خوش رہو، پاکستانیو!

عارف انیس ملک  منگل 26 مارچ 2019
arifanees@gmail.com

[email protected]

پاکستان کے 70 ویں قومی دن کے آس پاس قوم کو ایک اور خوش خبری مل گئی۔ بھلے سے ہمارا شمار تیسری دنیا کے ایسے ملک میں ہوتا ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے اور جس کی اکانومی پٹڑی سے اتری ہوئی ہے۔ تاہم دنیا کے خوش ترین ملکوں میں ہمارا شمار 67 ویں نمبر پر ہوا ہے۔ اگر ڈھول کی تھاپ پر اور کانٹوں کی نوک پر کسی کو رقص کرتے دیکھنا ہو تو پاکستانیوں کو دیکھ لو۔ سلام ہے ان کے جینے کی حس پر،جس نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے۔

پاکستان سے باہر نکل کر 70-80 قوموں سے واسطہ پڑا۔ جینے کی ترنگ یا تو سپینش، برازیلین اور میکسیکن لوگوں میں دیکھی یا پھر پاکستانیوں میں، جو برے سے برے حالات میں مسکرا لیتے ہیں، کوئی ماہیا، کوئی ٹپا اٹھا لیتے ہیں۔

خلیج کے ملکوں میں پگھلتی دھوپ میں اپنے خون پسینے کو کھاد کرتے مزدور بھی دیکھے، امریکا اور یورپ میں بڑے بڑے اداروں کے سربراہان، ڈاکٹر صاحبان اور ٹیکنوکریٹ پاکستانی بھی دیکھے، منجھے ہوئے کاروباری بھی ملے اور قدرے روکھے مذہبی اقدار والے بھی، لیکن سب کے اندر زندگی کی لہریں انگڑائییاں لیتے دیکھیں۔ شاید یہی وہ اسپرٹ تھی جس نے 1947 میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ ملک کو رواں دواں کردیا تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں آزادی کے بہتر سالوں میں ہم نے کانٹے سے کہوٹہ کا سفر طے کیا، ملک دولخت کرایا، جنگیں اور سورشیں جھیلیں، شدت پسندوں کے ہاتھوں لہو لہان ہوئے، مگر ہم نے اپنے ہونٹوں سے مسکان کو لاپتہ نہیں ہونے دیا۔

2019 کے گلوبل ہیپینس انڈیکس یا خوشی کے عالمی پیمانے پر پاکستان نے 75 ویں نمبر سے چھلانگ لگا کر 67 ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے شاید خوشی کے لئے یہی کافی ہے کہ انڈیا کا نمبر، 156 ملکوں کی فہرست میں 140 واں ہے۔ مزید خوش خبری یہ ہے کہ 2017ء میں پاکستان 80 ویں نمبر پر تھا اور انڈیا 133 ویں پوزیشن پر تھا اور اب دو سالوں میں ان کے درمیاں فرق تقریباً دوگنا ہوگیا ہے۔ یہی نہیں دنیا کی ابھرتی ہوئی ورلڈ پاور چائنا کا 93 واں نمبر ہے جب کہ بنگلہ دیش کو 125 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

ورلڈ ہیپینس رپورٹ مختلف ملکوں کی شرح ترقی، سماجی تعاون، زندگی کے مختلف مواقع پر ملنے والی آزادی اور کرپشن کے حوالے سے عمومی رجحانات کے مجموعے کی بنیاد پر کسی ملک کی سر خوشی کے تناسب کا اندازہ کرتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اور ہندوستان کا تقریباً دوگنا فرق بہت سے افراد کو حیران کرگیا ہے۔

انڈیا کی جی ڈی پی کی شرح دنیا میں بہترین ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے، لیکن سرخوشی کی فہرست میں پاکستان سے میلوں پیچھے رہ گیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کی کوالٹی کے اعتبار سے پاکستانی بہتر زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ ہندوستان میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج بہت گہری ہوگئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں عوام کی ویلفیئر پر، ہندوستان کے مقابلے میں پر کیپیٹا زیادہ خرچ کیا گیا ہے۔

میرا دوست، شہرہ آفاق مصنف اور دنیا کے بڑے دماغوں میں سے ایک پروفیسر ٹونی بیوزان، برطانوی محکمہ خارجہ کی ساری وارننگ جھٹلاتا ہوا جب 2011 میں کراچی میں پہنچا تو صرف کراچی کی دہشتناک ٹریفک دیکھ کر ہی دنگ رہ گیا۔ میری موجودگی میں اس نے کئی بین الاقوامی فورمز پر پاکستانیوں کو ذہین ترین اقوام میں سے ایک قرار دیا اور پاکستانی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنے والوں کو مشہور نابغے فیثا غورث کے برابر ٹھہرایا کیونکہ وہ بال برابر فرق سے حادثے سے بچتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل چیچنیا کے صدر کا ایک بیان دیکھنے کو ملا تھا جس میں انھوں نے پاکستانیوں کو دنیا کی آزاد ترین قوم قرار دیا تھا، جس سے آپ کسی ضابطے پر عمل نہیں کرا سکتے تھے کہ وہ اپنی افتاد طبع کا شکار ہوکر کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا کر اس ضابطے سے دائیں بائیں ہونے کا راستہ ڈھونڈ لیتے تھی۔

میری امریکی دوست اور مشہور فلم پروڈیوسر سنتھیا رچی تو پچھلے کئی برس سے امریکی زندگی تیاگ کر پاکستان میں ہے اور مزے لے لے کر پاکستانی سینس آف ہیومر کے قصے سناتی ہے۔ وہ پچھلے دس برس میں پاکستان کے دور دراز علاقوں میں پہنچی اور ان دنوں پاکستان فسادیوں کے ہاتھوں لہو لہان تھا۔ سنتھیا حیرانی سے خودکش حملہ آوروں کے بارے میں سنائے جانے والے لطیفے سنتی تھی اور سناٹے میں آجاتی تھی۔ پشاور میں قصہ خوانی بازار میں وہ اس وقت ہکا بکا رہ گئی جب ایک لمبی داڑھی والے جبے میں ملبوس شخص نے انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا ‘وی وارنٹ پیس، بٹ ناٹ ان پیسز۔ گنیز بک ورلڈ ریکارڈ ہولڈر اور دنیا کی پہلی برطانوی خاتون جس نے کے ٹو سر کیا، وینیسا اوبرائن پاکستان کی محبت میں وارفتہ ہے۔ وہ سکردو کے غریب گھرانوں میں گزرے دنوں کو جھلملاتی آنکھوں سے یاد کرتی ہے اور اپنے آپ سے کہتی ہے کہ کیا دنیا میں ایسے نادر روزگار لوگ بھی وجود رکھتے ہیں۔

جیو پاکستانیو!! ڈھیر سارے یبوست زدہ کرپٹ سیاستدانوں، وردی سے باہر پھیلتے ہوئے طالع آزما جرنیلوں، زمین جنبد نہ جنبد گل محمد والی نوکر شاہی، جنت کے ٹکٹ بانٹتے اور جہنم کی وعیدیں سناتے ملاؤں ، حوروں سے ہم آغوشِ ہونے کے لیے بے چین ہو کر بازاروں میں اپنے آپ کو اڑاتے خودکش بمباروں، حکومتیں بناتے اور بگاڑتے پراپرٹی ٹائیکونوں، بجلی، گیس، ٹریفک، تعلیم، صحت کے مسائل، گڑبڑ گھوٹالہ جی ڈی پی، اور مسائل کی بہت بھاری گٹھڑی کے باوجود، کوئی بھی تمہارے اندر کی اسپرٹ کو نہیں مار سکا. تمہارے اندر بھنگڑا ہر وقت چلتا رہا ہے. اللہ کرے تمہارے قہقہے بلند ہوتے رہیں، تمہارے جھرنے بہتے رہیں، تمہارے سر تال اٹھتے رہیں اور تمہاری مسکراہٹیں قائم رہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔