کراچی کا خدمتگار کون؟

رضا ہارون  بدھ 20 مارچ 2019

کراچی کی سیاست رک سی گئی ہے حالانکہ جولائی 2018 میں انتخابات ہو گئے جنھیں بڑی حد تک اب تسلیم کر کے معاملات آگے بڑھانے کی کوششوں کے باوجود کراچی کی سیاست میں ایک جمود طار ی ہے۔ جیتنے والی جماعت کی کمزورعوامی رابطہ مہم اور ہارنے والی جماعتوں کی گرتی ہوئی اور کمزور عوامی تائید کی نشاندہی ہوتی ہے۔ کراچی کی اہمیت اور اس شہر کی مشکلا ت و پریشانیاں لیکن سارے پاکستان میں رائج فارمولے کو کراچی میں نافذ کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

کراچی کی سیاست میں بڑی تبدیلی ایم کیو ایم کی اندر پیش آنے والے واقعات سے مشروط رہی۔لندن میں پیش آنے والے منی لانڈرنگ اور گرفتاری کے واقعات ایک علیحدہ معاملہ ہے لیکن پاکستان  میں الیکشن 2013 کے بعد کی صورتحال، عام انتخابات کے نتائج اور ایک نئی سیاسی جماعت کی پذیرائی، اکتوبر 2013 میں شروع کیا جانے والا کراچی آپریشن، نائن زیرو پر چھاپہ، مارچ 2016 میں ایم کیو ایم کے کئی سینئرز کا پارٹی چھوڑ کر ایک نئی پارٹی کا قیام، 22 اگست 2016 کو ملک مخالف نعرے اور میڈیا ہاوسز پر حملے، 8 نومبر 2017 کی  جوائنٹ پریس کانفرنس، فروری 2018 سے ایم کیو ایم پاکستان کے اندر ہونے والی دھڑا بندی،اور پھر 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات۔

کراچی کی موجودہ صورتحال کو پانچ ادوار میں دیکھا جا سکتا ہے: (1) مارچ 2016 سے قبل،(2)مارچ 2016 سے 22 اگست 2016 ، (3)23 اگست 2016  سے 8 نومبر2017، (4) 9 نومبر 2017 سے 25 جولائی 2018 اور(5) 26 جولائی سے جاری۔ مارچ 2016 سے قبل پارٹی کی قیادت اپنی ساکھ اور احترام کو بڑی حد تک نقصان پہنچا چکی تھی۔ مارچ 2016 سے  رہنما پارٹی چھوڑ کر ایک علیحدہ جماعت بناتے ہیں جسے ابتدا میں بڑی پذیرائی بھی ملی لیکن سب سے بڑھ کر شاید کراچی کے لوگ ماضی کی طرزسیاست سے تنگ اور بے زار ہوچکے تھے۔

شہر میں قیادت کی تبدیلی اور سیاسی انداز میں جدت کی ضرورت تھی اور عوام نے ایک نئی سوچ اور ایک نئی قیادت کو خوش آمدید کہا۔ پھر 22 اگست 2016 جب  1978 اور 1984 سے  قائم مرکز بری طرح متاثر ہوتا ہے اور بکھر جاتا ہے۔ 23 اگست 2016 سے 8 نومبر 2017 تک جب ایم کیو ایم اور پی ایس پی جوائنٹ پریس کانفرنس کا انعقاد ہوتا ہے اور بظاہر سب ٹھیک اور عین عوام کی امنگوں کے مطابق معاملات درستگی کی جانب بڑھنے لگتے ہیں لیکن 24 گھنٹوں کے اندر گڑبڑ اور خرابیاں پیدا کر دی جاتی ہیں۔

9 نومبر 2017  کے بعد سے عوام کو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ اور جواب در جواب کا سلسلہ، اندرونی اختلافات غرض سب مل ملا کر 25 جولائی 2018 تک عوام کی نظروں میں لیڈران کی ساکھ بری طرح متاثر ہو جاتی ہے۔ بحث کی جا سکتی ہے کہ کون صحیح تھا اور کون غلط، ہر کوئی اپنے اپنے شکوؤں کی بوری اٹھائے اپنے فیصلوں کو درست قرار دینے کی جنگ میں مصروف ہو گیا۔ انفرادی پبلسٹی اور ذاتی نفع نقصان کی جدوجہد شروع ہوئی اور عوامی مفادات کی جدوجہد پر گرفت کمزور ہوتی چلی گئی لہٰذا عوام میں اپنا اثررسوخ کھوتے چلے گئے۔

یہ بات درست ہے کہ گزشتہ 30 برس کراچی کے حقوق حاصل کرنے کے حوالے سے کامیاب دور نہیں۔ ماضی کی غلطیوں پر ایک الگ بحث ہو سکتی ہے لیکن فی الوقت حقیقت ہے کہ کراچی کا نوجوان اپنے آپ کو وفاق تو چھوڑ کراچی کی کسی بھی جماعت کے ساتھ جڑا ہوا نہیں دیکھتا۔ ایسا ہی ہوتا ہے جب ایک طویل قیادت کا دور اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو لیڈرشپ کے خلا کو پر کرنے کے  لیے میدان میں اترنے والے یا تو اس لیڈر جیسا بننے کی کوشش میں یا پھر قائدانہ صلاحیتوں سے یکسرمحرومی کے باعث اپنا منفرد مقام بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔

کراچی کا ایک مزاج ہے اور اس کے زخم منفرد بھی ہیں، ان پر مرہم اور ان کی رہنمائی کراچی کی قیادت ہی کر سکے گی، ضروری نہیں کہ اس کا کوئی شاندار سیاسی یا تنظیمی ماضی ہو بلکہ عین ممکن ہے کہ تمام تر عوامی امنگوں اور مفادات کے تحفظ کی علامات کے طور پر کسی نئے اور ابھرتے ہوئے فرد کی قیادت پر اتفاق کیا جا سکے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ عوام اب ایسا اسٹیج دیکھنا چاہتے ہیں جس پر بیٹھے افراد کے نام، صلاحیت اور تجربہ کی اہمیت ہو۔وہ چند غیرمتنازعہ، غیرجانبدار لیکن جانے پہچانے ا فراد اور ان کے ارد گرد ایک بار پھر نئے انداز اور جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق مکمل پرامن جدوجہد کا آغاز کیا جا سکے۔

کراچی سمیت سندھ بھر کے شہری عوام کو قیادت کی ایک ٹیم پیش کی جا سکے۔ ایسے افراد جو کراچی کا حق مانگنے کی مدبرانہ صلاحیت اور تاریخ میں سول رائٹس کے حوالے  سے چلنے والی عدم تشدد کی تحریکوں کی مثال سامنے رکھتے ہوئے آج کے نوجوان کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

ایک ایسا خواب جس کی تعبیر ممکن ہے، اپنی اپنی انا اورمفادات کو پس پشت ڈالنا ہو گا، ایک میز پر بیٹھنے کے لیے ذہنی اور نظریاتی طور پر تیار رہنا ہو گا، مذاکرات اور بات چیت کے مہذب راستے کا انتخاب کرنا ہو گا، اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، احتیاط، احترام اور آزاد  رائے کے ساتھ برداشت کا مظاہرہ اور سب سے اہم بات اس گفتگو کا مقصد لیڈر یا پارٹی ڈھونڈنا نہیں بلکہ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں بسنے والے عوام کے مفادات پر سیرحاصل گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔ حل سوچ کر گھر سے آئیں گے تو ان ملاقاتوں اور مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہو گا لیکن اگر گفتگو کر کے ساتھ بیٹھ کر حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے تو کامیابی ضرور حاصل ہو گی۔ کراچی کی ملک کی معیشت میں اہمیت اور اس کا اصل مقام دلوانا ہی اصل مقصد ہے اورسیاست سے زیادہ خدمت ایجنڈا ہو تو کامیابی ممکن ہے۔

ہمارے ایک دوست کہا کرتے تھے optics درست کر لیں بس کام ہو جائے گالیکن جب تک آپ عوامی مقبول سیاست کو نہیں سمجھیں گے تب تک صرف optics  کا سہارا اس legoland کی مانند ہے جسے گرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتا۔ اچھی تہذیب، خوش اخلاقی، روایات اور گفت وشنید کو اپنایا جائے، شہر کے لوگوں کے لیے چاند ستارے توڑ کر لانے کی بات کرنے والے اس قوم کی اجتماعی رائے کو مقدم جانیں اور مل بیٹھ کرسوچنا شروع کر دیں ورنہ عوام تو سوچتے بھی ہیں، اس کے پاس مختلف آپشنز بھی ہیں اور 25 جولائی کی طرح اپنے غصے کا اظہار کرنا بھی جانتے ہیں…!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔