واڈا سے تنازع پر بھارتی بورڈ نے گھٹنے ٹیک دیے

اسپورٹس ڈیسک  منگل 19 مارچ 2019
مستقبل میں آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی پر فی میچ تین لاکھ ڈالر لینے کی شنید۔ فوٹو: فائل

مستقبل میں آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی پر فی میچ تین لاکھ ڈالر لینے کی شنید۔ فوٹو: فائل

 ممبئی: بھارتی کرکٹ بورڈ نے آخر اینٹی ڈوپنگ ایجنسی تنازع پر گھٹنے ٹیک دیے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین ششانک منوہر اور بی سی سی آئی کے اعلیٰ حکام و کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز کے نمائندوں کے درمیان مختلف معاملات پر بات ہوئی جس میں مقامی ڈوپنگ ایجنسی کے ساتھ کام کرنے اور آئی سی سی ایونٹس کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کے معاملے پر بات ہوئی جس میں بی سی سی آئی اس بات پر راضی ہوگیا ہے کہ وہ اگلے 6 ماہ تک نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے ساتھ کام کریں گے تاہم  اس کے ساتھ شرط رکھی ہے کہ کھلاڑیوں کے یورین سیمپل خود ان کا اپنا نمائندہ جمع کریگا کیونکہ وہ اس سلسلے میں نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے آفیشلز پر بھروسہ نہیں کرسکتے جبکہ مقامی لیبارٹری سے صرف  10 فیصد سیمپلز کی چیکنگ کرائی جائے گی۔

یاد رہے کہ عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی واڈا نے انٹرنیشنل کونسل کو خبردار کیا تھا کہ اگر بھارتی بورڈ اپنی مقامی ایجنسی کے ساتھ کام نہیں کرتا تو وہ آئی سی سی کو اینٹی ڈوپنگ قوانین کا نافرمان قرار دے دیں گے۔

دوسری جانب بی سی سی آئی حکام کی جانب سے ششانک منوہرکویقین دہانی کرائی گئی کہ انتخابات کے بعد نئی حکومت سے ٹیکس استثنیٰ پر بات کی جائے گی جبکہ مستقبل کے ایونٹس میں ٹیکس کی رقم خود ادا کرنے کے معاملے پر بی سی سی آئی کے ایک آفیشل کا کہنا تھا کہ ہم نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر واضح کردیا ہے کہ ایسی صورت میں ہم یہاں پر منعقد ہونے والے ایونٹس میں فی میچ  3 لاکھ 50 ہزار ڈالر میزبانی فیس چارج کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔