لمبی لمبی چھوڑنے کا ریکارڈ

سید امجد حسین بخاری  بدھ 20 مارچ 2019
پاک بھارت عوام جذبات کی رو میں بہہ جانے والی اقوام ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاک بھارت عوام جذبات کی رو میں بہہ جانے والی اقوام ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

سوشل میڈیا اسکرولنگ اور مختلف مضامین کے مطالعے کے دوران پاک بھارت سیاسی اور ملٹری چپقلش پر مضامین پڑھے، خبریں نظروں سے گزریں۔ دو اہم خبروں نے مجھے رکنے پر مجبور کردیا۔ پہلی خبر بھارتی وزیراعظم اور ان کے دست راست امیت شاہ کے حوالے سے تھی۔ خبر تھی کہ دونوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل میں چوکیدار کا سابقہ لگالیا ہے۔ ماہرین سیاسیات کے مطابق یہ ایک بہترین سیاسی چال ہے۔ دوسری خبر ہندو تنظیم آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر پرچارک (مبلغ) اندریش کمار سے متعلق تھی، جو اکھنڈ بھارت کے نعرے کو زندہ کررہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2025 تک ان کا اکھنڈ بھارت کا خواب مکمل ہوجائے گا۔ ہندو شہری لاہور، کراچی، فیصل آباد اور اسلام آباد میں زمینیں خرید سکیں گے اور پاکستان بھارت کا حصہ بن جائے گا۔

نریندر مودی، امیت شاہ اور اندریش کمار کے بیانات کا مقصد گو کہ ہندو ازم کو فروغ دے کر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہے، لیکن یہ بیانات ایک مخصوص ذہنیت کو بڑھاوا دینے کی کوشش بھی ہیں۔ پاک بھارت سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو دونوں ممالک کے عوام جذبات کی رو میں بہہ جانے والی اقوام ہیں۔ پاکستان میں مذہب کو جہاں ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، وہیں بھارت میں بھی ہندو ازم کو خوب بڑھاوا دیا گیا۔ قصہ مختصر بھارتی رہنماؤں کے بیانات سے مجھے اکبر، شاہ جہاں اور جہانگیر کے دربار کے خواجہ سرا یاد آگئے جو شہنشاہ ہند کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے لیے خوب جتن کرتے تھے۔ مجھے پنجاب کے بھانڈ (میراثی) یاد آئے، جو صاحب کو خوش کرنے کے لیے لمبی لمبی چھوڑتے تھے۔ ویسے دونوں ممالک میں لمبی لمبی چھوڑنے والوں کی اکثریت تو ہے، لیکن اہم عہدوں پر فائز افراد یوں لمبی لمبی چھوڑیں گے، یقین کرنا مشکل ہورہا ہے۔

نریندر مودی چوکیدار کا نعرہ مستانہ بلند کرکے اقتدار میں آئے۔ وعدہ کیا کہ وہ قوم کے پیسوں کی حفاظت کریں گے لیکن ان کی مستانی روح نے لمبی لمبی چھوڑنے کے باوجود بھی بھارتی شہریوں کو چین کی نیند سلانے کا انتظام نہیں کیا۔ 2014 میں بھی بھارتی کسان بھوک سے مر رہے تھے اور اب پانچ سال کے بعد بھی کسان خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ چوری کے پیسے بھارت لانے کا وعدہ کرنے والے چوکیدار نے تو خود ہی چوروں سے ہاتھ ملا لیا۔ راہول گاندھی نے اسی بات کا سہارا لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مودی چوکیدار نہیں بلکہ چور ہیں۔ انہوں نے یہ بیان رافیل طیاروں کی ڈیل کے تناظر میں دیا۔ راہول کے مطابق مودی نے رافیل طیاروں کی خریداری اور ڈیل میں جان بوجھ کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن مودی جی کی بے چین روح کو چین کہاں نصیب ہوتا ہے۔ انہوں نے ’’میں بھی چوکیدار ہوں‘‘ کے ہیش ٹیگ کے ذریعے ٹوئٹ کیا۔ بھارتی وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل میں بھی چوکیدار کا سابقہ لگا لیا۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیگر رہنما بھی میدان میں آگئے۔

حضور آپ کی بات بجا ہے، حکمران عوام کے جان و مال، عزت و آبرو اور قومی خزانے کے چوکیدار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بھی تو تسلیم کیجیے کہ گزشتہ پانچ سال سے بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ آپ اس بات کو تسلیم کرنے میں شرمندگی تو محسوس نہ کیجیے کہ گزشتہ پانچ سال میں صرف کشمیر میں ہونے والی عام شہریوں اور بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آپ کو یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ پنجاب اور تامل ناڈو میں آپ کی پالیسیوں کے باعث احساس محرومی پیدا ہوا ہے۔ آپ نے قوم سے ان کی لوٹی ہوئی رقوم واپس لانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن گزشتہ پانچ سال میں گڑبڑ گھوٹالوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی محکموں میں کرپشن میں اضافہ ہوا۔ آپ چوکیدار ہیں، لیکن آپ کے جنگی جنون کے باعث نیپال، چین اور پاکستان سے آپ کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ اب کی بار آپ پھر چوکیدار کا نعرہ لگا کر آرہے ہیں، لیکن یاد رکھیے کہ دنیا اب بدل چکی ہے۔

مودی اب ہندوتوا کا نعرہ بلند کرکے میدان میں آرہے ہیں، لیکن بھارتی شہری اب بیدار ہوچکے ہیں۔ اس طرح لمبی لمبی چھوڑ کر، ان کے جذبات ابھار کر اور انہیں تشدد پر اکسا کر فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

لمبی لمبی چھوڑنے کا ریکارڈ تو آر ایس ایس کے اندریش کمار نے بھی بنایا۔ حضور خواب دیکھنے پر پابندی نہیں، لیکن یوں لمبی لمبی چھوڑنا بھی مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ پاک بھارت دونوں ممالک کا مسئلہ ہے، بعض مذہبی گروہ اور پاکستانی سیاسی پنڈت لال قلعہ دہلی پر پاکستانی پرچم لہرانے کا خواب دکھاتے آرہے ہیں، لیکن بھارتی سیاست دان تو 1965 سے لاہور میں چائے پینے کے سپنے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستانی تو گزشتہ کئی سال سے تخیلاتی جنت سے نکل آئے ہیں۔ بھارتی قیادت اور عوام کو اب تسلیم کرلینا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایک حقیقت ہیں۔ دونوں کے درمیان موجود تنازعات کا حل موجود ہے اور دونوں جانب کی سیاسی قیادت کو مذاکرات کے ذریعے ان کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ میری تو دلی خواہش ہے کہ کراچی سے کنیا کماری، گوادر سے کالی کٹ تک میری رسائی ہو۔ میں بنگالی مچھیروں کا مہمان بنوں اور راجستھان کے جاٹ کی مہمان نوازی کروں۔ میں مزار قائد سے تاج محل تک بلا روک ٹوک سفر کرسکوں۔ گوا کی سیر ہو یا گوادر میں کشتی رانی، یہ میری زندگی کے خواب ہیں۔ لیکن یہ ممکن کیونکر ہوگا؟ یہ تبھی ممکن ہوگا جب دونوں ممالک اپنے پڑوسی کو حقیقت تسلیم کریں گے۔ دونوں ممالک کو بہتر تعلقات کے ذریعے ویزہ فری پالیسی رائج کرنی چاہیے تاکہ ہندو اور سکھ پاکستان میں موجود اپنے مقدس مقامات کی زیارت کرسکیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستانی شہری فری ویزہ کے تحت اجمیر شریف کی درگاہ پر جاسکیں۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ لاہوری حلوہ پوری، کراچی بریانی، دہلی اور ممبئی میں بھی دستیاب ہو۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حیدرآبادی کباب لاہوری طباخ کے ہاتھوں بننے کے بجائے حیدرآباد ہی میں کھائے جائیں۔ کتنا ہی خوبصورت لگے جب انڈین ساڑھی طارق روڈ اور اچھرہ سے بہ آسانی مل جائے، کمالیہ کا کھدر اور فیصل آباد کی لنگی ہریانہ، امرتسر اور جالندھر میں بھی ملے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کی مشترکہ کرنسی اور ساؤتھ ایشیا یونین ہو اور یہ یونین عالمی فیصلہ ساز قوتوں میں شامل ہو، جس کی قیادت کے سامنے اقوام عالم سر جھکاتی ہوں۔

میری یہ خواہش کہیں میری حسرتوں میں نہ بدل جائے۔ جالندھر اور امرتسر کی گلیوں کی سیر کا خواب اور لاہوری چائے کی لذت سے محروم لاکھوں شہری گزشتہ ستر سال کے دوران اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ دونوں پڑوسی آج تک ایک دوسرے کو برداشت کرنا تو درکنار، قبول کرنے کےلیے بھی تیار نہیں۔ پاکستان کی جانب سے امن کی خواہش اس کے گزشتہ 19 سال کے تلخ تجربے کا نچوڑ ہے، جس کے گلی کوچے خون کی ندیوں کا منظر پیش کرتے تھے۔ جہاں خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی کہ شاید ہی دنیا کے کسی خطے میں ایسا خونیں کھیل کھیلا گیا ہو۔

پاکستان اب بدل چکا ہے۔ بھارت کو بھی سازشی تھیوریز کا شکار ہونے کے بجائے پاکستان کی امن کی خواہش کا محبت کے ساتھ جواب دینا چاہیے، تاکہ خطے میں خوشحالی کا دور آئے اور دونوں ممالک کے چوکیداروں کو اپنے عوام کی امانتوں کی حفاظت کا وقت میسر آسکے۔ کیوں کہ دونوں ممالک کے لیے بہتر ہے کہ وہ مسخروں اور شاہی خواجہ سراؤں کی لمبی لمبی باتوں پر مسکرانے کے بجائے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے قہقہے لگائیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سید امجد حسین بخاری

سید امجد حسین بخاری

لکھاری نے جامعہ پنجاب سے جرنلزم میں ایم ایس ای کیا۔ بچپن سے بچوں کے لئے کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ آج کل قومی اخبارات میں ’’جلتی کتابیں‘‘ کے نام سے تعلیمی اور معاشرتی مسائل پر لکھ رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔