین سامنے نہ آسکا، جو پاکستانی کرکٹ کےلیے خطرے کی ایک علامت ہے۔

پی سی بی مینجمنٹ اور پی ایس ایل انتظامیہ آئندہ سیزن میں ان مشکلات سے نمٹنے کےلیے کیا پلان کرتی ہے؟ کیا ایمرجنگ کٹیگری میں بلے بازوں کےلیے کوئی خاص پالیسی تشکیل دی جائے گی؟ یا کوئی ایسا قانون متعارف کروایا جائے گا جس کے ذریعے نوجوان بیٹسمین کو زیادہ سے زیادہ مواقع مل سکیں؟ یہ وہ تمام مسائل ہیں جنہیں پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن تک حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی کرکٹ کو اسپنرز اور فاسٹ بالرز کے ساتھ ساتھ نئے نوجوان بیٹسمین اور وکٹ کیپر بھی ملنا شروع ہوجائیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

روبیس علی

روبیس علی

بلاگر جامعہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ میں بی اے اونرز کے طالب علم ہیں۔ کرکٹ اور فٹبال کھیلنے اور دیکھنے کے ساتھ ان پر لکھنے کا بھی شوق ہے، اسپورٹس جرنلزم میں کیریئر بنانے کے خواہش مند ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔