بات نہیں سنتے، کہا نہیں مانتے!

سمیرا انور  منگل 26 مارچ 2019
بچوں کے اس رویّے کی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ فوٹو: فائل

بچوں کے اس رویّے کی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ فوٹو: فائل

’’اشعر میری بات بالکل نہیں سنتا، اسے چاہے کتنی آوازیں دے لو، مگر اس کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ یہی حال نادیہ کا ہے۔ سارا دن چیختے رہو بس۔‘‘

خاتون نے اپنی سہیلی کے سامنے شکایتی لہجے میں کہا۔

’’ہاں تم صحیح کہہ رہی ہو، آذر بھی ایسا ہی ہے، اسے نہ تو مہمانوں کا خیال ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کا ادب لحاظ ہے ذرا، میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں اسے کس طرح سمجھاؤں کہ میری بات مانے۔ دوسروں کے سامنے تو نہ کرے کم از کم۔‘‘ دوسری طرف سے بھی ایسی ہی بات سامنے آئی۔

یہ ایک عام مسئلہ ہے۔ ہر گھر کا اور سبھی مائیں اس قسم کے شکوے کرتی ہیں  کہ ان کے بچے ان کے قابو میں نہیں۔ بیٹا ہو یا بیٹی وہ ان کی بات نہیں سنتے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی ماں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں۔ مگر کبھی آپ یہ بھی سوچیں کہ بچوں کے ان رویوں، نافرمانیوں اور ہٹ دھرمیوں کی وجہ کیا ہے؟ اس کا سبب کیا ہے اور اس مسئلے سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔

سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ کہیں آپ ان سے ایسا کام کروانے کی کوشش کرتے ہیں جسے وہ ناپسند کرتے ہیں یا ایسا کام جس میں ان کی دل چسپی کم ہے۔ جیسے کہ بچوں کو کچھ کھانے پینے کی چیزیں پسند نہیں ہوتیں جب کہ وہ ان کے لیے صحت افزا اور بہت مفید ہوتی ہیں۔ آپ جب انھیں وہی کھانے کے لیے مجبور کرتی ہیں تو وہ چڑتے ہوئے کھانے سے انکار کر دیتے ہیں اور اس موقع پر بدتمیزی بھی کرجاتے ہیں۔

اگر آپ بچوں کو اسی کھانے کا نعم البدل دے دیں تو وہ شوق سے کھائیں گے اور انھیں احساس ہوگا کہ آپ ان کی خواہش کو پورا کرتی ہیں اور ان کا خیال رکھتی ہیں۔ بچے اگر دودھ شوق نہیں پیتے تو انھیں رس ملائی یا فریش جوس بنا دیں۔ اس کے علاوہ بچے سادہ گوشت ناپسند کرتے ہیں اور اسے کھانے کے لیے راضی نہیں ہوتے تو انھیں چکن ونگز یا سینڈوچ بنا دیں۔ آپ انھیں پیار اور شفقت سے کھانے پینے کی چیزوں کی افادیت کے بارے میں بتائیں گی تو وہ خود ہی اس طرف مائل ہوں گے۔

دوسرا اگر آپ ایک ہی بات کو دہراتی ہیں تو یاد رکھیں اس کی وجہ سے وہ ضدی اور ہٹ دھرم بن گئے ہیں۔ کچھ بچے رشتے داروں اور دوستوں سے ملنے سے گریز کرتے ہیں اور ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں تو آپ اس بات کو اپنے سَر پر سوار نہ کریں بلکہ ان کی شخصیت کو پرکھیں کہ کہیں وہ دبو اور تنہائی پسند تو نہیں ہیں لیکن جب آپ انھیں مجبور کریں گی اور انھیں زبردستی سب کے درمیان لے جائیں گی تو وہ خود سَر بننے کے ساتھ ساتھ ضدی اور بدتمیز بن جائیں گے اور آپ کی ہر بات کا منفی ردعمل دیں گے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ انھیں اپنے قریب لائیں اور پُراعتماد بنانے کی کوشش کریں۔ اگر بچوں کے مزاج کو سمجھیں گی تو اس طرح آپ کی پریشانیاں بڑھنے گے بجائے کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔

آپ کی بے جا محبت نے انھیں ضدی اور گھمنڈی بنا دیا ہے۔ اب آپ ان کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے سختی برت رہے ہیں تو وہ اس سے مشتعل ہو رہے ہیں۔ وہ آپ کے سخت رویے کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اب انھیں سیکھنے میں مشکل پیش آرہی ہے ۔

بچوں کو بے جا لاڈ پیار نہ کریں، بچپن میں اسی بات کو بری طرح نظر انداز کردیا جاتا ہے جس کے نتائج بہت بھیانک ہوتے ہیں۔ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے رویے کو متوازن رکھنا پڑتا ہے۔ نہ اتنی سختی کریں کہ وہ آپ کو اپنا دشمن سمجھیں اور نہ اتنا پیار کریں کہ ان کی اصلاح میں آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ بچے جب کچھ بڑے ہوتے ہیں تو ان کی بچپن کی عادات مزید پختہ ہونا شروع ہوجاتی ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ بچے درست سمت نہیں جارہے ہیں اور انھیں سمجھانا ضروری ہوگیا ہے۔ اس وقت انھیں سختی اور ڈانٹ پھٹکار سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس کوشش کے نقصان زیادہ ہوتے ہیں۔ کیوں کہ بچے اچانک آپ کی طبیعت میں سختی کو سمجھ نہیں پاتے اور وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے رویے کو اے کدم نہ بدلیں بلکہ آہستہ آہستہ بچوں کی عادتوں کو ختم کرنے کی کو شش کریں اور انھیں اس طرح سمجھائیں کہ وہ آپ کی بات ماننے پر مجبور ہو جائیں۔

بچوں کو مار پیٹ اور سختی کر کے  ان کی اصلاح کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے کیوں کہ اس طریقے سے بچے مزید بگڑ جائیں گے۔ بچوں کو طنزیہ انداز سے سمجھانا اور انھیں بار بار ان کی زندگی میں آنے والی ناکامیوں کا احساس دلانا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ بچے آپ کا کہنا ماننے کے بجائے آپ کی ہر صحیح بات کو بھی غلط گرداننا شروع کر دیں گے۔

اکثر والدین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بچوں کے سامنے ان کے کزنز اور دوستوں کو سراہتے ہوئے ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچے اپنی صلاحیتوں کو بھی منفی عینک سے دیکھنے لگ جاتے ہیں اور والدین سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کی بات ماننا تو دور کی بات ان سے اپنی کوئی بات بھی شیئرنہیں کرتے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے سامنے دوسروں کو ضرور سراہیں اور ان کی تعریف کریں لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ اس طرح ان کے کزنز کی مثالیں دیں کہ وہ خود بھی ان سے متاثر ہوکر اپنے آپ کو بہتر بنائیں اور اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلیاں لائیں نہ کہ بچوں میں کسی طرح کا احساس کمتری پیدا ہو۔

اپنی بات پر ڈٹے رہیں۔ اگر کسی بات کے لیے آپ نے انکار کر دیا ہے تو اب اپنی بات پر قائم رہیں یعنی فرض کریں کہ آپ بچوں کی کسی بات پر روکتی ہیں جیسے کوئی اسکول ٹور یا کسی دوست کے گھر جانے سے لیکن ان کے والد انھیں اجازت دے دیتے ہیں تو یہ بھی بچوں کے حق میں اچھا نہیں ہے کیوں کہ اس طرح وہ آپ سے دور ہو جائیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ پہلے آپس میں مشاورت کرلیں کہ بچوں کو کیا کہنا ہے اور کس طرح اس بات سے روکنا ہے۔ اس طرح بچے آپ کی بات ماننے پر راضی ہو جائیں گی اور آپ بچوں کی اصلاح و تربیت میں کام یاب ہو جائیں گی۔

بچوں پر بے جا پابندیاں بھی انھیں بگاڑنے میں پیش پیش ہوتی ہیں۔ بچوں کو ہر جگہ جانے سے منع کرنا اور سختی سے دباؤ ڈالنا بھی ان کے حق میں بہتر نہیں ہوتا۔ اس طرح وہ آپ کی باتوں پر توجہ نہیں دیتے۔ الغرض آپ بچوں سے ہر بات منوا سکتی ہیں لیکن اس کام میں سوچ بچار اور تحمل کی اشد ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔