اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں دستی بم حملے اور فائرنگ، ایک شخص جاں بحق

ویب ڈیسک  منگل 13 اگست 2013
جیل روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے کیمیکل پھینکا جس سےاسٹال پر آگ لگ گئی.

جیل روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے کیمیکل پھینکا جس سےاسٹال پر آگ لگ گئی.

حیدر آباد: اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں دکانوں اور اسٹالز پر دستی بموں سے حملے کئے گئے جن میں ایک شخص جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہو گئے۔

ایکسپریس نیوز کے بیورو چیف جنید خانزادہ کے مطابق حیدرآباد، جامشورو، دادو، نوابشاہ اور لاڑکانہ میں مختلف مقامات پر دکانوں اور اسٹالوں پرکریکر بموں سے حملے کئے گئے، حیدرآباد میں یکے بعد دیگرے 3 دستی بم پھینکے گئے، شرپسندوں نےحیدر چوک پر جوتوں کی دکان پر کریکر پھینکا جس سےدکان کے شیشے ٹوٹ گئےجس کے بعدملزموں نےسڑک کےدوسری طرف قومی پرچم کی فروخت کے لیے لگائےگئے اسٹال پر فائرنگ کر دی، گولیاں لگنےسےاسٹال مالک کےوالداور 2 سیلزمین زخمی ہو گئے جنہیں سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک سیلزمین شعیب غوری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اسی طرح لطیف آباد نمبر سات میں کار سے کریکر بم پھینکا گیا لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سول اسپتال کے مین گیٹ کے باہرقومی پرچم فروخت کرنےکےاسٹال پربھی موٹر سائیکل پر سوار 3 شرپسندوں نے پہلے کیمیکل پھینکا اور پھر کریکر پھینک کر فرار ہو گئے، جیل روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے کیمیکل پھینکا جس سےاسٹال پر آگ لگ گئی اور ہزاروں روپےمالیت کاسامان جل کرراکھ ہوگیا۔

کریکر دھماکوں کے بعد شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور حیدر چوک اور اطراف کے بازار بند کر دیئے گئے۔  دوسری طرف نوابشاہ کے موہنی بازار میں بھی شرپسندوں نےدکان پر کریکر بم پھینکاجس سے آگ لگ گئی بعدمیں پولیس نے دعویٰ کیا کہ ایک ملزم کو موٹر سائیکل سمیت گرفتار کرلیاگیا ہے جب کہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔ جامشورو میں بھی سینڈوز روڈ پر کچرے کے ڈھیر میں کریکر دھماکہ ہواجس کے بعد پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے دستی بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات کا نوٹس لے لیا اور آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی جب کہ دھماکوں کے بعد سندھ بھر میں رینجرز اور پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔