حیسکو میں ڈیلی ویجز بھرتیوں کی تحقیقات کرائی جائے، پیغام

نمائندہ ایکسپریس  جمعرات 8 اگست 2013
 محمد ساجن پنھور نے الزام عائد کیا کہ ڈائریکٹر ایچ آر حیسکو نے جنوری اور فروری میں تمام قوائد و ضوابط کو پس پشت ڈالتے ہوئے ساڑھے 550  اسامیوں کو ڈیلی ویجز پر  پرکیا۔ فوٹو: فائل

محمد ساجن پنھور نے الزام عائد کیا کہ ڈائریکٹر ایچ آر حیسکو نے جنوری اور فروری میں تمام قوائد و ضوابط کو پس پشت ڈالتے ہوئے ساڑھے 550 اسامیوں کو ڈیلی ویجز پر پرکیا۔ فوٹو: فائل

حیدرآباد: پاکستان واپڈا ایمپلائز پیغام یونین سندھ کے صدر محمد ساجن پنھور نے حیسکو میں یونین کوٹے پر مزید ڈیڑھ سو اسامیوں پر ڈیلی ویجز بھرتیوں کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی وزیر پانی و بجلی سے حیسکو میں غیرقانونی ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ بھرتیوں کی اعلی سطح پر تحقیقات کرانے اور ڈائریکٹر ایچ آر کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ ڈائریکٹر ایچ آر حیسکو نے جنوری اور فروری میں تمام قوائد و ضوابط کو پس پشت ڈالتے ہوئے ساڑھے 550  اسامیوں کو ڈیلی ویجز پر  پرکیا، ان اسامیوں کا نہ توکوئی اشتہار دیا گیا اور نہ ہی کوئی ٹیسٹ یا انٹرویو لیے گٰے بلکہ اپنے پسندیدہ لوگوں کو اس میں بھرتی کرلیا گیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ انکی مخالف یونین ہائیڈرو ورکرزیونین کو خاموش رکھنے کے لیے 550 اسامیوں میں سے150 اسامیوں کا کوٹہ دیا گیا جس کی واپڈا قوانین میں کوئی گنجائش نہیں۔

انھوں نے کہا کہ حیسکو کی معاشی حالت پہلے ہی خراب ہے اور اس میں جعلی اور سفارشی بھرتیاں کرکے اسے مزید تباہ کیا جا رہا ہے، یہ تمام اسامیاں اندرون سندھ کے دفاتر کی تھیں لیکن مگر تمام سفارشی امیدواروں کو ڈیپوٹیشن پر حیدرآباد میں تعینات کیا گیا جبکہ حیدرآباد کے دفاتر میں ملازمین کے بیٹھنے تک کے لیے جگہ نہیں رہی ۔ انھوں نے وفاقی وزیر پانی وبجلی سے مطالبہ کیا کہ حیسکو میں 2012 اور2013میں ہونے والی تمام کنٹریکٹ اورڈیلی ویجز بھرتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور جعلسازی میں ملوث ڈائریکٹر ایچ آر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔